سیدنا لوط علیہ السلام

حضرت لوط علیہ السلام

نام ونسب: حضرت لوط علیہ السلام بن ہاران بن تارخ،آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے ہیں۔آپکا ذکر قرآن ِ مجید اور سابقہ کتب میں موجو دہے۔

وطن:حضرت لوط علیہ السلام  حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ بابل (عراق)سے فلسطین میں آگئے۔ پھر لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے شہر سے تقریباً اٹھارہ میل دور  ایک شہر میں تبلیغ دین کے لیے آگئے اس شہر کا نام "سدوم" (بحرِ مردار کے نزدیک موجودہ اردن  کے شہروں میں سے ایک شہر)تھا۔ قرآن پاک میں اسی کو "الموتفکہ" سے تعبیر کیا گیا۔

قومِ  سدوم پر اللہ کی نعمتیں اور انکی سرکشی:یہ قوم نہایت مغرور,بےحس اور نافرمان تهى.اور ان كا سب سے بڑا گناہ یہ تها كہ ان ميں مرد عورتوں كى بجائےمرد سے ہى اپنى جسمانى حاجت پورى كرتے شہر سندوم کی بستیاں بہت آباد اور نہایت سرسبز و شاداب تھیں اور وہاں طرح طرح کے اناج اور قسم قسم کے پھل اور میوے بکثرت پیدا ہوتے تھے۔ اس برے(لواطت) کام کے یہ لوگ اس قدر عادی بن گئے کہ اس فعلِ بد سے منع کرتے ہوئے بہت وعظ فرمایا لیکن قوم باز نہ آئی آخر کار ان پر عذاب مسلط کردیا گیا۔

لوط علیہ السلام کی قوم کی خرابیاں: سب سے بڑی برائی ان میں ’’لواطت‘‘ تھی۔ (مردوں سے برائی کرنے کی عادت ان میں کثرت سے پائی جاتی تھی) اور مسافروں اور گذرنے والوں کے راستہ میں بیٹھ جانا ان کا راستہ روکنا اور زبردستی ان سے برائی کا مرتکب ہونا، راستہ میں بیٹھ کر ڈاکہ زنی، لوگوں کو قتل کرنا اور ان کا مال لوٹنا، ان کی بری عادات میں شامل تھا۔ قوم لوط کی یہ برائیاں ابھی تک لوگوں میں موجود ہیں، جو شریعت مطہرہ سے بغاوت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

  1. مردوں کی محفلوں میں صرف اسی لیے آنا کہ ان کو تاڑنا یعنی بعض کا بعض کو دیکھنا اور برائی کے لیے انتخاب کرنا۔ کبوتر بازی یعنی پورا پورا دن ان کو اڑانے اور شرط پر بازی لگانے میں گذر دینا، آج بھی لوگ اس برائی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
  2. عورتوں کی طرف انگلیوں کے پورے مہندی سے رنگنا۔ خیال رہے مرد کو بطور دوا مہندی لگانا جائز ہے لیکن زیب و زینت کے لیے منع ہے، لیکن آج کے دور میں لڑکوں کو لڑکیوں کا لباس اور چال ڈھب پسند ہے جو حرام ہے۔
  3. ہاتھوں سے کنکریاں ادھر ادھر پھینکا، گذرنے والوں کو تنگ کرنا۔ اسی طرح بندوقوں سے کنکریاں پھینک کر لوگوں کوستانا، یہ فعل آج کے دور میں اوباش لوگوں میں قوم لوط سے زیادہ پایا جاتا ہے۔
  4. ایک دوسرے کوتھپڑ مارنا ادھر سے ایک آیا اس نے دوسرے کو تھپڑ مار دیا اور ادھر سے دوسرا آیا اس نے تھپڑ ماردیا، یہ بیہودہ فعل ان کا مزاح ہوا کرتا جو درحقیقت ان کے اوباش ہونے کی علامت تھی۔
  5. محفل میں لوگوں کے سامنے بلند آواز سے ہوا خارج کرنا وہ اپنی شان سمجھتے تھے حالانکہ شرفا کے لیے یہ فعل باعث شرم ہوتا ہے۔
  6. انگلیوں کے پٹاخے نکالنا بلا وجہ اور بغیر عذر کے انگلیاں کے پٹاخے نکالنا مکروہ ہے اسی وجہ سے کہ یہ لوط علیہ السلام کی قوم کا فعل تھا اور اس وقت بھی اس فعل کو بیہودہ سمجھا جاتا تھا۔
  7. مزاح کرتے ہوئے لوگوں کے سامنے ننگا ہونا یعنی چادر شلوار وغیرہ اتار دینا۔ ننگا ہونا بے حیا بننا بھی قوم لوط کا فعل ہے جس کو آج نام نہاد مسلمانوں نے ’’ثقافت‘‘ کا نام دیا ہوا ہے۔

