حضرت شیخ حمید الدین صوفی ناگوری

حضرت شیخ حمید الدین صوفی ناگوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ کا لقب سلطان العارفین اور کنیت ابو احمد تھی۔ آپ حضرت خواجہ معین الدین حسن اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اعظم تھے۔ بڑے اعلیٰ ہمت اور اعلیٰ شان والے تھے۔ آپ سیّد الدین زید کی اولاد میں سے تھے جو جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ کے عشرہ مبشرہ میں سے تھے آپ کا شمار قدیم مشائخ ہند میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑی طویل عمر عطا فرمائی آپ خواجہ معین الدین حسن سنجری کے زمانے سے لے کر سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء کے زمانے تک زندہ رہے۔

ایک دن خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ بڑے اچھے مزاج میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے حاضرین کو کہا جو چیز چاہو مانگو، اس وقت مقبولیت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ ایک شخص نے اُٹھ کر دنیا کی دولت مانگی۔ دوسرے نے اٹھ کر عقبیٰ کی رہائی مانگی دونوں کی باتیں قبول ہوئیں، پھر حضرت خواجہ معین الدین نے شیخ حمیدالدین صوفی کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے دنیا اور عقبیٰ دونوں مانگی ہیں۔ تم دونوں میں معزز اور مکرم رہو گے، شیخ حمیدالدین نے عرض کیا حضور بندے کی کیا مجال ہے کہ سوال زبان پر لائے جو کچھ میرے مولا کو منظور ہے  وہی مجھے بھی منظور ہے حضرت خواجہ معین الدین نے خواجہ قطب الدین بختیار اوشی کو مخاطب کیا او رارشاد فرمایا کہ تم بھی جو کچھ چاہتے ہو مانگو، آپ نے عرض کی:

ہرچہ تو خواہی بخواہم ال سر بر آستانم
بندہ را فرماں نباشد ہرچہ فرمائی بر آنم

حضرت خواجہ معین الدین ان دونوں بزرگوں پر بڑے خوش ہوئے کیونکہ انہیں نہ دنیا کی خواہش رہی اور نہ عقبیٰ سے ڈر، یہ صرف اللہ کی طلب پر اکتفاء کرتے تھے۔ سلطان العارفین حمیدالدین صوفی اور قدوت الواصلین۔ قطب الاقطاب، قطب الدین بختیار اوشی اس دن سے شیخ حمیدالدین مخاطب با خطاب سلطان العارفین ہوگئے۔

صحیح اقوال میں شیخ حمیدالدین کی تاریخِ وفات انتیس ربیع الثانی چھ سو تہتر ہجری ہے۔ آپ کا مرقد منور ناگور میں ہے۔ آپ کی شیخ بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ سے فقر و غنا پر خط و کتابت  رہی۔ شیخ بہاؤالدین نے اپنے مکتوبات میں بہت کچھ لکھا، مگر جواب کا حق ادا نہ ہوا۔

چوں حمیدالدین صوفی شیخ دین
زیں جہاں در روضۂ جنت رسید
طرفہ پیر عقل قطب العاشقین
برتارِ بخشش ندا رد دل شنید
۶۷۳ھ

حضرت شیخ حمید الدین صوفی ناگوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت صوفی حمیدالدین ناگوری اولیائےکبارمیں سے ہیں۔

خاندانی حالات:

آپ حضرت سعدبن زید(رضی اللہ عنہ)کی اولادسے ہیں،جن کاشمارعشرہ مبشرہ میں ہے۔

نام:

آپ کانام حمیدالدین ہے۔

کنیت:

آپ کی کنیت "ابواحمد"ہے۔

لقب کی وجہ تسمیہ:

ایک دن کاواقعہ ہےکہ خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی(رحمتہ اللہ علیہ) بہت خوش تھے۔حاضرین سے فرمایاکہ اس وقت اجازت کےدروازےکھلےہیں،جس کوجودل چاہے، جو مانگےسوپائے۔

ایک شخص نےدنیامانگی اوردوسرےنےعقبیٰ کی خواہش ظاہرکی۔

حضرت خواجہ غریب نوازنےآپ سے مخاطب ہوکرفرمایا۔

"تم کیاچاہتےہو؟کیاتم دنیااورعقبیٰ میں عزت ومرتبہ حاصل کرناچاہتےہو"۔آپ نے نہایت ادب کے ساتھ عرض کیا۔۱؎

