حضرت داؤد طائی

حضرت داؤد طائی  رحمۃ اللہ علیہ

امام ربانی امام حدیث ابو سلیمان داؤد بن نصیر الطائی الکوفی ، محدث ثقہ ،زاہد اعلم ،افضل واورع زمانہ تھے۔

ولادت:آ پ کا پورا نام ابو سلیمان داود بن نصیر طائی ہے۔آپ مشائخ کبار اور اہل تصوف کے سرداروں میں تھے۔آپ کی ولادت با سعادت 21 صفر 47 ہجری کو شام میں ہوئی۔

تعلیم و تربیت:آپ کا شمار امام ابو حنیفہ کے قابل شاگردوں میں ہوتا تھا۔ جب کبھی امام محمد اور امام ابو یوسف میں کسی مسلے پر اختلاف پیدا ہوجاتا تو آپ ہی ثالث قرار پاتے تھے۔ ضروری علوم حاصل کرنے کے بعد امام اعمش اور ابن ابی لیلیٰ سے حدیث پڑھی ، پھر امام اعظم کی خدمت میں باریاب ہوئے ، بیس برس تک ان سے استفادہ کرتے رہے اور ان کے کبار اصحاب وشرکاء تدوین فقہ میں سے یہ بھی ایک ہیں۔ سفیان ابن عینیہ آپ کے حدیث میں شاگرد ہیں ،امام یحییٰ بن معین وغیرہ نے آپ کی توثیق کی اور نسائی میں آپ سے روایت کی گئی ہے۔

فضائل ومناقب:محدث محارب بن دثار فر ماتے تھے! کہ اگر داؤد طائی پہلی امتوں میں ہوتے تو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ان کا ذکر     فر ماتے ۔آپ کو ورثہ میں بیس اشرفیاں ملیں تھیں جن سے بیس سال گزر کی اور وفات پائی ، کبھی کسی بھائی ، دوست یا بادشاہ کا عطیہ قبول نہیں کیا۔ عبد اللہ بن مبارک فر ماتے تھے :کہ بس دنیا سے اتنا ہی سروکار رکھنا چاہئے جتنا داؤد طائی نے رکھاجنکے بارے میں منقول ہے کہ آپ روٹی پانی میں بھگو کر کھا لیتے تھے،اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے،جتنا وقت لقمے بنانے میں صرف ہوتا ہے،اتنی دیر میں قرآن کریم کی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہوں۔

وصال: لوگوں نے آپ کی والدہ ماجدہ  رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کی وفات کا حال پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ آپ تمام رات نماز پڑھتے رہے، آخری رات کو سر سجدے میں رکھا اور پھر نہ اٹھایا، جب دیر ہوئی میں نے نزدیک جا کر کہا بیٹا نماز کا وقت ہے اٹھو نماز پڑھ لو، تو نہ اٹھے جب بغور دیکھا تو معلوم ہوا کہ انتقال فرما گئے ہیں۔ 

آپ 19 ذیقعدہ 162 ہجری کو اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق آپ 8ربیع الاول 165 ہجری کو اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔آپ کا مزار اقدس بغداد میں ہے۔ (جواہر مضیہ۔حدائق حنفیہ)

تجویزوآراء