امام تقی بن علی رضا

 

آں غریق بحر وصال، شاید تجلیات ذوالجلال، ولی مادرزاد، حضرت امام  ابو جعفر محمدﷺ بن علی رضا رضی اللہ  تعالیٰ عنہ ائمہ اہل بیت کے نانویں امام ہیں۔ آپ کا اسم گرامی محمدﷺ ہے۔ آپ کی  کنیت اور نام امام محمد باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے موافق ہے۔ اس وجہ سے آپ کو ابو جعفر ثانی کہتے ہیں۔ آپ کے  القاب تقی اور قانع ہیں۔ آپ کی والدہ کا اسم گرامی ریحان یاسکینہ یا خیزران تھا۔ آپ کی ولادت بروز جمعہ ۱۵یا۱۷؍ماہ رمضان (بروایت مراۃ الاسرار۹ اور شواہد نبوت کی روایت کے مطابق ۱۱؍رجب ۱۹۷ھ کو  مدینہ میں واقع ہوئی۔ آپ کی عمر اپنے والد ماجد کےوصال  کے وقت سات سال اور چند ماہ تھی۔ چنانچہ سات سال کی عمر میں آپ مسند خلافت پر بیٹھے۔ السعید من سعد فی بطن امہٖ۔ (سعید جو اپنی ماں کےپیت میں سعید ہوتا ہے) آپ کے کمالات و کرامات جد تحریر سے باہر ہیں۔ شواہد النبوت میں لکھا ہے کہ امام تقی صغیر سنی میں علم وادب اور فضل میں اس قدر ترقی کر چکے تھے کہ اُس زمانے میں کسی کو ایسے ظاہری وباطنی کمالات حاصل نہ تھے۔ یہی وجہ  ہےکہ لیفہ مامون بن ہارون الرشید آپ  پر فریفتہ تھا۔ اور اپنی لڑکی ام فضل کا عقد نکاح امام صاحب کے ساتھ کر کے آپ کے ہمراہ مدینہ  منورہ بھیج دیا تھا۔ اور ہر سال ایک ہزار دینار اُن کے پاس بھیجا کرتا تھا۔ ایک دفوہ آپ مدینہ جارہے  تھے۔ جب کوفہ پہنچے شام کے وقت مسجد میں قیام فرمایا۔ مسجد کے صحن میں ایک درخت تھا جو ابھی بارور نہیں ہوا تھا۔ آپ نے پانی کا کوزہ منگواکر درخت کے نچے وضو کیا اور شام کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی۔ اس کے بعد آپ اس درخت کے نیچے جا بیٹھے۔ آپ کے بیٹھتے ہی درخت بارور ہوگیا اور لوگوں نے تازہ اور میٹھی مویز (کشمش) تبرک کے طور پر حاصل کیا اور کھایا۔

