حضرت خواجہ حسن بصری

حضرت حسن بصری علیہ الرحمۃ

 نام و نسب:آپ کا نام مبارک حسن، کنیت ابو محمد، ابو علی، ابو سعید، ابو نصر۔ آپ کے والد بزرگوار کا نام حسبِ روایت طبقات حسامیہ یسار تھا، اور وہ موالی حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے  تھے۔اور بقولِ صاحب سیر الاقطاب والد ماجد کا نام موسیٰ راعی بن خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ تھا، اور نام والدہ ماجدہ کا بی بی خیرہ رضی اللہ عنہا تھا، اور وہ خامہ حضرت امّ المومنین امّ سلمہ رضی اللہ عنہ کی تھیں۔

 ولادت:آپ کی ولادت با سعادت مدینہ طیبہ میں بعہدِ خلافت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ 21ھ میں ہوئی۔آپ  کی والدہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے حضور میں لائیں ۔حضرت عمر  آپ کو خرما چبا کر تحنیک لگائی، اور آپ کو نہایت خوش رو و خوبصورت دیکھ کر فرمایا !سمّوہ حسنًا فانّہٗ احسن الوجہ یعنی یہ خوبصورت ہے اس کا نام حسن رکھو، پس آپ کا نام حسن رکھا گیا۔ ( خزینۃ الاصفیا جلد اوٓل۔ تحفۃ الابرار )

 تربیت:آپ کی والدہ ماجدہ حضرت امّ المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں، اِس لیے آپ نے بھی ان کو آغوشِ عاطفت میں پرورش پائی، حالتِ شیر خوارگی میں اگر کبھی آپ کی والدہ صاحبہ کسی کام میں ہوتیں تو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے پستانِ مبارک آپ کے منہ میں دے دیتیں، بقدرتِ خدا ان سے چند قطرات دودھ کے آپ کے حلق مبارک میں گرتے اور آپ کی تسلّی و تسکین ہوجاتی۔ [۱۔ مسالک السّالکین جلد اوّل ص ۲۷۱ )

 تحصیلِ علوم:آپ تفسیر و حدیث میں امام تسلیم کیے جاتے ہیں، اگر کتب تفسیر میں مطلق حسن بولا جائے تو اُس سے آپ یعنی امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ مراد ہوتے ہیں، اور علم حدیث میں آپ کا یہ رتبہ ہے کہ آپ کی مراسیل بھی حجت ہیں۔

  مرتبۂ  تابعیت:آپ نے ایک سو تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے، جن میں ستر (۷۰) اصحاب بدری تھے، علم ظاہر آپ کو صحابہ رضی اللہ عنہ کی صحبت سے حاصل ہوا، آپ اکابر تابعین سے تھے۔ 

 خدمتِ قرآن:صحابہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جو قرآن مجید لکھا گیا تھا اُس میں صورتوں کے نام پاروں کے نشانات، اور نقطے وغیرہ کچھ نہ تھے، حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے اس میں نقطے بنائے، اعراب دئیے، خمس و عشر وغیرہ بنائے، پاروں اور سورتوں کے نام لکھے۔(کتاب الاسلام ص ۲۸۳ )

 بیعت و خلافت:آپ امام المشارق و المغارب ابو الحسن علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہٗ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر بیعت سے مشرف ہوئے، اور خرقہ ولایت  پایا۔حضرت شاہِ ولایت رضی اللہ عنہ نے آپ کو وہ خرقہ خاص جو ان کو  رسول اکرم ﷺ سے عطا ہوا مرحمت فرمایا، اور نعمت ظاہری و باطنی و اسرار مخفیہ الٰہیہ سے مشرف فرما کر خلافت کبرٰے سے نوازا۔[۱۔ سیر الاولیا۔ سیر الاقطاب ص ۱۱] اگرچہ آپ نے بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی صحبتوں سے فیض اٹھایا ہے، لیکن خصوصًا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ، اور حضرت محمد حنفیہ رضی اللہ عنہ سے بھی فیضِ کامل پایا۔

خلفائے عظام:صاحب ارشاد الطالبین نے لکھا ہے کہ حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے تین سو ساٹھ مرید تھے جو کہ علوم ظاہر و باطن میں آپ کا پرتو تھے۔

 وصال: بقولِ صاحبِ سیر الاقطاب و سفینۃ الاولیا بتاریخ 4- محرم الحرام111ھ ( 8-اپریل 729ء) بروز جمعتہ المبارک کو  ہوا۔ آپ کا مزار پُر انوار بصرہ (عراق) سے نو میل مغرب کی طرف مقام زبیر پر واقع ہے۔

تجویزوآراء