حضرت جمیل شاہ داتار

حضرت جمیل شاہ داتار رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب: سید عبد الہادی۔لقب: سخی داتار،جمیل شاہ گرناری۔لیکن آپ ’’جمیل شاہ داتار،اور سخی داتار‘‘ کےنام سے معروف ہیں۔’’گرناری‘‘ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ﷫ ایک ’’گرنار‘‘ نامی پہاڑ (جونا گڑھ) پر چلہ کش ہوئے تھے۔(تذکرہ اولیائے سندھ:124)۔آپ کا نسبی تعلق حسینی ساداتِ کرام سےہے۔سلسلہ ٔ نسب حضرت امام موسیٰ کاظم﷜کے توسل سےسیدنا امام حسین﷜تک پہنچتا ہے۔(سندھ کےصوفیائے نقشبندحصہ اول:299)

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 27/ رمضان المبارک بروز جمعرات580ھ مطابق 3/جنوری 1185ء کو’’مشہد مقدس‘‘ ایران میں ہوئی۔(تذکرہ اولیاء سندھ:124)

مہد میں کلام: پیدائش کےساتویں روز جب مؤذن آذآن  دے چکا،تو آپ نے فصیح زبان میں یہ کلمات اداکیے۔’’لاالہ الا اللہ لا نعبد الا ایاہ مخلصین لہ الدین‘‘۔ (صوفیائے نقشبند حصہ اول:301)

تحصیلِ علم: آپ نے صرف سات سال کی عمر میں قرآنِ پاک مکمل حفظ کرلیا۔اس کےبعد علوم دینیہ کی تحصیل کی طرف متوجہ ہوئے،اور پندرہ سال کے قلیل عرصے میں تمام علوم ِ دینیہ کی تکمیل کرلی اور تفسیر وحدیث میں ایک خاص مقام حاصل کیا۔اس کےبعد علوم ِ باطنی کی طرف متوجہ ہوئے اور اس میں بھی کمال حاصل کیا۔

بیعت وخلافت:  آپ کے آباؤ اجداد  کا مشرب  سلسلہ عالیہ چشتیہ کا تھا۔لیکن آپ خاص خاص افراد کو سلسلہ عالیہ قادریہ میں اور عام لوگوں کو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت فرمایا کرتےتھے۔آپ کاقلبی لگاؤ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی طرف تھا۔لیکن آپ ﷫ سے تمام سلاسل کےلوگ یکساں فیض حاصل کرتےتھے۔(ایضا: 300)

سیرت وخصائص: قدوۃ الصلحاء،زبدۃ الاولیاء،عمدۃ الاتقیاء،عارفِ اسرار یزدانی،حضرت سید عبدالہادی  گرناری المعرف حضرت  سخی جمیل شاہ داتار﷫۔آپ﷫ کو علم و تقویٰ وراثت میں ملے تھے۔بچپن سے ہی آثارِ سعادت ظاہر تھے۔یہی وجہ ہے کہ سات سال کی قلیل عمر میں قرآن مجید حفظ کرلیا،اور پندرہ سال کی عمر میں علوم منقول ومعقول کی تحصیل وتکمیل کرلی۔تکمیل ِ علوم کےبعد زیارتِ حرمین شریفین کا قصد کیا۔حج کی  سعادت اور روضۂ انورکی حاضری کےبعد ہندوستان کا رخ کیا۔ہند میں گرنار نامی پہاڑ پر جونا گڑھ میں ہے  عبادت وریاضت میں مصروف ہوگئے۔اس غار میں آپ کی عبادت وریاضت کاصاحبِ حدیقۃ الاولیاء نےاشعار کی صورت میں خوبصورت نقشہ کھینچاہے۔اس دوران آپ اپنے چہرے پر نقاب ڈالے رہے۔جب نقاب اٹھاکر غار سے باہر آئے تو آپ کے چہرے سے چمکنے والے انوار وتجلیات کو دیکھ کرمخلوقِ خداآپ کی شیدا ہوگئی،اور دور دراز سے لوگ آپ کی زیارت کو آنے لگے،اور آپ کے فیوضات وبرکات سے مستفید ہونے لگے۔اس بات کوصاحبِ حدیقۃ الاولیاء  منظوم بیان فرماتے ہیں:

بعد ازاں آں گوہر  بحر مشہود۔۔۔۔۔از نقاب احتفا چہرہ کشود

زائران ِ آستانش صد ہزار۔۔۔ می رسد  از ہر طرف لیل ونہار

سرفرازاں آں وخداوندانِ جاہ۔۔سروراں صاحبِ تخت وکلاہ

حجرہ شریف: اسی پہاڑی کے کنارے پر آپ نے اپنی عبادت اور مخلوقِ خدا کی فیض یابی کےلئے ایک حجرہ تعمیر کرایا،اور وہاں رشد وہدایت کا سلسلہ شروع کردیا۔جہاں بڑے بڑے تخت وتاج والے حاضری کو اپنی سعادت سمجھتےتھے۔وہ حجرہ آج بھی وہاں موجود ہے۔(ایضا: 300)