شواہد   نبوت میں لکھا ہے کہ اصحاب سلف میں سے ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں عراق میں تھا اور سنا کہ ملک شام میں کسی نے پیغمبری  کا دعویٰ کیا ہے۔ اور اس وجہ سے اُسکے پاؤں میں جو لان لگا کر فلاں جگہ قید  کر رکھا ہے۔ میں نے وہاں پہنچ کر دربانوں کو کچھ دیا اور اس کے  پاس گیا۔ میں نے دیکھا کہ اس کی عقل و فہم بحال ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے۔ اس نے کہا  میں ملک شام میں اُس مسجد کے اندر عبادت کر رہا تھا ، جہاں لوگوں  کےکہنے کے مطابق حضرت امام حسین کا سر مبارک لٹکادیا گیا تھا۔ ایک رات میں قبلہ رو ہوکر عبادت میں مشغول تھا کہ اچانک میرے سامنے ایک شخص ظاہر ہوا اور کہنے لگا کہ اٹھو۔ میں اٹھ کر اس کے ساتھ ہولیا۔ تھوڑی دور  گئے تھے کہ میں اپنے آپ کو مسجد کوفہ میں پایا۔ انہوں نے فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ کونسی  جگہ ہے۔ میں نے کہا ہاں یہ مسجد کوفہ ہے۔ اس کے بعد وہ نماز میں کھڑے ہوگئے اور م یں بھی نماز پڑھنے لگا۔ نماز سے فارغہوکر جب وہ باہر آئے تو میں بھی اُن کے ساتھ آیا۔ تھوڑی دیر چلنے کے بعد ہم نے اپنے آپ کو مسجد نبویﷺ(مدینہ) میں پایا۔ ہمنے روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  پر سلام عرض کر کے نماز پڑھی۔ اس کے بعد وہ باہر تشریف لے گئے اور میں بھی اُن کے ساتھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ہم  مکہ م عظمہ پہنچ گئے۔ ہم نے طواف کے بعد ہم باہر آئے اور  وہ مجھ سے غائب ہوگئے۔ اور میں نے اپنے آپ کو شام میں اپنی پہلی جگہ پر پایا جہاں عبادت میں مشغول تھا۔ اس سے مجھے بہت حیرت ہوئی۔ مجھے کچھ معلوم نہ تھا کہ وہ بزرگ کون تھے۔ چنانچہ دوسرے سال اُسی وقت  وہی بزرگ ظاہر ہوئے اور مجھے ساتھ لے کر ان تمام مقامات پر گئے جہاں گزشتہ سال گئے تھے اور وہی کچھ کیا کہ اس وقت کیا تھا۔ جب مفارقت کا وقت آیا تو میں نے ان کو قسم دے کر کہا کہ آپ کون ہیں۔ انہں نے فرمایا کہ میں محمدﷺ بن علی بن موسیٰ بن جعفر ہوں ۔د وسرے دن جو لوگ مجھ سے عناد رکھتے تھے میں نے یہ قسہ اُن سے بیان کیا۔ رفتہ رفتہ یہ بات  ولایت شام کے حکمران تک پہنچ گئی۔ اور انہوں نے مجھ پر یہ الزام لگادیا کہ تم  نبوت کا دعویٰ کرتے ہو چنانچہ وہ مجھے قید کر کے یہاں لائے ہیں  میں نے حاکم شام کے پاس ایک رقعہ لکھ کر سارا حال بیان کیا۔ اس نے رقہ کی پشت پر یہ لکھ کر واپس کردیا  کہ جس شخص نے تم کو ایک ہی رات میں شام  سے کوفہ کوفہ سے مدینہ، مدینہ سے مکہ اور مکہ  سے واپس شام پہنچادیا اس سے کہو کہ  ہماری قید سے تجھے رہا کرائے۔ یہ بات مجھ پر  بہت گراں گزاری اور میں  بےحد مغموم ہوا۔ وہ بزرگ کہتے ہیں کہ جب میں دوسرے دن اس قیدی کو دیکھنے گیا تو  وہاں سب سپاہی اور پہرہ دار پریشان تھے۔ جب میں نے وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ وہ قیدی جس نے نبوت کا وعدہ کیا تھا رات غائب ہوگیا ہے۔ معلوم نہیں اُسے زمین نے اپنے پیٹ میں لے لیا ہے یا پرندے آسمان پر اڑا کر لے گئے ہیں۔

اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب خلیف ہمامون فوت ہواتو  امام موصوف نے فرمایا کہ میری وفات مامون کی وفات کے تین ماہ بعد ہوگی۔ چنانچہ یہی ہوا کہ مامون کی وفات کے تین ماہ بعد امام صاحب کا بھی وصال ہوگیا۔ اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے ایک دوست کے ساتھ فر کا ارادہ کیا۔ جب امام صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ آج مت جاؤ۔ کل چلے جانا۔ لیکن میرے دوست سے صبر نہ ہوسکا وہ سفر پر روانہ ہوگیا ۔ غرضیکہ  کہ آپ کے کرامات اس قدر ہیں کہ اس مختصر س کتاب میں نہیں آسکتے۔

وصال

‘‘مراۃ الاسرار’’ میں لکھا ہے کہ آپ کا بروز شنبہ ۶؍ماہ ذی الحج ۲۲۰ھ خلیفہ معتصم کے عہد حکومت میں وصال ہوا۔ آپ کی عمر پچیس سال اور مدت  امامت سترہ سالتھ ی۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ خلیفہ معتصم نے آپ کو زہر دے کر شہید کیا۔ آپ کا مزار مبارک بغداد میں اپنے جد امجد حضرت امام موسیٰ کاظم کے مزار کے پاس ہے۔ امام محمد تقی کے تین بیٹے اور ایک بیٹھی تھیں۔ لیکن حبیب السیر کی روایت کے مطابق آپ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں رحمۃ اللہ علیہ

اللّٰھمّ صلّ علیٰ محمد والہٖ واصحابہٖ اجمعین۔

ازرہگذرِ خاکِ سرکوئے شمابود

 

ہر نافہ کہ دردستِ نسیم سحر افتاد

(اقتباس الانوار)

مزید

تجویزوآراء