حضرت بہاول شیر قلندر قادری

حضرت بہاول شیر قلندر قادری رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب: اسم گرامی: سید بہاء الدین گیلانی۔لقب:بہاول شیر قلندر حجروی۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: سید بہاول شاہ بن سید محمود بن سید علاؤالدین المشہور زین العابدین بن سید مسیح الدین(۱) بن سید صدرالدین بن سید ظہیر الدین بن سید شمس الدین بن مؤمن بن سید مشتاق بن سید علی بن سید صالح بن سید قطب الدین بن سید عبدالرزاق بن محبوبِ سبحانی حضرت غوث الاعظم سید شیخ عبدالقادرجیلانی علیہم الرحمۃ والرضوان۔(حدیقۃ الاولیاء:34/تذکرۂ مقیمی:20/انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام:107)۔آپ کےوالد ماجد اور پھوپھی  تبلیغِ اسلام کی غرض سےہندوستان میں قصبہ بدایوں میں وارد ہوئے تھے۔آپ کےوالد گرامی اپنےوقت کےجید عالم وعارف تھے۔عبادت وریاضت زہدوتقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔آج بھی ان کامزار بدایوں میں مرجعِ خلائق ہے۔(انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام:107)

(۱)صرف تذکرۂ مقیمی میں سید مسیح الدین کی جگہ  سید فتح اللہ آیا ہے،ہوسکتاہے کہ یہ لقب ہو۔(تونسوی ؔ غفرلہ)

تاریخِ ولادت:  مؤرخ اہل سنت مفتی غلام سرور لاہوری﷫ نےحدیقۃ الاولیاء میں تحریر فرمایا ہے: کہ آپ کی عمر مبارک دوسو پچاس برس ہوئی،اور وصال 973ھ میں ہوا،تو اس لحاظ  سےتاریخِ ولادت723ھ،مطابق 1323ء بنتی ہے۔آپ کی پیدائش بغداد معلیٰ میں ہوئی۔کم سنی میں میں والد کےہمراہ ہندوستان ورود ہوا تھا۔(حدیقۃ الاولیاء:35)

تحصیلِ علم: تعلیم و تربیت اپنے پدر بزرگوار سے پائی تھی۔ اِن کی وفات کے بعد پھوپھی نے جو اپنے وقت کی زاہدہ و عابدہ خاتون تھیں۔ انھوں نے اپنے سایۂ عاطفت میں لے لیا۔تعلیم وتربیت پرخصوصی توجہ دی اوراس ذمہ داری کواحسن انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔اس وقت کےعلوم مروجہ کی تعلیم کی تکمیل فرمائی۔(حدیقۃ الاولیاء:35)

بیعت وخلافت: آپ سلسلہ عالیہ قادریہ میں شیخ عبدالجلال صحرائی﷫ کےخلیفہ تھے۔آپ کاسلسلہ طریقت صرف نوواسطوں سےحضرت شہنشاہ بغداد ﷫سےمتصل ہوتاہے۔

سیرت وخصائص: غوث الوقت،قطب الاقطاب،رئیس الابدال،صاحبِ نسبتِ غوثیہ،مردِ قلندر، حضرت سید بہاء الدین گیلانی المعروف بہاول شیر قلندر﷫۔آپ﷫علم و فضل،زہدو تقدس،عبادت و مجاہدہ اور خوارق و کرامت میں مشائخ قادریہ میں درجۂ بلند رکھتے تھے۔ جذب و سکر اور ذوق و شوق کا طبیعت پر بے حد غلبہ تھا۔ آپ نے بڑی طویل عمر پائی تھی۔ کہا جاتا ہے مشائخ قادریہ میں سے آج تک کسی نے اتنی بڑی عمر نہیں پائی۔ روایت ہے ایک سو برس کی عمر میں آپ کی داڑھی نکلی تھی۔ تین مرتبہ بارہ بارہ سال کی خلوت میں بیٹھے تھے۔ ایک دفعہ حالتِ استغراق و جذب و سکر میں اتنا طویل عرصہ ایک غار میں بیٹھے کہ جس پتھر کے ساتھ پشت تکیہ گاہ تھی جب وہاں سے اٹھے تو پشت کا کچھ چمڑہ اس پتھر کے ساتھ لگا رہ گیا ۔