سندھ میں آمد: ٹھٹہ اس زمانے  میں علم وفن کا مرکزتھا۔اس وقت حضرت شیخ محمد حسین المعروف پیر پَٹّھُو﷫ ٹھٹہ میں مقیم تھے۔آپ﷫ اکیلے تبلیغِ دین میں مصروف تھے۔جادوگروں کا زور تھا۔انہوں نے لوگوں کو زیادہ پریشان کرنا شروع کردیا تھا۔شعبدہ بازی اور جادو کے زور پر لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنےلگے،تو حضرت پیر پٹھو کی استدعا پرآپ سندھ میں تشریف لائے،اور ٹھٹھہ میں قیام فرماکر مخلوقِ خدا کی رہبری اور ہدایت میں مصروف ہوگئے۔آپ کی کرامت کےآگے جادوگروں کا جادو ناکام ہوگیا۔مخلوقِ خدا جوق در جوق آپ کی خدمت میں آنے لگی۔غیر مسلم اسلام کی دولت سےمشرف ہوتے،اور فساق وفجار تقوے کےنور سےمنور ہوتے۔آپ کی برکت سے اس خطے میں اسلام کی بہاریں نظر آنےلگیں۔اخیرعمر میں آپ نے اس پہاڑ جہاں حضرت پیر پٹھو﷫ کا  قیام تھا،اور اب مزار ہے،وہاں ایک چھوٹا سا حجرہ اپنے لئے تعمیر کرالیا تھا۔ جہاں آپ ہمیشہ عبادت وریاضت اور مخلوقِ خدا کی خدمت میں مصروف رہتے۔

آپ﷫ صرف خانقاہ کے صوفی نہ تھے۔بلکہ ملکی حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتےتھے۔تبلیغِ دین کا فریضہ پوری قوت سے ادا کرتے،اس میں امیر وکبیر،حاکم و وزیر کاکوئی لحاظ نہ ہوتا تھا۔اگر حاکمِ وقت بھی شرع شریف سے انحراف کرتا،تو آپ﷫ اس کو فوراً تنبیہ کرتے،اور سرکش بادشاہوں کو شریعت کےآگے جھکنے پر مجبور کردیا کرتے تھے۔آپ کےزمانے میں کسی حاکم کو اسلام کے خلاف سازش کرنے کی ہمت نہ تھی۔

ٹھٹھہ میں بت پرستی کا خاتمہ:  آپ کی ٹھٹہ میں تشریف  آوری کےبعد جب مندروں کےپجاری بتوں کی پوجا کےلئے گئے،تو ان کےآگے جُھک نہ سکے،اور پوجا نہ کرسکے۔ہزار کوشش کےباوجود ان کے سر معبودان باطلہ کے آگے نہ جھک سکے۔لوگوں نے انہیں بتایا کہ یہ اس ولی کامل کی برکت ہے،جو ابھی ٹھٹہ میں تشریف لائے ہیں۔آپ کے اس روحانی تصرف کی برکت کو دیکھ کر بہت سے پجاری حلقہ بگوش اسلام ہوگئے،اور آپ سے بیعت ہوکر دینِ اسلام کے سچے شیدائی بن گئے۔(ایضا:302)

عشقِ رسولﷺ: آپ﷫رسول اللہﷺ کےعاشقِ صادق تھے۔آپ کی مجلس سےرسول اللہ ﷺکی محبت کی سوغات تقسیم ہوتی تھی۔ جب آپ کے سامنے نبی مکرم ﷺ کا ذکرِ مبارک کیا جاتا تو آپ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھتا۔حضورﷺ سےکمالِ عشق ایسا تھا کہ اگر کسی کو خلافِ سنت کام کرتےدیکھ لیتے تو فوراً جلال میں آجاتے،اور  سرزنش کرتے۔پھر اس کو رسول اللہﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے۔شریعت کے معاملے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتےتھے۔آپ کی خانقاہ میں شریعت کی حد درجہ پابندی تھی۔لیکن صد افسوس! مجھے حضرت  کے مزار پرانوار پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔وہاں جواری،چرسی،اور رافضیوں نے جھنڈے گاڑ رکھےتھے۔مزار کا تقدس اور احترام ِ شریعت کا کچھ پاس نہیں۔یہ ان نفوس ِ قدسیہ کےمزار کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ایسا ہورہا ہے۔منتظمین اور حکومت کو تو یہ چاہئے تھا کہ ان کے خلاف کاروائی کرتے۔لیکن وہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش ہیں،اور ان کی سرپرستی کررہےہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی سیرت پر عمل پیر اہونے کی توفیق عطاء فرمائے۔

تاریخِ وصال: آپ کا وصال ماہ ربیع الاول  652ھ مطابق 1254ءکوواصل بااللہ ہوئے۔مزار پرانوار ٹھٹہ(سندھ) میں مرجعِ خلائق ہے۔

ماخذ ومراجع: تذکرہ  اولیاء ِسندھ۔سندھ کے صوفیائے نقشبند حصہ اول۔

مزید

تجویزوآراء