حضرت سید الانبیاء رحمۃ اللعالمین سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

حضرت سید الانبیاء رحمۃ للعالمین سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حضور امام الاولیاء،سرور انبیاء، باعثِ ایجاد عالم، فخر موجودات، محبوب رب العالمین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، منبع فیض انبیاء ومرسلین، معدن علوم اولین و آخرین، واسطہ ہر فضل و کمال، مظہر ہر حسن و جمال اور خلیفہ مطلق و نائب کل حضرت باری تعالیٰ جل جلالہ کے ہیں۔

اوّل تخلیق:

اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپﷺ کے نور کو پیدا کیا۔ پھر اسی نور کو واسطہ خلقِ عالم ٹھہرایا۔ عالم ارواح ہی میں اس نور کو خلعتِ نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اسی عالم میں دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی روحوں سے عہد لیا گیا کہ اگر وہ حضور اقدس ﷺ کے زمانہ کو پائیں تو ان پر ضرور ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔ جیسا کہ وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِینَ الآیہ میں مذکورہے۔ اسی واسطے تمام انبیائے کرام علیہم السلام اپنی اپنی امتوں کو حضور ﷺ کی آمد کی بشارت دیتے رہے ہیں۔

نورِ مصطفیٰ ﷺ کی منتقلی:

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو اپنے حبیب پاک ﷺکا نور ان کی پشت مبارک میں بطور ودیعت رکھا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے وہ نور حضرت حواء کے رحم پاک میں منتقل ہوا۔ پھر حضرت حواء سے حضرت شیث علیہ السلام کی پشت میں منتقل ہوا۔ اس طرح یہ نور انور پاک پشتوں سے پاک رحموں کی طرف منتقل ہوتا ہوا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد حضرت عبداللہرضی اللہ عنہ کی پشت مبارک میں منتقل ہوا۔ اور حضرت عبداللہ سے حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک میں منتقل ہوا۔

برکاتِ نورِ مصطفیٰ ﷺ:

اسی نور کی برکت سے حضرت آدم علیہ السلام مسجودِ ملائکہ بنے۔ ۔ اور اسی نور کے وسیلہ سے ان کی توبہ قبول ہوئی۔ اسی نور کی برکت سے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی غرق ہونے سے بچی۔ اسی نور کی برکت سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آتشِ نمرود گلزار ہوگئی۔ اسی نور کی برکت سے حضرت ایوب علیہ السلام کی مصیبت دور ہوگئی۔ اور اسی نور کی برکت سے حضرات انبیائے سابقین علیہم السلام پر اللہ تعالیٰ کی عنایات بغایت ہوئیں۔ حضورﷺ اپنی والدہ ماجدہ کے بطن مبارک میں ہی تھے کہ آپ کے والد حضرت عبداللہ نے انتقال فرمایا۔

ولادتِ مصطفیٰ ﷺ:

حضور اقدس ﷺ کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے ۔ مگر قول مشہور یہی ہے کہ واقعہ ’’اصحابِ فیل‘‘ سے بچپن روزبعد ۱۲ ربیع الاول بمطابق ۲۰ اپریل؁ ۵۷۱ء ولادت باسعادت کی تاریخ ہے۔ اہل مکہ کا بھی اسی پر عمل ہے کہ وہ لوگ بارہویں ربیع الاول ہی کو کاشانۂ نبوت کی زیارت کے لیے جاتے ہیں، اور وہاں میلاد شریف کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔(مدارج النبوۃ،جلد ۲، ۱۴)

تاریخ عالم میں یہ وہ نرالا اور عظمت والا دن ہے کہ اسی روز عالم ہستی کے ایجاد کا باعث ، گردش لیل ونہار کا مطلوب، خلق آدم کا رمز ، کشتی نوح کی حفاظت کا راز، بانیِ کعبہ کی دعا ، ابن مریم کی بشارت کا ظہور ہوا۔ کائنات کے وجود کے الجھے ہوئے گیسوؤں کو سنوارنے والا ، تمام جہان کے بگڑے نظاموں کو سدھارنے والا یعنی ؎

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا مرادیں غریبوں کی برلانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

