حضرت پیر سید محمدحسین شاہ علی پوری

حضرت پیر سید محمدحسین شاہ علی پوری  رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب: اسمِ گرامی: پیر سید محمد حسین شاہ علی پوری۔لقب: سراج الملت،محسن الامت۔  سلسلہ ٔنسب اسطرح ہے: حضرت پیر سید محمد حسین بن پیرسیدجماعت علی شاہ بن سید کریم علی شاہ بن سید منور علی شاہ بن سید محمد حنیف بن سید محمد عابد بن سید امان اللہ بن سید عبدالرحیم بن سید میر محمد بن سید علی۔الیٰ آخرہ ۔آپ’’نجیب الطرفین سید‘‘اور ساداتِ شیراز سے آپ کاتعلق ہے۔آپ کاسلسلہ نسب 39واسطوں سے امیرالمؤمنین حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتاہے۔(رحمۃ اللہ علیہم  اجمعین)۔(تاریخ مشائخِ نقشبند:526)

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1295ھ مطابق 1878ء کو امیرِ ملت حضرت پیر حافظ جماعت علی شاہ محدث علی پوری قدس سرہ کےگھر ، علی پور سیداں ضلع سیالکوٹ میں،بوقتِ صبح صادق،ساعتِ سعید میں ہوئی۔حضرت امیر ملّت قدس سرہ نے آپ کے چاند سے بڑھ کر حسین چہرے کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے، اور بے اختیار ہوکر گود میں اٹھالیا اور دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی۔ اور پھر دعائے خیر کی۔(ایضا:526)۔ آپ دو تین مہینے کے تھے کہ حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی ﷫ تشریف لائے تو آپ کے چچا حضرت سیّد صادق شاہ ر﷫آپ کو اپنی گود میں لے کر حضرت بابا صاحب کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ ’’اس پر دَم کردیجیے۔ یہ اکثر روتا رہتا ہے‘‘۔ حضرت بابا جی ﷫نے دم کیا اور ارشاد فرمایا:’’یہ رونے والا بچہ نہیں ہے، یہ بڑا مرد ہوگا اور ہمیشہ خوش وخرم رہےگا‘‘۔(ایضا:526)

تحصیلِ علم: آپ کا بچپن نہایت پاکیزہ اور شگفتہ تھا،اونچی آواز سے نہیں بولتے تھے۔ بڑوں کا ادب کرتے تھے۔ کپڑے صاف ستھرے رکھتے تھے۔ جب آپ کی عمر مبارک سوا چار سال کی ہوئی تو آپ کو حضرت قاری حافظ شہاب الدین کی خدمت میں کلامِ مجیدکےحفظ کے لیے بٹھایا گیا،  اور آپ نے پانچ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا۔اس کے بعد علی پورسیداں کے پرائمری اسکول سے پرائمری کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کرکے قلعہ سُوبھا سنگھ سے مڈل پاس کیا،اور دینیات کی تعلیم کےلیے حضرت مولانا عبدالرشید صدیقی  کےحضورزانوئےتلمذ تہہ کیا۔ ابتدائی کتب پڑھنے کے بعد اُستاذالعلماء حضرت مولانا نور احمد نقشبندی امر تسری ﷫(محشی مکتوبات شریف،پسرورضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔آپ  مولانا احمد حسن کانپوری،مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی،مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی،سے علوم دینیہ حاصل کیے۔ بعد ازاں مدرسہ صولتیہ مکہ معظمہ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی۔(علیہم الرحمہ) سے بھی استفادہ کیا۔ امر تسر میں مدرسہ نعمانیہ قائم کیا جس سے بے شمار لوگوں نے علمی پیاس بجھائی۔ آپ کی وفات 14/جنوری 1930ء کو ہوئی) کے پاس امرتسر جاکر اکتساب ِعلم کرتے رہے۔ امرتسر میں تحصیل علم کے بعد آپ نے دارالعلوم انجمن نعمانیہ لاہور اور پھر مدرسہ امینیہ دہلی میں داخلہ لیا۔ درسِ نظامی کی تمام اعلیٰ کتابیں تفسیر، حدیث، فقہ، ادب، فلسفہ وغیرہ کی تکمیل وہیں سے کی۔ قیامِ دہلی کے دوران ہی مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں کے طبیہ کالج دہلی میں داخلہ لے کر طب کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ آپ حکیم صاحب موصوف کے لائق ترین شاگرد وں میں شمار ہوتے تھے۔ (ایضا: 527)

