سید غلام نبی شاہ المعروف سمندری بابا

 

حضرت سید غلام نبی شاہ بن حضرت سید غلام محمد شاہ کشمیری سری نگر ( مقبوضہ کشمیر ) میں تولد ہوئے ۔ کشمیر کے نامور بزرگ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی قدس سرہ العزیز کی اولاد میں سے تھے ۔

بیعت و خلافت :

حضرت صوفی سید سلامت علی شاہ المعروف چھتری والی سر کار ؒ ( آستانہ عالیہ راوی روڈ لاہور ) سے دست بیعت اور منظور نظر تھے۔

شادی و اولاد :

کشمیر میں آپ نے شادی کی جس سے ایک بچی تولد ہوئی ۔ شیرخواری میں ان کو ان کی والدہ کے پاس کشمیر چھوڑ کر خود ۱۹۶۷ء کو کراچی ( سندھ) تشریف لے آئے۔

عادات و خصائل :

آپ تارک الدنیا صوفی تھے۔ سخت مجاہدے کئے سمندر کے کنارے ویرانے میں ، دہشت ناک پہاڑوں میں چلے کاٹے ۔ عوام الناس اور دنیا کی تمام سہولیات سے دور ساحل سمندر پر طبعا سخی تھے جو نذرانہ نذر ہوتا وہ راہ خدا میں خرچ کر دیتے تھے کل کے لئے جمع کرنا عادت نہ تھی ۔ متوکل تھے ، اللہ تعالیٰ کی ذات پر کا مل بھروسہ رکھتے تھے کہ آج اس ویرانہ میں عطا کر رہا ہے وہ کل بھی عطا کرے گا ۔ شب و روز اللہ تعالیٰ کی بندگی اور رضا میں بسر کئے ۔ نفس کے تزکیہ و تصفیہ کے لئے بڑے بڑے مجاہدے کئے۔ صائم الدہر اور قائم اللیل تھے۔

ابتدا میں آپ مقبوضہ کشمیر میں لکڑی پر بہترین نقش و نگار تر اشنے ، قالین کے خوبصورت ڈیزائن وغیرہ کا کام کرتے تھے۔

تعمیر مساجد:

ساحل کلفٹن ’’مسجد عرفات ‘‘ تعمیر کی۔ گلشن حدید بن قاسم کراچی سے آگے اس لنک روڈ پر ایک مقام ہے جو نیشنل ہائی وے اور سپر ہائی وے کو باہم ملاتی ہے ۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں بعد میں آپ کا مزار مبارک بنا۔ وہاں بھی ’’مسجد علی ‘‘ تعمیر فرمائی جس کے برابر میں پہاڑ کے اندر ایک چھجا نما غار بنا ہوا ہے جس میں آپ نے چلہ کیا تھا۔ آج وہ یاد گار ایک کمرے کی شکل میں محفوظ ہے۔

کنویں کی کھدائی :

آپ نے ؛مسجد علی ( موجودہ آستانہ ) کے ساتھ ۱۹۸۷ء کو خود اپنے ہاتھوں سے کنویں کی کھدائی کا آغاز کیا۔ آج اسی کنویں کا میٹھا پانی زائرین استعمال کرتے ہیں ۔

وصال :

 حضرت سید غلام نبی شاہ کشمیری نے ۱۲، جمادی الاول ۱۴۱۳ھ بمطابق ۸، نومبر ۱۹۹۲ء بروز اتوار بمقام مسجد عرفات کلفٹن میں تقریبا ساٹھ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ آپ کی خانقاہ شریف پر آپ کا چلہ گاہ ، کنواں ، مسجد علی اور وسیع و عریض صحن زائرین کی روحانی بالیدگی کا سامان مہیا کر رہا ہے۔ آپ نے کسی شخص کو اپنا خلیفہ یا سجادہ نشین نہیں مقرر کیا۔ خانقاہ شریف کا انتظام ایک کمیٹی کے سپرد ہے۔

 (ماخوذ: حیات مبارکہ سمندروالی سر کار ، تالیف : سلیم احمد ، مطبوعہ کراچی ، ۲۰۰۱)


(انوارِ علماءِ اہلسنت )

مزید

تجویزوآراء