سید الاولیاء شیخ الکبیر حضرت سید احمد کبیر رفاعی

سید الاولیاء شیخ الکبیر حضرت سید احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمۃ

نام و لقب:السید السند، قطبِ اوحد، امام الاولیاء، سلطان الرجال، شیخ المسلمین، شیخ ِ کبیر، محی الدین، سلطان العارفین،عارف باللہ، بحرشریعت وطریقت ابوالعباس احمد الرفاعی۔اباً حسینی، اُماًّ اَنصاری، مذہبا ً شافعی، بلداً واسطی،بانیِ سلسلہ رفاعی۔

ولادت :امام احمد رفاعی بروز جمعرات، ماہِ رجب کے نصف اوّل (15/رجب) کو 512ھ میں مسترشد باللہ عباسی کے زمانہ خلافت میں مقام اُم عبیدہ کے حسن نامی ایک قصبہ میں پیدا ہوئے۔ اُم عبیدہ علاقہ بطائح میں واسط وبصرہ کے درمیان واقع ہے۔

سیرت وکردار: سیرت و کردارمیں آپ اپنے جدامجدسرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کامل نمونہ تھے۔ سنت وشریعت کی اسی پیروی نے آپ کو اپنے زمانے ہی میں شہرت وعظمت کی اعلیٰ بلندیوں پر فائز کر دیا تھا۔ آپ فرماتے! طریقی دین بلا بدعۃ، وھمۃ بلا کسل، وعمل بلا ریائ، وقلب بلا شغل، ونفس بلا شہوۃ۔ یعنی میرا طریقہ یہ ہے کہ دین میں بدعت کی آمیزش نہ ہو۔ ہمت سستی پر غالب ہو۔ عمل ریا سے پاک ہو۔ (یادِ محبوب میں محویت کے باعث) قلب دیگر مشغولیات سے آزاد ہو۔اور نفس شہوت کے بکھیڑوں سے دور ہو۔خدمت خلق کا عنصر آپ کی حیاتِ طیبہ میں بہت غالب نظر آتا ہے۔

 اگر کسی بیمار کا سن لیتے تو وہ خواہ کتنی ہی دور کیوں نہ سکونت پذیر ہو، اس کی عیادت کے لیے ضرور جاتے تھے۔ اور(بعدِ مسافت کے باعث) ایک دو دن کے بعد اُدھر سے لوٹتے تھے۔ نیز عالم یہ تھا کہ راستے میں جا کر اندھوں کی آمد کا اِنتظار کرتے کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں منزل تک پہنچائیں۔ اور جب بھی کوئی بزرگ دیکھتے، انھیں علاقے تک پہنچا آتے۔

شیخ ِ اجل کیلئے رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ نمودار ہوا :

علامہ شہاب الدین خفاجی مصری نسیم الریاض شفاء قاضی عیاض میں فرماتے ہیں !

 کان الشیخ احمد بن الرفاعی کل عام یرسل مع الحجاج السلام علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلما زارہ وقف تجاہ مرقدہ وانشد:

 ؎

فی حالۃ البعد روحی کنت ارسلھا                                  تقبل الارض عنی فھی نائبتی

وھذہ نوبۃ الاشباح قد حضرت                                             فامدد یدیک لکی تحظی بھا شفتی

فقیل ان الید الشریفۃ بدت لہ فقبلھا           فھنیئا لہ ثم ھنیئا ۱؎۔

ترجمہ: یعنی امام اجل قطب اکمل حضرت سید احمد رفاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہر سال حاجیوں کے ہاتھ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر سلام عرض کربھیجتے ،جب خود حاضر آئے مزار اقدس کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کی:

''میں جب دور تھا تو اپنی روح بھیج دیتا کہ میری طر ف سے زمین کو بوسہ دے تو وہ میری نائب تھی، اور اب باری بدن کی ہے۔ کہ جسم خود حاضر ہے دست مبارک عطا ہو کہ میرے لب اس سے بہرہ پائیں۔ کہا گیا کہ دست اقدس ان کے لئے ظاہر ہوا انھوں نے بوسہ دیا تو بہت بہت مبارکی ہو ان کو۔

 (۱؎ فتاویٰ رضویہ ۔ج،۲۲، ص: ۳۷۵ (رضا فاؤنڈیشن لاہور) بحوالہ ۔نسیم الریاض شرح الشفاء  فصل ومن اعظامہ واکبارہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم   دارالفکر بیروت  ۳/ ۴۴۲)

وصال: 66سال کی عمر پا کر جمعرات 12/جمادی الاولی 578ھ کوشریعت وطریقت کا یہ آفتاب عالم تاب ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ آپ اپنے دادا شیخ یحییٰ بخاری کے گنبد تلے عراق کے مقام اُم عبیدہ میں مدفون ہوئے، جو زیارت گاہِ ہرخاص وعام ہے

مزید

اولادِ امجاد   (1)

تجویزوآراء