حضرت سیدعلاؤالدین لاہوری

حضرت سیدعلاؤالدین لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی: آپ رحمۃ اللہ علیہ کااسمِ گرامی سید علاؤ الدین تھا۔

بیعت وخلافت: آپ شیخ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مرید وخلیفہ تھے۔

سیرت وخصائص: حضرت سیدعلاؤالدین لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ابتدائی زمانے میں مالدار اور غنی ہونے کی وجہ سے نہایت ہی شان و شوکت سے رہا کرتے تھے مگر جب شیخ سراج الدین رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہوئے تو سب کچھ چھوڑ کر فقیرانہ اور مستانہ وار گوشہ نشینی اختیار کرلی۔ شیخ علاؤالدین بڑے سخی آدمی تھے اور بے انتہا خرچ کیا کرتے تھے۔ آپ کا خرچ اتنا زیادہ تھا کہ جس پر بادشاہ وقت کو بھی رشک ہوتا تھا، یہ حالت دیکھ کر اس وقت کا بادشاہ کہا کرتا تھا کہ میرا خزانہ شیخ کے باپ کے پاس ہے جو انہیں خرچ کرنے کے لیے دیا ہے۔ اسی مغالطے کی بنا پر بادشاہ نے حکم دیا کہ شیخ میرے شہر سے باہر سنار گاؤں میں چلے جائیں، چنانچہ اس گاؤں میں پہنچ کر شیخ نے اپنے خادموں سے فرمایا کہ پہلے تم جتنا خرچ کرتے تھے اب اس سے دوگنا خرچ کرو، چنانچہ شیخ کے حکم سے پہلے سے دوگنا خرچ ہونے لگا، شیخ کے اخراجات بہت زیادہ تھے لیکن آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہ تھا۔ شیخ کے آبائی دو باغ تھے جن کی سالانہ آمدنی آٹھ ہزار روپے تھی، ان پر ایک آدمی نے ناجائز قبضہ کر رکھا تھا مگر شیخ نے اس سے کبھی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا، شیخ کا ہاتھ بہت کھلا ہوا تھا اور لوگوں کو خوب مال دیتے اور فرمایا کرتے تھے کہ میرے شیخ جتنا خرچ کرتے تھے میں اس کا عشر عشیر بھی خرچ نہیں کرتا۔

تاریخِ وصال: آپ کی وفات26 ربیع الاول 800ھ/بمطابق دسمبر 1397 ء میں ہوئی۔ آپ کا مزار پنڈوہ میں ہے۔

ماخذ ومراجع: اخبار الاخیار

تجویزوآراء