 مزاح مزاح میں فحش کلامی اور ایک دوسرے کو گالی دینا، یہ برائی بھی آج کے اوباش لڑکوں میں عام طور پر پائی جاتی ہے، وہ اپنے خیال میں اپنے آپ کو ماڈرن اور ترقی یافتہ سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی شریف آدمی انہیں روکے تو اسے ملائیت، فسطائیت، قدامت پسندی کے القاب دیتے ہیں اور کہتے ہیں دنیا تو (بے حیائی) بہت آگے جاچکی ہے لیکن یہ ابھی چودہ سو سال پیچھے ہیں۔ سائنسی علوم پڑھ کر ترقی تو ضرور کریں ملک و ملت کو عروج بخشیں لیکن بے حیا بن کر اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت نہ دیں۔ الغرض ہر قسم کی بے حیائی اس قوم میں موجود تھی حیا کے خلاف ہر فعل ان کے نزدیک پسندیدہ سمجھا جاتا۔ عام لوگوں کے سامنے عام محافل میں مصطگی کا چبانا اور مسواک کا چبانا بھی قوم لوط کا برا فعل تھا، یہ ایسا فعل ہے جس سے دوسرے دیکھنے والے کا دل خراب ہوتا ہے، دلمیں متلاپن پیدا ہوتا ہے جو بعض اوقات زیادہ حساس طبیعت کے شخص کے قے آنے کا سبب بن جاتا ہے۔ آج کے دور میں چوئنگم (ببل گم) چبانا، منہ سے بار بار نکالنا پھر منہ کے اندر لے جانا اور کبھی غبارہ بنانا، قوم لوط کے فعل کا ہی عکس ہے اور درحقیقت یہ بے وقوفی کی علامت ہے۔

قومِ لوط پر عذاب:

آپ نے قوم کو کہا: وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٓ اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَکُمْ بِھَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ اَئِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ وَتَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللہ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (پ۲۰ سورۃ عنکبوت۲۹) اور لوط کو نجات دی جب اس نے اپنی قوم کو کہا تم بے شک بے حیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہ کیا، کیا تم مردوں سے بد فعلی کرتے ہو؟ اور راہ مارتے ہو اور اپنی مجلس میں بری بات کرتے ہو؟ اس کی قوم کا کچھ جواب نہ ہوا مگر یہ کہ بولے ہم پر اللہ کا عذاب لاؤ اگر تم سچے ہو۔ آپ علیہ السلام قوم کو عذاب سے بچانے کی فکر میں ہیں لیکن قوم کبھی کہتی ہے تم عذاب لے آؤ اور کبھی کہتی: قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَہِ یٰلُوْطُ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ (پ۱۹ سورۃ شعراء ۱۲۷) بولے اے لوط اگر تم باز نہ آئے تو ضرور نکال دیے جاؤ گے یعنی ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے اور ہم تمہیں یہاں رہنے نہیں دیں گے۔

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَّصِلُوْٓا اِلَیْکَ فَاَسْرِبِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَکَ اِنَّہٗ مُصِیْبُھَا مَآ اَصَابَھُمْ اِنَّ مَوْعِدَھُمُ الصُّبْحُ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ، فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا وَاَمْطَرْنَا عَلَیْھَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّکَ وَمَا ھِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ (پ۱۲ سورۃ ھود ۸۱، ۸۳) فرشتے بولے: اے لوط! ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، وہ تم تک نہیں پہنچ سکتے تو اپنے گھر والوں کو راتوں رات لے جاؤ اور تم میں کوئی پیٹھ پھیر کر نہ دیکھے سوائے تمہاری عورت کے، اسے بھی وہی پہنچنا ہے جو انہیں پہنچے گا۔ بے شک ان کا وعدہ صبح کے وقت ہے کیا صبح قریب نہیں؟ پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس بستی کے اوپر کو اس کا نیچا کردیا اور اس پر کنکر کے پتھر لگاتار برسائے جو نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس ہیں اور وہ پتھر کچھ ظالموں سے دور نہیں۔

وصال:آپکا وصال ۲۹/ جمادی الثانی کو ہوا۔آپکا مزار جورڈان میں ہے۔

 

 

 

مزید

تجویزوآراء