فقیروں کا ماوٰی، ضعیفو ں کا ملجا

یتیموں کا والی، غلاموں کا مولیٰ

سندالاصفیا ء ، اشرف الانبیاء ، احمد مجتبیٰ، حضرت محمد مصطفے ٰ ﷺ وجود کائنات میں رونق افروز ہوئے تو پاکیزہ بدن ،ناف بریدہ، ختنہ کئے ہوئے ،خوشبو میں بسے ہوئے، بحالت سجدہ ، مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین میں اپنے والد ماجد کے مکان کے اندر پیدا ہوئے ، باپ کہاں تھے جو بلائے جاتے اور اپنے نو نہال کو دیکھ کر نہال ہوتے ، وہ تو پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ دادا بلائے گئے جو اس وقت طواف کعبہ میں مشغول تھے۔ یہ خوشخبری سن کر دادا ’’حضرت عبدالمطلب‘‘ خوش خوش حرم کعبہ سے اپنے گھر آئے اور والہانہ جوشِ محبت میں اپنے پوتے کو کلیجے سے لگایا ۔پھر کعبہ میں لے جا کر خیرو برکت کی دعا مانگی اور ’’محمد(ﷺ)‘‘ نام رکھا۔ آپ کے چچا ابو لہب کے پاس لونڈی ’’ثویبہ‘‘ خوشی میں دوڑتی ہوئی گئی۔ اور ’’ابو لہب‘‘کو بھتیجا پیدا ہونے کی خوشخبری دی تو اس نے اس خوشی میں شہادت کی انگلی کا اشارہ سے ثویبہ کو آزاد کر دیا۔ جس کا ثمرہ ابو لہب کو یہ ملا کہ اس کی موت کے بعد اس کے گھر والوں نے اس کو خواب میں دیکھا اور حال پوچھا تو اس نے اپنی انگلی اٹھا کر یہ کہا کہ :

’’تم لوگوں سے جدا ہونے کے بعد مجھے کچھ کھانے پینے کو نہیں ملا بجز اس کے کہ ثویبہ کو آزاد کرنے کے سبب سے اس انگلی کے ذریعہ کچھ پانی پلا دیا جاتا ہوں‘‘(بخاری جلد ۲، باب و امہاتکم التی ارضعنکم)

اس موقع پر حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے ایک بہت ہی فکر انگیز اور بصیرت افروز بات تحریر فرمائی ہے جو اہل محبت کے لیے نہایت ہی لذت بخش ہے آپ لکھتے ہیں:

اس جگہ میلاد کرنے والوں کے لیے ایک سند ہے کہ یہ آنحضرت ﷺ کی شب ولادت میں خوشی مناتے ہیں اور اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب ابو لہب کو جو کافر تھا اور اس کی مذمت میں قرآن نازل ہوا ۔ آنحضرت ﷺ کی ولادت پر خوشی منانے اور باندی کا دودھ خرچ کرنے پر جزا دی گئی تو اس مسلمان کا کیا حال ہوگا انحضرت ﷺ محبت میں سرشار ہوکر خوشی مناتا ہے اور اپنامال خرچ کرتا ہے۔ (مدارج النبوۃ جلد۲، ص ۱۹)

حلیہ ٔ مصطفیٰ ﷺ:

عاشقِ صادق حضرت شاہ ابو المعالی قادری کرمانی اہوری رحمۃ اللہ علیہ ﷫ حضور اکرمﷺ کے حلیہ مبارک کی تعریف میں یوں فرماتے ہیں:

ھو اسمر بیاض اللون و واسع الجبھۃ وازج الحاحبین واقلج الاسنان واسود العینین وملیح واقنا انف وازج الحواجب وطویل الیدین وثمام القد ومجتمع اللحیۃ ورفیق الانامل وضیق الغماد ولیس فی بدنہ شعر الا لخط الصدر الی الثرۃ وصورتہ احسن الصور وحسنہ حسن القمر ونورہ نور الشمس وکلامہ کلام روح القدس وقالہ قال الشریعۃ وحالہٗ حال الحقیقۃ وعلمہٗ علم الیقین ولسانہٗ لسان الذاکر وقلبہٗ عین المعرفۃ وذاتہٗ ذات انوار الحق ودینہ اکرام الادیان ملتہ اشرف الملل وخلقہ احسن الاخلاق وعملہٗ امر اللہ ونعلہ عبادۃ اللہ وجسمہٗ خیر الاجسام واسمہٗ خیرالانام صلی اللہ علیہ واٰلہٖ واصحابہ اجمعین.

