حضرت سلطان شمس الدین التمش

حضرت سلطان شمس الدین التمش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ ایک رحم دل بادشاہ عادل سلطان کامل تھے۔ خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے منظور نظر تھے۔ مگر حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کے مرید خاص اور خلیفہ اعظم تھے۔ حضرات اہل چشت سے بڑی ارادت رکھتے تھے۔ اگرچہ ظاہری فرمانروائے سلطنت ہندوستان تھے۔ مگر باطنی طور پر فقیروں اور درویشوں کے زمرے میں تھے۔ کم کھاتے تھوڑا سوتے لمبی راتیں جاگ کر گزارتے، چند لمحے سوتے تو فوراً بیدار ہوجاتے کسی کام کے لیے ملازمین کو تکلیف نہ دیتےتھے۔ رات کے جس حصہ میں بیدار ہوتے کسی کو کہنے کی بجائے خود کنویں سے پانی کھینچتے اور وضو فرمالیتے انہیں یہ بات گوارا نہ تھی کہ ان کے کسی کام کے لیے کسی دوسرے کو تکلیف ہو آدھی رات ہوتی تو شاہی لباس اتار کر گدڑی پہن لیتے اور رعایا کی خبر گیری کے لیے نک پڑتے، علماء صلحاء اور صوفیاء کو بے پناہ دولت بخشتے تھے، کبھی ایسا ہوتا کہ مٹی کے برتن میں سونا رکھ کر اوپر گندم کے دانے رکھ کر بند کردیتے اور مسافروں کو بخش دیتے تھے تاکہ سخاوت کی شہرت نہ ہو۔

ایک بار آپ نے حوض بنانے کا ارادہ کیا، دہلی میں حوض شمسی کلاں آپ نے ہی تعمیر کیا تھا، یہ حوض بنانے سے پہلے انہیں بڑی فکر تھی۔ رات کو حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، آپ نے دیکھا کہ حضور حوض کی جگہ گھوڑےپر سوار جلوہ فرما ہیں اور مخاطب کرکے فرما رہے ہیں! شمس الدین یہاں حوض بناؤ، اس وقت حضور کے گھوڑے نے اپنے پاؤں زمین پر مارے جس سے پانی کا چشمہ جاری ہوگیا، حضور نے الملک الاکبر کہہ کر فرمایا اس جگہ سے اچھا پانی سارے دہلی میں کہیں بھی نہیں ہوگا، صبح ہوئی بادشاہ التمش اٹھےاو ر اس مقررہ جگہ پر جا پہنچے دیکھا کہ جہاں جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے کے سم لگے تھے پانی کا چشمہ بہہ رہا تھا بادشاہ اپنے گھوڑے سے اُترا تھوڑا سا پانی پیا اپنے ساتھیوں کو بھی پلایا اور اسی وقت اپنے اہل کاروں کو حکم دیا کہ حوض کھودنا شروع کردیں۔

یاد رہے کہ حضرت سلطان شمس الدین ترکی بزرگان دین کی اولاد میں سے تھے حوادث زمانہ کے پیش نظر گرفتار ہوکر ہندوستان پہنچے صدر جہاں نے انہیں خرید کر اپنے غلاموں میں رکھ لیا پھر سلطان شہاب الدین غوری کو دے دیا وہاں ہی قطب الدین ایبک سے جو خود بھی ایک غلام کی حیثیت سے بادشاہ کے پاس رہتے تھے ملاقات ہوئی، قطب الدین ایبک جن دنوں دہلی کے حکمران مقرر کیے گئے تو آپ نے حضرت سلطان التمش کو بدایوں کو گورنر لگادیا، آپ ایک  عرصہ تک گورنر رہے۔ جب سلطان قطب الدین ایبک لاہور میں پولو کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گر کر فوت ہوئے آرام شاہ قطب الدین کا بیٹا ہندوستان کا حکمران بنادیا گیا۔ ان  دنوں امیر علی اسماعیل افواج ہند کا سپہ سالار تھا، اور امیرداود دیلمی رکن سلطنت تھا، یہ دونوں آرام شاہ سے ناراض ہوگئے، اور سلطان شمس الدین کو بداؤں سے دہلی طلب کرلیا گیا اور کچھ دنوں بعد دہلی کے تخت پر بٹھادیا، آپ ۶۰۷ھ میں تخت نشین ہوئے۔ تخت نشینی  کے بعد آپ کو پے درپے فتوحات حاصل ہوئیں آپ کو تخت نشین ہوئے ابھی دس سال گزرے تھے کہ شاہ خوارزم چنگیز خان تاتاری کے حملوں سے تنگ آکر ہندوستان  آپہنچا تھا۔ اور ہندوستان کے کئی علاقے فتح کرتا ہوا، آگے بڑھا مگر التمش کے ہاتھوں شکست کھاگیا۔ حضرت التمش نے تعاقب میں آنے والے تاتاری لشکر کو بھی مار کر بھگادیا۔

حضرت سلطان التمش نے گوالیار کو فتح کیا، پھر اوجین شہر پر قبضہ کرلیا، اور بت خانہ مہاکل کو جو ایک ہزار دو سو سال سے آباد چلا  آ رہا تھا، ویران کرکے رکھ دیا، یہاں سے بے شمار خزانہ اور مال غنیمت ملا، راجہ بکر ما جیت کا ایک بڑا بت دہلی لایا گیا اسے توڑ پھوڑ کر اپنی مسجد قوت الاسلام کے دروازے کے سامنے لاکر اوندھا پھینک دیا۔

فخرالملک بغدادی اور نظام الملک سلطان التمش کے نامور وزراء تھے ان کی خدمات تاریخ کے صفحات پر نمایاں نظر آتی ہیں۔ سلطان التمش رحمۃ اللہ علیہ بتاریخ بستم (۲۰) ماہ شعبان ۶۳۴ھ کو فوت ہوگئے[۱]۔ مراۃ ہند کے مولف نے آپ کا سالِ وصال ۶۳۳ھ لکھا ہے۔ آپ پورے ستائیس سال تخت ہندوستان پر جلوہ فرما رہے آپ کا مزار مسجد قوت الاسلام دہلی کے عقب میں ہے۔

[۱۔ اسی سال آپ کے پیر و مرشد حضرت قطب الدین بختیار کاکی قدس سرہ کا وصال ہوا تھا۔]

شمس دین آں بادشاہ ملک ہند
شد جو از دنیا با قلیم جناں
شمس دین حق گو بگو تاریخ او
۶۳۴
ہم بفرما شمس دین قطب جہاں[۱]
۶۳۴

[۱۔فاضل مولف نے یہ تواریخ وفات بھی لکھی ہیں: ماہ زیب جما ل شمس الدین (۶۳۴ھ) یار حق ولی دیندار (۶۳۴ھ)]

مزید

تجویزوآراء