بیعت وخلافت:  شروع میں آپ نے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے مشہور بزرگ حضرت خواجہ فقیرمحمد چوراہی ﷫کے دستِ اقدس پر سعادتِ بیعت ہوئے، اور اجازت و خلافت سے بھی سرفراز کیے گئے تھے،اُن کی رحلت کے بعد والدِ گرامی حضرت امیر ملّت قدس سرہ سے بیعت ہوکر 11/ مئی 1914ء کو بر موقع سالانہ جلسہ علی پور سیداں خرقۂ خلافت حاصل کیا۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیات ظاہری ہی میں آپ کے علم و عرفان کی دھوم مچ گئی تھی۔ ہزاروں لوگ آپ سے بیعت ہوکر گمراہی سے نجات حاصل کر کے صراطِ مستقیم پر گامزن ہوگئے۔ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کو جب فرصت نہ ہوتی تو لوگوں کو بیعت کے لیے آپ کی خدمت میں بھیج دیتے۔ یہ شرف حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی حیاتِ طیّبہ میں خاندان کے کسی اور کو حاصل نہیں ہوا۔ (ایضا:528)

سیرت وخصائص: سراج الملت،حامیِ سنت،ماحیِ بدعت،محسن ِ ملک وملت،جامع شریعت وطریقت،عالم وعارف،حضرت علامہ مولانا پیر سید محمد حسین شاہ  علی پوری﷫۔آپ﷫امیر ملت،ابوالعرب،حضرت سید پیر جماعت علی محدث علی پوری﷫ کےجانشینِ برحق،اور علوم و معارف کےوارث ِ اکمل اور جامع شریعت وطریقت تھے۔آپ﷫ نےجوانی میں ہی خدمتِ اسلام میں متحرک ہوگئے تھے۔پوری زندگی والد ِ گرامی کی تعلیمات اور ان کےمشن کی ترویج واشاعت میں گزاردی۔بیس سال کی عمر میں تمام علوم نقلیہ وعقلیہ کی تحصیل مکمل ہوگئی،اور فراغت کے بعدہی خدمتِ دین میں مصروف ہوگئے۔حضرت امیر ملت﷫ نےعلی پور شریف میں ’’مدرسہ نقشبندیہ‘‘ قائم کیا،اورآپ کو اس مہتمم مقرر کیا گیا۔آپ مدرسہ کے انتظام وانتصرام کے علاوہ طلباء کو علوم و فنون کی کتابیں بھی پڑھاتے تھے۔ عربی و فارسی پر آپ کو مہارتِ تامہ اور شہرتِ عامہ حاصل تھی۔ تحریر و تقریر میں اہلِ زبان کی طرح یدِ طُولیٰ حاصل تھا۔ تمام عمر کبھی بول چال میں رکاوٹ نہ آئی۔ آپ کی فصاحت و بلاغت پر بڑے بڑے علماء و فضلاء کو حیران ہوجاتےتھے،اور وہ بے ساختہ داد دینے پر مجبور ہوتے تھے۔

آپ عالم، فاضل، پیر، ادیب اور حکیم ہونے کے علاوہ ایک بہت بڑے مناظر بھی تھے۔ آپ کو اکثر تحریری مناظروں کے مواقع ملے۔ آپ نے مخالفین کی تحریروں میں ہمیشہ غلطیاں نکالیں، جس کی وہ کبھی توجیہ و تاویل نہ کرسکے، مگر آپ کی تحریر میں اُن کو نکتہ چینی اور خوردہ گیری کی جراْت نہ ہوئی۔ آپ نے بار ہا چیلنج بھی کیا مگر معا ندین کو چُپ سادھ لینے ہی میں عافیت نظر آئی۔ہر محاظ پر مسلک ِ حق کا ہر لحاظ سے دفاع کیا۔جامعہ ازہر کےایک استاد علی پور میں آئے،انہوں نےمسلکِ احناف پر اعتراض کیا۔تین دن تک بحث ومباحثہ جاری رہا۔باالآخر وہ مصری عالم حنفی مسلک کی صحت کاقائل ہوگیا۔اسی طرح آپ کےفصیح و بلیغ عربی تکلم پر داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔(ایضا:529)