حضور اکرم ﷺکا رنگ گندمی سرخ یا سفید ملا ہوا تھا۔ فراخ پیشانی، باریک ابرو، کشادہ دندان، سیاہ چشم، حیا دار ملیح نظر والی بلند ناک، بھرے ہوئے لمبے بازو، سر و قد (یعنی سیدھا جیسے مناسب ہوتا ہے)اور گنجان ریش مبارک، باریک بال، تنگ دہان تھا۔ آپ کے بدن مبارک پر بال نہیں تھے مگر سینۂ اقدس کے خط سے ناف تک اور آپ کی نازنین صورت تمام صورتوں سے احسن ہے، آپ کا حسن چاند کے حسن سے بڑھکر اور آپ کا نور، نورِ خورشید سے افضل۔ آپ کا کلام روح القدس کا کلام اور آپ کی گفتگو رازِ شریعت اور آپ کا حال حقیقت کی صورت ہے۔ آپ کا علم، علمِ یقین اور آپ کی زبان خدا کا ذکر کرنے والی زبان ہے۔ آپ کادل معرفت کا چشمہ، آپ کی ذات انوارِ حق کا کرشمہ، آپ کا دین تمام دنیا کے مذہبوں سے بلند اور آپ کی ملّت تمام ملّتوں سے برگزیدہ ہے۔ آپ کا خلقِ عظیم اخلاقِ حسنہ کا نچوڑ، آپ کا عمل خدا کا حکم، آپ کا کام اللہ کی عبادت، آپ کا جسم مخلوق میں خیر و سعادت اور آپ کا اسمِ گرامی ’’خیرالانام‘‘ ہے صلی اللہ علیہ وآلہٖ واصحابہٖ اجمعین۔

نسب پاک مصطفیٰﷺ:

حضور اقدس ﷺ کا نسب شریف والد ماجد کی طرف سے یہ ہے ۔حضرت محمد ﷺ ، بن عبداللہ ، بن عبدالمطلب، بن ہاشم، بن عبدمناف، بن قصی، بن کلاب ، بن کعب ، بن لوی، بن غالب، بن فہر، بن مالک، بن نضر، بن کنانہ، بن خزیمہ، بن مدرکہ ، بن الیاس، بن مضر،بن نزار، بن معد، بن عدنان۔ (بخاری جلد ۱،ص باب مبعث النبی ﷺ)

والدہ ماجدہ کی طرف سےحضرت محمد ﷺ بن آمنہ ، بنت وہب، بن عبدمناف، بن زہرہ، بن کلاب ، بن مرہ۔

حضور علیہ السلام کے والدین کا نسب نامہ’’کلاب بن مرہ‘‘ پر مل جاتا ہے اور آگے چل کر دونوں سلسلے ایک ہوجاتے ہیں’’ عدنان‘‘ تک آپ کا نسب نامہ صحیح سندوں کے ساتھ باتفاق مورخین ثابت ہے۔اس کے بعدناموں میں بہت کچھ اختلاف ہے اور حضورﷺ جب بھی اپنا نسب نامہ بیان فرماتے تھے تو ’’عدنان‘‘  تک ہی ذکر فرماتے تھے۔(کرمانی بحوالہ حاشیہ بخاری جلد۱ ص ۵۴۳)

مگر اس پر تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ ’’عدنان‘‘ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔ اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزندارجمند ہیں۔

خاندانی شرافت:

حضور اکرم ﷺ کا خاندان نسب ونجابت اور شرافت میں تمام دنیا کے خاندانوں سے اشرف و اعلیٰ ہے اور یہ وہ حقیقت ہے کہ آپ کے بدترین دشمن کفار مکہ بھی کبھی اس کا انکار نہ کرسکے چنانچہ حضرت ابو سفیان نے جب و ہ کفر کی حالت میں تھے ۔ بادشاہ ِروم ہر قل کے بھر ے دربار میں اس حقیقیت کا اقرار کیا کہ ’’ھو فینا ذونسب‘‘ یعنی نبی ﷺ ہم سب میں عالی خاندان والے ہیں۔(بخاری جلد ۱ ص ۴)