یہ بھی روایت ہےکہ ایک دفعہ آپ خلوت سے اٹھ کر اس مقام پر آبیٹھے جہاں اب قصبہ حجرہ آباد ہے۔ اُس وقت یہاں دریا بہتا تھا۔ دریا کے کنارے پر آپ نے حجرہ و خانقاہ تعمیر کیا اور سکونت پذیر ہوگئے۔ زمیندارانِ قوم دھُول جن کی ملکیت میں وہ زمین تھی آپ کو وہاں سے اُٹھ جانے کے لیے کہا۔ حضرت نے وہاں سے کچھ دُور جاکر قیام کرلیا۔ وہاں بھی یہی معاملہ پیش آیا۔ اس دفعہ آپ جلال میں آگئے اور دریا کو حکم دیا کہ یہاں سے ہٹ جائے اور ہمارے رہنے کے لیے جگہ خالی کردے۔ دریا فی الفور وہاں سے دُور تک ہٹ گیا اور ایک بلند ٹیلہ دریا سے نکل آیا جس پر آپ نے قیام فر مالیا۔ آپ کا یہ تصرف دیکھ کر وہاں کے تمام زمیندار حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے۔

ایک دفعہ آپ حضرت شیخ داؤد چونی وال﷫ شیر گڑھی کی ملاقات کے لیے آئے۔ مگر شیخ داؤد آپ کے رعب و ہیبت سے اتنے مرعوب ہوئے کہ گھر سے باہر نہ نکلے۔ آپ نے کچھ عرصہ انتظار کرنے کے بعد فرمایا: ’’مرغی انڈوں پر بیٹھی ہوئی ہے۔ باہر نہیں آتی تو کوئی مضائقہ نہیں‘‘۔ یہ کہہ کر واپس چلے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ آپ ہی کے ارشاد کا اثر تھا کہ شیخ داؤد﷫ بڑے کثیر اولاد ہوئے۔ جس ہئیت میں آپ ﷫ شیخ، داؤد﷫ سے ملنے آئے تھے وُہ یہ تھی کہ شیر پر سوار تھے اور ہاتھ میں کوڑے کی بجائے سانپ تھا۔

آپ کےبڑے صاحبزادے اور خلیفےکانام سید محمد نور شاہ گیلانی تھا۔یہ بھی اپنے وقت کےخدارسیدہ بزرگ تھے۔جب سید بہاول شیر قلندر﷫ کاوصال ہوا توسید نور محمد حاضر نہ تھے۔ان کی غیر موجودگی میں ہی دفنائےگئے۔جب واپس آئے تو دیدار والد کےلئے سخت بےتاب ہوئے،اور چاہا کہ قبر کھدواکر باپ کاچہرہ دیکھ لوں ۔اس ارادےسےقبر پر خیمہ نصب کردیا۔سب کونکال دیا۔تنہائی میں اپنے ہاتھ سےقبر کو کھودا اور زیارت کی۔اس وقت ناگہاں ایک معمار(مستری)جوحضرت کےمریدوں میں سےتھا بےاختیار اندر آگیا۔چونکہ بلااجازت اندر آیا تھا اس لئے بنائی سلب ہوگئی۔چندسال بعد جب سید نور محمد کاارادہ ہوا کہ والدگرامی  کی قبر پرایک گنبد بنائیں تو اس معمار نے عرض کیا اگر میں بینا ہوجاؤں،توحضرت قلندرکامقبرہ میں اپنےہاتھوں سےتعمیر کروں گا۔فرمایا: دن بھرجب  توکام کرتارہےگا توبینا رہےگااور جب کام سےاٹھےگا تواندھا ہوجائےگا۔چنانچہ جب تک مقبرہ تیار ہوتا رہا ایسا ہی ہوتا رہا۔دن کوبینائی ہوتی اور رات کوختم ہوجاتی۔مقبرہ مکمل ہونے کےبعد دن میں بھی کچھ  دکھائی نہ دیتا تھا۔(حدیقۃ الاولیاء:39)

تاریخِ وصال: آپ کاوصال18/شوال المکرم 973ھ مطابق  مئی/1566ء کو بعہدِ جلال الدین محمد اکبر بادشاہ ہوا۔ مزار شریف حجرہ شاہ مقیم تحصیل دیپال پور ضلع اوکاڑا  میں زیارت گاہِ خلق ہے۔

ماخذومراجع:  حدیقۃ الاولیاء۔تذکرہ اولیاء۔خزینۃ الاصفیاء۔تذکرہ مقیمی۔

مزید

تجویزوآراء