 آپ کو کتابوں کی خریداری کا بہت شوق تھا۔ جب حج بیت اللہ کا فریضہ ادا کرنے کے لیے جاتے تو نایاب کتب خرید کر لاتے۔ آپ ہزاروں روپے صَرف کرکے عربی کتب خرید کر لائے۔ آپ کے اس ذوق و شوق کی حضرت امیر ملّت قدس سرّہ بڑی قدر فرمایا کرتے تھے۔ کئی بار تحسین و آفرین کے کلمات ارشاد فرمائے۔ ایک بار فرمایا کہ:’’لوگ ایسے تبرکات خریدتے ہیں جو فنا ہوجاتے ہیں صاحبزادہ نے ایسی چیزیں خریدیں ہیں جن کو بقاہے‘‘۔آپ کو فتویٰ نویسی میں خاص مہارت حاصل تھی۔آپ مشکل سے مشکل مسائل پر قلم برداشتہ فتویٰ لکھ دیتے تھے۔ حدیث و فقہ کی کتابوں پر ایسا عبور حاصل تھا کہ آپ کے فتوے قوی اور مضبوط دلائل اور حوالہ جات سے مزیّن ہوتے تھے، علم و فرائض بہت مشکل چیز ہے مگر آپ کو اس میں بھی کامل مہارت حاصل تھی۔ میراث کے مسائل کا جواب برجستہ دیتے اور ترکہ کی تقسیم کے معاملات مدلّل طور پر قرآن و حدیث کی روشنی میں فوراً حل فرمادیتے تھے۔آپ جتنے جلیل القدر عالم تھے، اُتنے ہی پابندئِ شریعت اور اتباع سنّت کے عامل تھے۔ شبِ بیداری، تہجد گزاری اور آہ وزاری تو اُن کا معمول تھا۔ عشقِ رسول ﷺتو رگ رگ میں سمایا ہوا تھا۔ ذکرِ مصطفےٰﷺاورنعت شریف سُنتے ہوئے جُھوم تے تھے،اور یادِ مصطفیٰﷺ میں آنکھیں اشک بار ہوجایاکرتیں تھیں۔

تحریکِ پاکستان میں عظیم خدمات:  آپ نے حضرت امیرِ ملّت قدس سرّہ کی زیر قیادت تمام دینی، ملّی، مذہبی، اور سیاسی تحریکوں میں بھی حصّہ لیا۔ انجمن خدّام الصوفیہ، فتنۂ ارتداد، تحریک خلافت، ساردا ایکٹ، تحریک کشمیر، تحریک شہید گنج، تحریکِ پاکستان اور دیگر تحریکوں میں بھرپُور کردار ادا کیا۔ فتنۂ ارتداد کے زمانہ میں عرصہ تک آگرہ میں رونق افروز رہے اور ارد گرد کے علاقوں میں تبلیغ کرکے ہندوؤں کے ناپاک منصوبوں کو خاک میں ملایا۔ تحریک شہید گنج میں بڑی جانفشانی سے کام کیا۔تحریک پاکستان کا دور آیا تو حضرت امیر ملّت  قد سرہ اپنے صاحبزادوں اور عقیدت مندوں کے ساتھ میدان میں نکل آئے۔ حضرت سراج الملت ﷫ نے رات دن ایک کرکے مسلم لیگ کی تائید و حمایت میں یارانِ طریقت اور عامۃ المسلمین کو تحریک پاکستان کا ہمنوا بنایا۔ 1946ء کے تاریخی الیکشن میں ضلع رہتک (حال مشرقی پنجاب، انڈیا) میں مسلم لیگی امیدواروں کی حمایت میں دل کھول کر کام کیا پھر فیروز پور میں نواب افتخار حسین ممدوٹ کے حلقہ میں اس خوبی سے کام کیا کہ مخالفین بھی عش عش کر اُٹھے۔ بعد ازاں قصور میں بھی میاں افتخار الدین کے حلقہ میں بھرپور کام کیا۔  یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا کہ آپ کے تینوں اُمیدوار غالب اکثریت سے کامیاب و کامران ہوئے۔

قائد ِ اعظم محمد علی جناح کو تمغہ پہنایا:  جب 24/نومبر 1945ء کو حضرت پیر امین الحسنات المعروف پیر صاحب مانکی شریف نے مانکی  شریف میں حضرت قائدِ اعظم کی ایک شاندار دعوت کی تو ایک عدیم المثال جلسۂ عام کا انعقاد بھی کیا۔ حضرت امیر ملت قدس سرہ کی خدمت میں جلسہ کی صدارت کے لیے درخواست کی گئی مگر حضرت ناسازیِ طبع کے باعث تشریف نہ لے جاسکے اور اپنی جگہ حضرت سراج الملت ﷫ کو قائدِ اعظم کےلیے سونے کا ایک تمغہ، تین سوروپے کی ایک تھیلی اور کئی دوسرے تحائف دے کر بھیجا۔پیر صاحب مانکی شریف ﷫ نے حضرت سراج الملّت کی بڑی عزّت افزائی کی اور جلسہ کی صدارت آپ کے سپرد کی۔ جب قائدِ اعظم جلسہ گاہ میں آئے تو حضرت سراج الملّت آگے بڑھے اور  سونے کا تمغہ (جس پر کلمہِ طیّبہ کندہ تھا) قائدِ اعظم کی طرف بڑھاتے ہُوئے کہا کہ:’’میرے والد ماجد (حضرت امیر ملّت ﷫) نے یہ تحفہ آپ کی خدمت میں بھیجا ہے‘‘۔یہ سُن کر قائدِ اعظم بہت  خوش ہُوئے، کُرسی سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور سینہ تان کر کہا: ’’پھر تو میں کامیاب ہُوں، آپ تمغہ میرے سینے پر آویزاں کیجیے‘‘۔(ایضا:532)