حالانکہ اس وقت وہ آپ (ﷺ) کے بدترین دشمن تھے اور چاہتے تھے کہ اگر ذرا بھی کوئی گنجائش ملے تو آپ کی ذات پاک پر کوئی عیب لگا کر بادشاہ روم کی نظروں میں وقار گرادیں۔ مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ‘‘کنانہ’’ کو برگزیدہ بنایا۔ اور ‘‘بنی ہاشم’’میں سے مجھ کو چن لیا۔(مشکوٰۃباب فضائل سیدالمرسلینﷺ)

بہر حال یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ؎

لہ النسب العالی فلیس کمثلہ

حسیب نسیب منعم متکرم

یعنی حضور انور ﷺ کا خاندان اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ کوئی بھی جسب و نسب والا، اور نعمت و بزرگی والا آپ کے مثل نہیں ہے۔

بچپن کے واقعات:

سب سے پہلے آپ ﷺکو آپ کی والدہ ماجدہ نے کچھ دن دودھ پلایا۔ پھر آپ نے چند روز ابولہب کی آزاد کی ہوئی لونڈی ثویبہ کا دودھ پیا۔ بعد ازاں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ کو اپنے قبیلے بنی سعد میں لے گئیں۔ وہیں پہلی بار حضور کا شق صدر ہوا۔ دوسرا شق صدر دس برس کی عمر شریف میں اور تیسرا غارِ حراء میں بعثت کے وقت اور چوتھا شبِ معراج میں ہوا۔ جب آپ ﷺکی عمر شریف چھ سال کی ہوئی تو آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ انتقال فرماگئیں۔ اور آپ کے دادا جناب عبدالمطلب آپ کی پرورش کے کفیل ہوئے۔ جب آٹھ سال کے ہوئے تو جناب عبدالمطلب نے بھی وفات پائی۔ پھر حضور اپنے چچا جناب ابوطالب کے ہاں پرورش پاتے رہے۔ بارہ سال کی عمر شریف میں آپ جناب ابوطالب کے ساتھ ملک شام کو تشریف لے گئے۔ اس سفر میں بحیرہ راہب نے آپ کو دیکھ کر کہا کہ یہ رسول رب العالمین ہیں۔ چودہ سال کی عمر میں آپ ﷺنے اپنے چچاؤں کے ساتھ حربِِ فجّار میں شرکت فرمائی۔ پچیس سال کی عمر شریف میں آپﷺ حضرت خدیجہ کی طرف سے بغرض تجارت شام کو تشریف لے گئے۔ اس سفر میں نسطور راہب نے آپ کی نسبت کہا کہ یہ آخر الانبیاء ہیں۔ اس سفر سے واپسی کے قریباً تین ماہ بعد حضورﷺ کا نکاح حضرت خدیجہ سے ہوگیا۔ جب آپ کی عمر مبارک ۳۵ سال کی ہوئی تو قریش نے عمارتِ کعبہ کو ازسرِ نو بنایا۔ اس تعمیر میں حضور ﷺبھی شریک تھے۔ اور اپنے چچا حضرت عباس کے ساتھ کندھے پر پتھر اٹھاکر لا رہے تھے۔

خفیہ دعوتِ اسلام:

جب عمر مبارک چالیس سال کی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺکو(اظہارِ)اعلانِ نبوت کا حکم دیا۔ چنانچہ آپ ﷺخفیہ طور پر چند لوگوں کو دعوت اسلام دینے لگے۔ اس دعوت پر کئی مرد و زن آپ پر ایمان لائے۔ چنانچہ مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے حضرت ابوبکر صدیقرضی اللہ عنہ۔ لڑکوں میں حضرت علیرضی اللہ عنہ، عورتوں میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا۔ آزاد کیے ہوئے غلاموں میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور غلاموں میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔

اعلانِیہ دعوت اسلام:

خفیہ دعوت کے تین سال بعد اعلانیہ دعوتِ اسلام  کا حکم آیا۔ تبلیغ علی الاعلان پر قریش برا فروختہ ہوگئے اور آپﷺ کو اور آپ کے اصحاب کو اذیت دیتے رہے۔ نبوت کے پانچویں سال حضور ﷺنے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم میں سے جو چاہیں ہجرت کرکے حبشہ چلے جائیں۔ چنانچہ پہلے پہل گیارہ مردوں اور چار عورتوں نے ہجرت کی ۔ نبوت کے چھٹے سال حضرت حمزہرضی اللہ عنہ ایمان لائے اور ان کےتین دن بعد حضرت عمر فاروقرضی اللہ عنہ بھی مشرف باسلام ہوئے۔ اسلام کی ترقی پر قریش مسلمانوں کو اور ایذا ئیں دینے لگے۔ اس لیے ۸۳ مرد اور ۱۸ عورتوں نے دوسری بار حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ قریش نے نجاشی کے پاس اپنے بھیجے کہ مہاجرین کو واپس کردو۔ مگر وہ سفیر بے نیل و مرام واپس آئے۔ اس لیے قریش نے اب بالاتفاق یہ قرار دیا کہ (حضرت) محمد ﷺکو اعلانیہ قتل کردیا جائے۔ بنو ہاشم و بنو مطلب حضور ﷺ کو بغرضِ حفاظت شعبِ ابی طالب میں لے گئے۔ اس پر قریش نے بنو ہاشم و بنو مطلب سے مقاطعہ کردیا تاکہ تنگ آکر حضورﷺ کو ان کے حوالہ کردیں۔ اور اس بارے میں ایک تحریری معاہدہ لکھ کر خانہ کعبہ کی چھت میں لٹکادیا۔ قریش نے نہایت سختی سےا س معاہدہ کی پابندی کی۔ تین سال کے بعد حضور ﷺنے خبر دی کہ اس معاہدہ کو دیمک چاٹ گئی ہے اور سوائے اللہ کے نام کے کچھ نہیں چھوڑا۔ جب معاہدہ کو دیکھا گیا تو حضورﷺ کا ارشاد صحیح نکلا۔ مگر مخالفین بجائے روبراہ ہونے کے اور درپے ایذا ہوگئے۔ ماہ رمضان ۱۰ نبوی میں جناب ابو طالب کا انتقال ہوگیا اور اس کے تین دن بعد سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے بھی انتقال فرمایا۔ حضور ﷺ نے پریشانی کی حالت میں طائف کا سفر کیا۔ مگر اشرافِ ثقیف نے آپ کی دعوت کا بری طرح سے جواب دیا۔ اور واپسی پر اس قدر پتھر برسائے کہ نعلین شریفین خون سے آلودہ ہوگئیں۔

واقعہ معراج:

آپ ﷺکی عادت شریفہ تھی کہ ہر سال موسم حج میں تمام قبائل عرب کو جو مکہ اور نواح مکہ میں موجود ہوتےدعوت اسلام دیا کرتے تھے اور میلوں میں بھی اسی غرض سے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ نبوت کے گیارہویں سال آپ ﷺنے حسبِ عادت منیٰ میں عقبہ کے نزدیک جہاں اب مسجد عقبہ ہے۔ قبیلہ خزرج کے چھ آدمیوں کو دعوت اسلام دی۔ وہ مسلمان ہوگئے۔ انہوں نے مدینہ میں اپنے بھائیوں کو اسلام کی دعوت دی۔ اس لیے آئندہ سال بارہ مرد ایامِ حج میں مکہ آئے اور حضور ﷺکے دستِ مبارک پر بیعت کی۔ بقولِ مشہور اسی سال ماہ رجب کی ستائیسویں رات حضور ﷺ کو حالت ِبیداری میں جسد شریف کے ساتھ معراج عطا ہوا اور پانچ نمازیں فرض ہوئیں۔ نبوت کے تیرہویں سال انصار میں سے ۷۳ مرد اور عورتوں نے حضور ﷺکی بیعت کی۔

ہجرتِ مدینۃ المنورہ:

قریش کی ایذاء رسانی سے اب مسلمانوں کا قیام مکہ میں دشوار ہوگیا۔ اس لیے حضور ﷺکی اجازت سے صحابہ کرام متفرق طور پر رفتہ رفتہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ اور مکہ میں حضورﷺ کے علاوہ حضرات ابوبکر،علی رضی اللہ عنہما اور کچھ بیمار و غیرہ رہ گئے۔