"بندہ راخواستی نباشدخواست مولیٰ ست"۔

ترجمہ۔بندہ کی کوئی خواہش نہیں ہے،جوخواہش ہے،وہ مولیٰ کی خواہش کےمطابق ہے۔

یہ سن کر حضرت  خواجہ غریب نوازبہت خوش ہوئےاورفرمایا۔۲؎

"اَلتَّارِکَ الدُّنیَاوَالفَارِغ عَنِ العُقبٰیسلطان التارکین حمیدالدین الصوفی"۔

پس خواجہ غریب نواز کےعطاکردہ لقب"سلطان التارکین"سےآپ مشہورہوئے۔

بیعت وخلافت:

آپ خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی(رحمتہ اللہ علیہ)کےمریداورخلیفہ ہیں۔

ذریعۂ معاش:

موضع سوالی(ناگور)میں آپ کے پاس کچھ زمین تھی۔آپ کاشت کرتےتھے،آپ خود چلاتے تھے۔

وفات:

آپ ۲۹ربیع الآخر۶۷۳ھ کوواصل بحق ہوئے۔۳؎مزارناگورمیں واقع ہے۔

سیرت:

آپ بہت بڑے عالم،صوفی اورصاحبِ دل اورصاحبِ نسبت بزرگ تھے۔طریقت میں آپ کا مقام اونچاہے،آپ کی بہت سی تصانیف ہیں،آپ کی سب سے زیادہ مشہورکتاب"اصول طریقہ" ہے آپ شاعربھی تھے،آپ کے مکتوبات تصوف کا خزانہ ہیں۔

تعلیمات:

آپ فرماتےہیں۔۴؎

"مرداں راجن کامقصددرگاہ الٰہی تک رسائی حاصل کرناہے،تین گروہوں میں تقسیم ہیں،جیساکہ کلام مجیدمیں آیاہے۔

الذین اصطفینامن عبادنامنھم ظالم لنفسہ ومنھم مقتصد ومنھم سابق

بالخیرات۔

ترجمہ:ہم نےاپنےبندوں کوچن لیاہے،جن میں  کچھ وہ لوگ ہیں جو اپنےنفس پرزیادتی کرتے ہیں، کچھ بہت محتاط ہیں اورکچھ نیکیوں میں بہت سبقت لےجاتے ہیں۔

"یعنی معذور،مشکوراورفانی"۔

آپ فرماتے ہیں۔

"مراتب راہ کا پہلامرتبہ علم ہے،علم حاصل کرناضروری ہے،کیوں کہ علم کےبغیرعمل درست نہیں ہوتا۔

مراتبِ طریقت کادوسرامرتبہ عمل ہے،کیوں کہ عمل کےبغیرنیت کاوجودنہیں۔

مراتبِ راہ کاتیسرامرتبہ نیت ہے،نیت صحیح ہونی چاہیےکیوں کہ صحیح نیت کے بغیرباطل کےسوااور کوئی عمل نہیں ہوتا۔

چوتھامرتبہ صدق ہے،صدق کاہوناضروری ہے،کیوں کہ اس کے بغیرعشق رونمانہیں ہوتا۔

پانچواں مرتبہ عشق ہے،عشق اس لئے ہوناچاہیےکیوں کہ اس کے بغیرتوجہ درست نہیں ہوتی۔

چھٹامرتبہ توجہ ہے،توجہ اس لئےضروری ہے کیوں کہ اس کےبغیرسلوک حاصل نہیں ہوتا۔

ساتواں مرتبہ سلوک ہے،سلوک اس لئےدرکارہے،کیوں کہ اس کےبغیر پیش گاہ کادروازہ نہیں کھلتا۔

آٹھواں مرتبہ پیش گاہ کا کھلناہے،پیش گاہ کادروازہ کھلناچاہیے،تاکہ مقصود ظاہرہو۔

اقوال:

۔        جوشخص محبت کادعویٰ کرےاورجب رات آئےتواپنےمحبوب کےساتھ نہ سوئے،اس کانام جھوٹوں کےدفترمیں لکھاجائےگا۔

۔        اربابِ شریعت کی راہ منزل تونفس ومال سےباہرآناہےاورنعیم مقام میں داخل ہوناہے

اوراصحابِ طریقت کی راہ منزل جان ودل سےباہرآناہےاوروحدت کےاعلیٰ مقام پر پہنچ جاناہے۔

حواشی

۱؎اخبارالاخیار(اردوترجمہ)ص۶۷

۲؎اصول الطریقہ

۳؎اخبارالاخیار(اردوترجمہ)ص۶۷

۴؎اخبارالاخیار(اردوترجمہ)ص۶۷

(تذکرہ اولیاءِ پاک و ہند)

مزید

تجویزوآراء