حضرت سید قطبِ عالم شاہ بخاری

شیخ الشیوخ قطبِ عالم سید عبدالوہاب عالم شاہ بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام ونسب: آپ رحمۃ اللہ علیہ کااسمِ گرامی: سید عبد الوہاب  شاہ۔لقب:پیرقطب۔ اور "عالم شاہ"   مشہور ومعروف ہے۔ آپ کا سلسلۂ نسب یوں ہے: عبد الوہاب شاہ بن حامد علی شاہ بن علی شاہ بن حضرت سید جلال الدین ثالث بن سید رکن الدین بن ابو الفتح بخاری بن سید شمس الدین بن سید ناصر الدین محمود نوشہ بن سید جلال الدین حسین مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔

تاریخِ  ولادت: سید عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت 13 رجب المرجب 999 ھ جلال الدین اکبر کے زمانے میں بمقام "اوچ شریف" ضلع بہاولپور پنجاب میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:آپ نے ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے والدِ بزرگوار سے حاصل کی اور آٹھ سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ فرمالیا ۔پھر دیگر علومِ دینیہ  وفقہ وغیرہ کی تعلیم ملتان میں حاصل فرمائی۔

بیعت وخلافت:  سید عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے17 سال کی عمر میں اپنے والدِ بزرگ کے دستِ مبارک پر بیعتِ طریقتِ سہروردیہ سے مشرف ہوئے اور والد ِبزرگ ہی کے زیرِ سایہ منازلِ سلوک طے فرماکر 21 برس کی عمر میں والدِ بزرگ   سے خرقہ ودستار ِ جدی وطریقتِ سہروردیہ حاصل فرمائی۔

سیرت وخصائص: شیخ الشیوخ، قطبِ عالم  حضرت سید عبدالوہاب عالم شاہ بخاری اچی رحمۃ اللہ علیہ ولیٔ زماں، منبع علم وحکمت اورسرِ باری تعالیٰ تھے۔آپ نے اپنی پوری زندگی تبلیغِ اسلام اور عبادتِ خدا میں گزاری ۔آپ نے خودکو  اللہ تعالیٰ کے لئے فنا کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بقا حاصل کرلی۔ آپ کے والدِ بزرگوار نے آپ کو خرقۂ خلافت دیتے وقت ایک "سبز علم" بھی عطافرماکراشاعتِ دینیہ کاحکم دیا۔آپ اپنے والد کا حکم پاکراطرافِ پنجاب میں اشاعتِ دینی وروحانی کافریضہ "سبز علم "لیے ادافرماتے رہے۔پھر پاپیادہ ہی حجِ بیت اللہ شریف کو روانہ ہوئے، جہاں آپ حجِ بیت اللہ شریف ادا فرماکرمدینۂ منورہ شریف روضہ رسول ﷺ میں حاضر ہوکرمسجدِ نبوی شریف کی جاروب کشی فرماتے رہے کہ ایک روز عالمِ رؤیا میں سرکارِ دوعالمﷺ نے آپ سے شفقت کا اظہار فرماتے ہوئے ملکِ عجم جانے کا حکم ارشاد فرمایا۔ آپ حضورﷺ کا حکم پاتی ہی  ملکِ عرب سے عجم روانہ ہوئے اور مختلف اولیائے کرام کے مزار پر اعتکاف کرتے ہوئے سندھ ، کراچی میں واردہوئے۔اس وقت کراچی کے ساحلِ سمندر پرکچھ مسلمان اور ہندو مچھیرے آباد تھے۔اس وقت کراچی شہر کو"دربوربندر" کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔اطراف چھوٹی چھوٹی بستیاں آباد تھیں۔اس وقت اہلِ ہنود، ٹانگامارا قبائل کے ، اکثر سمندری مسافروں کو لوٹ مار کرکےگزر بسر کرتے تھے۔سید عالم شاہ نے سب سے پہلےٹانگامارا قبائل کی بستی میں قیام فرماکران لوگوں کو دعوتِ حق دی، جس کی بدولت پورے قبیلے نے آپ کے دستِ مبارک پر توبہ کرکے داخلِ اسلام ہوئے۔یہ سلسلہ یہا ں نہیں روکابلکہ  اسی طرح آپ نے خدا کے نور سے سینکڑوں غیر مسلموں کے سینوں میں نورِخدا کو داخل کرکے زبان سے اسلام کااقرار کروایا اور دل سے تصدیق۔

تاریخِ وصال: سید عبدالوہاب عالم شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے 25 ربیع الثانی 1046 ھ/بمطابق ستمبر 1636 ءمیں رحلت فرمائی۔آپ کا مزار پرانوار عید گاہ، جامع کلاتھ ،کراچی میں واقع ہے۔

ماخذومراجع: عبدالوہاب عالم شاہ (رحمۃ اللہ علیہ)

مزید

تجویزوآراء