قریش نے جب دیکھا کہ آنحضرت ﷺکے مددگار مکہ سے باہر مدینہ میں بھی ہوگئے ہیں۔ تو وہ ڈرے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ بھی وہاں چلے جائیں اور اپنے مددگاروں کو ساتھ لے کر مکہ پر حملہ آور ہوں۔ اس لیے انہوں نے دارالندوہ میں جمع ہوکر شیخ نجدی کے مشورہ سے یہ قرار دیا کہ رات کو حضور ﷺ کو قتل کردیا جائے۔ حضور کو بذریعہ وحی خبر ہوگئی۔ کفار نے حسب قرارداد رات ہوتے ہی حضورﷺ کے دولت خانہ کو گھیرلیا۔ آپ نے حضرت علیرضی اللہ عنہ کو ا پنے بستر پر چھوڑا اور ایک مشت خاک لے کر سورہ یٰسین شریف کی شروع کی آیات پڑھ کر کفار پر پھینک دی۔ کفار کو کچھ نظرنہ آیا اور آپ وہاں سے نکل کر حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ تین رات غار ثور میں رہے۔ قدید کے قریب سراقہ بن مالک آپ کے تعاقب میں آیا۔ آپ کی دعاء سے اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ اور وہ معافی مانگ کر واپس چلا آیا۔ قدید ہی میں حضور ﷺ کا گزر اُمِّ مَعبد کے خیمہ پر ہوا۔

مسجد قباء کی بنیاد:

رسول اللہ ﷺ قباء میں ۱۲ ربیع الاول دو شنبہ کے دن پہنچے۔ یہی اسلامی تاریخ کی ابتداء بنی ۔ آپ نے بستی قبا ءمیں مسجد ِقباء کی بنیاد رکھی۔ جس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ مدینہ میں آپﷺ کی تشریف آوری سے مسلمانوں کو جو خوشی ہوئی وہ بیان نہیں ہوسکتی۔ آپ ﷺ نے حضرت ابوایوب انصاریرضی اللہ عنہ  کے مکان پر قیام فرمایا۔ اسی سال مسجد نبوی۔ ازواج مطہرات کے لیے حجرے اور مہاجرین کے لیے مکانات بن کر تیار ہوگئے۔ اذان مشروع ہوگئی۔ حضور ﷺنے اپنے اصحاب کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔

غزوات کا آغاز:

ہجرت کے دوسرے سال قبلۂ نماز بجائے بیت المقدس کے کعبہ شریف ہوگیا۔ رمضان کے روزے فرض ہوگئے۔ اور غزوات و سرایا کا آغاز ہوا۔ غزوات تعداد میں ۲۷ ہیں اور سرایا ۴۷ ۔ بڑے بڑے غزوات جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے سات ہیں۔ بدر، احد، خندق، خیبر، فتح مکہ، حنین، تبوک۔ جن غزوات میں حضور اقدس ﷺ نے قتال فرمایا وہ یہ ہیں۔ بدر ، احد، خندق، مصطلق، خیبر، فتح مکہ، حنین، طائف۔ غزوات میں سب سے اخیر غزوہ تبوک ماہ رجب ۹ھ میں تھا۔

حکمرانوں کے نام خطوط:

ہجرت کے ساتویں سال کے شروع میں آنحضرت ﷺنے والیان ِملک (قیصر و کسریٰ و نجاشی وغیرہ) کے نام دعوت اسلام کے خطوط روانہ فرمائے۔ اور ۹ھ میں غزوہ تبوک سے واپسی پر مسجد ضرار جو منافقین نے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی غرض سے بنائی تھی آپ کے حکم سے جلادی گئی۔

سالِ وفود:

اسی سال وفود ِعرب ،دربارِرسالت ﷺمیں اس کثرت سے حاضر ہوئے کہ اسے سالِ وفود کہا جاتا ہے۔یہ وفود بالعموم نعمتِ ایمان سےمالا مال ہوکر واپس گئے۔ ۱۰ھ میں بھی وفود عرب خدمت اقدس میں حاضر ہوتے رہے۔ اہل یمن و ملوک حمیرا ایمان لائے۔ اور رسول اللہ ﷺنے آخری حج کیا جسے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔

وصالِ مبارک:

