شیخ الاسلام حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی

شیخُ الاسلام حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب: اسمِ گرامی:شہاب الدین عمر۔کنیت:ابوحفص۔لقب:شیخ الاسلام،شیخ الشیوخ،بانیِ سلسلہ سہروردیہ۔سلسلہ نسب: ابوحفص  شہاب الدین عمربن احمد بن عبداللہ بن محمد بن عبداللہ البکری المعروف شیخ عمویہ بن سعد بن حسین بن قاسم بن سعد بن نصر بن عبدالرحمن بن قاسم بن محمد بن امیرالمؤمنین حضرت ابوبکرصدیق ۔(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین )

تاریخِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت رجب المرجب/ 539ھ،بمطابق 1145ء کو زنجان (آذربائیجان کادارالحکومت) کے نواحی قصبہ "سہرورد"میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:آپ نے اس وقت کے اکابر علماءومشائخ سے تحصیلِ علوم کیا۔جیسے محدث ابن نجار،محدث شیخ ابوالغنائم،شیخ ابوالعباس(علیہم الرحمہ) آپ کاشمار اپنے وقت عظیم علماء میں ہوتا تھا۔یہی وجہ کہ اس وقت کے جید علماء ومشائخ اپنے مسائل کے حل کیلئے آپ کی بارگاہ میں رجوع کرتے تھے۔

بیعت وخلافت: اپنے چچا بزرگوار شیخ ضیاءالدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید وخلیفہ تھے،مگر حضرت قطب ربانی محبوب سبحانی غوث الاعظم حضرت سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی آپ نے فیوض و برکات حاصل فرمائے۔

سیرت مبارکہ:شیخ الاسلام ، قدوۃ الاخیار،شیخ المشائخ حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃا للہ علیہ ۔آپ شافعی المسلک، زبردست فقیہ اوراپنے وقت کے  عظیم مجتہد تھے۔سیدناعبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کے متعلق فرمایا تھا" یا عمرانت آخر المشہورین بالعراق "کہ اے عمر! تم سرزمین عراق کے آخری مشہور انسان ہو۔حضرت محبوبِ سبحانی کے وصال کے بعد سرزمینِ عراق میں آپ کے پائے کاکوئی بزرگ نہیں تھا۔آپ اپنی خانقاہ تک محدود نہ رہے،بلکہ آپ  ملکی حالات اور عالمِ اسلام کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے،جہاں کہیں خلافِ شرع امور دیکھتے تو آپ میدانِ عمل میں  آجاتے تھے۔ یہی وجہ  ہے کہ آپ کے خلفاء نے ہرجگہ مخالفینِ اسلام کامقابلہ کیا۔پوراعالم بالعموم اور برصغیر(پاک وہند )بالخصوص آپ کے فیض  سے مستفیض ہوئے۔ایک مقام پر آپ نے ارشاد فرمایا:خلفائی فی الہند کثیرۃ۔آپ کےچند مشہورخلفاء یہ ہیں: شیخ الاسلام حضرت شیخ بہاؤالدین زکریا ملتانی،مصلح الدین شیخ سعدی شیرازی،شیخ نجم الدین کبریٰ ،شیخ فرید الدین عطار ،سلطان سخی سرور(رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)
وصال: آپ کاوصال یکم محرم الحرام632ھ،بمطابق ستمبر/1234ء کوہوئی۔آپ کامزار پرانوار بغداد میں مرجعِ خاص وعام ہے۔

ماخذ ومراجع: خزینۃ الاصفیاء۔انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام۔

مزید

تجویزوآراء