 آپ بھی حضرت امیر ملت کی طرح بڑے سخی اور جوّاد تھے۔ یتیموں اور بیوہ عورتوں کی خاص طور پر خبر گیری فرماتے تھے۔ مدرسہ  کے طلباء کی ہر قسم کی ضروریات کا اہتمام فرماتے۔ ان تمام کاموں پر جو روپیہ صَرف ہوتا، اس کا علم خدا کے سوا کسی کو نہ ہوتا۔ایک دفعہ آپ حضرت امیر ملّت قدس سرہ کی معیّت میں حج بیت اللہ و زیارتِ روضۂ رسول ﷺ کے لیے گئے ہُوئے تھے۔ مدینہ منوّرہ میں ایک دن حضرت امیر ملّت ﷺ نےقطبِ مدینہ  حضرت مولانا محمد ضیاء الدین احمد مدنی ﷫سے دریافت کیا کہ ’’آپ نے صاحبزادہ سے ملاقات کی؟ انہوں نے جواب دیا: ’’ جی ہاں! مُلاقات ہوئی مَیں اُن سے مل کر بہت خوش ہوا ہُوں۔ وہ بڑے عالم اور فاضل ہیں۔ آپ کے صحیح جانشین ہوں گے۔حضرت امیر ملت﷫ نے فرمایا: ’’مولانا صاحب! بعض باتوں میں وہ مجھ سے بھی بڑھا ہوا ہے۔ میں کسی کو کچھ دیتا ہوں تو لوگ ایک کے چار کر کے بتاتے ہیں، مگر وہ دائیں ہاتھ سے دیتا ہے تو بائیں کو خبر نہیں ہونے دیتا‘‘۔(ایضا: 532)

آپ خوارک بہت سادہ پسند فرماتے تھے، اُبلے ہوئے چاول اور سادہ گوشت بہت پسند فرماتے تھے۔ سُنّتِ نبوی ﷺ کے مطابق لوکی خصوصی طور پر مرغوب تھا۔ آپ کا لباس سفید ہوتا تھا، کُرتہ بہت کُھلا (اکثر و بیشتر چکن کا کپڑا استعمال فرماتے تھے) سفر میں سفید شلوار حضر میں سفید چادر، سر پر سفید پگڑی، پاؤں میں کھسّہ، ہاتھ میں عصا۔ آپ والد گرامی کے مظہر اُتم تھے۔ چہرہ پُر نور، جسے دیکھ کر خدا یاد آجاتا تھا۔ گفتگو فقیروں جیسی، چال شہنشاہوں جیسی، نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو۔ سخاوت میں اپنے وقت کے حاتم طائی تھے۔ آخیر عمر میں بصارت میں فرق آگیا تھا مگر صحت قابلِ رشک تھی۔ تہجّد کی نماز کبھی قضا نہیں کی۔ آخیر عمر میں رات کا اکثر و بیشتر حصّہ بیدار رہتے تھے۔ عموماً نصف رات مطالعہ کتب اور حل مسائل میں صرف ہوتا تھا۔ بعد ازاں تھوڑا سا لیٹ کر تہجّد پڑھتے تھے۔ صبح کی نماز کے بعد طلباء کو درسِ قرآن دیتے تھے۔آپ تقریر و تدریس کے علاوہ میدانِ تحریر کے بھی شاہسوار تھے۔ ماہنامہ ’’انوار الصوفیہ‘‘ (لاہور، سیال کوٹ، قصور) میں آپ کے گران قدر مضامین زیور طبع سے آراستہ و پیراستہ ہوکر علماء و فضلاء سے خراجِ تحسین حاصل کرتے رہے۔ آپ نے بہت سی کتابیں بھی لکھیں جن میں سے ’’افضل الرُسل‘‘ کئی بار منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوکر جامعیت اور انفرادیّت کے لحاظ سے اپنی عظمت کا لوہا منواچکی ہے۔

تاریخِ وصال: آپ کا وصال 6/جمادی الاول 1381ھ مطابق 16/اکتوبر بروز پیر بوقت ساڑھے پانچ بجے شام داعیِ اجل کو لبیک کہا۔علی پور سیداں میں حضرت امیر ملت کے پہلو میں آرام فرماہیں۔

ماخذ ومراجع: تذکرہ اکابرِ اہل سنت۔تاریخ مشائخِ نقشبندیہ۔از مولانا محمد صادق قصوری۔

تجویزوآراء