آنحضرت ﷺکی بعثت کے وقت تمام دنیا بالخصوص عرب پر حد سے زیادہ جہالت و گمراہی چھائی ہوئی تھی۔ ان کی اخلاقی و مذہبی پستی حد غایت کو پہنچی ہوئی تھی۔ موافق و مخالف سب کو معلوم ہے کہ حضور ﷺامی تھے۔ امیوں میں آپ ﷺنے پرورش پائی۔ کسی سے تعلّم و تلمّذ نہ کیا اور نہ لکھنا پڑھنا سیکھا۔ مگر آپ ﷺنے بتعلیم الٰہی اپنے اصحاب کرام کو وہ تعلیم روحانی دی کہ وہ معارف ربانی کے عارف اور اسرار فرقانی کے ماہر بن گئے۔ جس کسی نے دولت ایمان سے سرفراز ہوکر کچھ وقت بھی شرف ملازمت حاصل کرلیا۔ وہی عالم ربانی، اور عارف ِیزدانی بن گیا۔ آپ کی صحبت میں صحابہ کرام میں سے ہر ایک کو نسبت خاصہ اور قوت قدسیہ مبدأ فیاض سے عطا ہوگئی۔ قصہ کوتاہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تمام کو اسلام و ایمان اور احسان سے مالا مال کرکے اور سچے دین کے ظاہری و باطنی علوم سکھاکر ماہ ربیع الاول ۱۱ھ میں دو شنبہ کے دن الرفیق الاعلیٰ پکارتے ہوئے اعلیٰ علیین قرب العالمین میں تشریف لے گئے۔ علیہ وعلیٰ الہ واصحابہ افضل الصلوات واکمل التحیات۔ مگر حضور سراپا نور رحمۃ للعالمین ﷺحیات ہیں۔ قیامت تک حضورﷺ کی امت مرحومہ کو حضور سے وہی فیضان بواسطہ خواص امت علمائے کرام و صوفیہ عظام پہنچتا رہے گا جو حضورﷺ کی ظاہری زندگی میں پہنچتا تھا۔ حضور ﷺکی امت میں وقتاً فوقتاً اولیاء، و صلحاء پیدا ہوتے رہیں گے۔ اور ان اولیائے کرام کے ذریعے حضور ختم المرسلین رحمۃ اللعالمین ﷺ کی نبوت کی تصدیق ہوتی رہے گی۔

چنانچہ حضرت امام وقت سیدنا مخدوم علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کشف المحجوب میں یوں فرماتےہیں:

‘‘خداوند تعالیٰ برہان نبوی را تا امروز باقی گردانیدہ است و اولیاء را سبب اظہار آں کردہ۔ تاپیوستہ آیاتِ حق و حجت صدق سیدنا محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر مے باشند۔ ومرایشاں راوالیان عالم گردانیدہ تا محرم وے گشتہ اندو راہ متابعت نفس رادر نوشتہ از آسمان باراں برکت اقدام ایساں آید۔ واز زمین نباتات ببر کات صفائی احوال ایشاں روید’’۔

حضرت خواجہ انبالوی روحی و قلبی فداہ فرماتے ہیں:

حقیقتِ محمدیہ کا تعلق جس طرح ذات رسول اللہﷺ کے ساتھ حیات میں تھا بعینہ وہی تعلق اب بعد وصال بھی بدن مبارک کے ساتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے دین کو کوئی نہیں بدل سکتا۔ اور جس طرح حضور پر نور ﷺکی حیات میں آپ کے تصرفات جاری تھے ویسے ہی اب بھی جاری ہیں۔ یہی معنٰی ہیں حیات النبی ﷺہونے کے اور اسی وجہ سے قطب ، غوث ،ابدال ،اوتاد وغیرہ رسول اللہ ﷺکی امت میں ہوتے رہیں گے۔‘‘ (ذکر خیر)۔

ارشاداتِ عالیہ:

حضور اقدس ﷺکے ارشادات قدسیہ کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے متعلق آپ ﷺکے ارشادات قدسیہ نہ پائے جاتے ہوں۔ ۔ اللھم صل علی سیدنا ومولانا محمد وعلی اٰل سیدنا ومولانا محمد واصحاب سیدنا ومولانا محمد اھل بیت سیدنا ومولانا محمدوازواج سیدنا ومولانا محمد وذریۃ سیدنا ومولانا محمد واتباع سیدنا ومولانا محمد وبارک وسلم

آپ پر تحقیق  

تجویزوآراء