حضور غوث الاعظم سیّدنا ابو محمد محی الدّین شیخ عبدلقادر جیلانی

حضور غوث الاعظم سیّدنا ابو محمد محی الدّین شیخ عبدلقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

اسم گرامی : عبدالقادر، کنیت : ابو محمد، لقب : محی الدین،پیرانِ پیر دستگیر،شیخ الشیوخ، محبوبِ سبحانی، قندیلِ لامکانی، قطبِ ربانی وغیرہ۔عامۃ المسلمین میں آپ "غوث الاعظم" کے نام سے مشہور ہیں۔ والد ماجد کا نام حضرت سیّد ابو صالح موسیٰ والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما آپ" نجیب الطرفین" سیّد ہیں۔ والد ماجد کی طرف سے سلسلۂ نسب سیدنا امام حسن بن علی المرتضیٰ سے اور والدہ ماجدہ کی طرف سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ملتا ہے۔

 تاریخِ ولادت: حضور سیّدناغوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ یکم رمضان المبارک 471ھ میں عالم قدس سے عالم امکانی میں تشریف لائے۔

تحصیلِ علم: اٹھارہ  سال کی عمر میں شیخ عبدالقادر جیلانی تحصیل ِ علم کے لئے بغدادتشریف لے گئے۔  آپ کو فقہ کے علم میں ابوسید علی مخرمی، علِم حدیث میں ابوبکر بن مظفر اور تفسیرکے لئے ابومحمد جعفر جیسے اساتذہ میسر آئے۔

بیعت وخلافت: حضورِ پرنور سیدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ  نے سیدنا ابو سعید مبارک مخزومی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور خرقۂ خلافت حاصل کیا۔

 سیرت وخصائص: امام الائمہ، شیخ الاسلام،محی الدین ،سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی قطبِ ربانی ، غوثِ صمدانی رحمۃ اللہ علیہ کے اخلاقِ حسنہ  اور فضائلِ حمیدہ کی تعریف وتوصیف میں کل اولیاء اللہ کے تذکرے بھرے پڑے ہیں۔ سیرت وکردار کے لحاظ  سے کوئی بھی  ولی اللہ آپ کا ہم پلہ نہیں ہوا۔قدرت نے آپ کو ایسے اعلیٰ اخلاق ومحامد سے متصف فرمایاتھاکہ آپ کے معاصرین  آپ کی تحسین کئے بغیر نہیں رہتے تھے۔اپنے تواپنے غیر مسلم بھی آپ کے حسن ِسلوک کےگرویدہ تھے۔آپ اسلامی اخلاق اور انسانی اوصاف کے پیکر تھے۔شیخ حراوہ فرماتے ہیں:"میں نے اپنی زندگی میں آپ سے بڑھ کر کوئی کریم النفس، رقیق القلب، فراخ دل اور خوش اخلاق نہیں دیکھا"۔آپ اپنے علوِّ مرتبت اور عظمت کے باوجود ہر چھوٹے بڑے کا لحاظ رکھتے تھے۔سلام کرنے میں ہمیشہ سبقت فرماتے تھے۔کمزوروں اور مسکینوں کے ساتھ تواضع وانکساری کے ساتھ پیش آتے۔لیکن اگر کوئی بادشاہ یا حاکم آجاتا توآپ مطلقاً تعظیم نہ فرماتے اور نہ  ہی ساری عمر کسی بادشاہ یا وزیر کے دروازے پر گئے، نہ عطیات قبول کئے۔مفلوک الحال لوگوں کے ساتھ مروت سے پیش آتے۔سچائی اور حق گوئی کادامن کبھی نہیں چھوڑا خواہ کتنے ہی خطرات کیوں نہ درپیش ہوتے، مگر سچ کہنے سے کبھی بھی چوکتے نہیں تھے۔  حاکموں کے سامنے بھی حق بات کہتے تھے اور کسی کی ناراضگی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ بلکہ مصلحت و خوف کو پاس تک بھٹکنے نہیں دیتے تھے۔

آپ معروف کا حکم دیتے اور منکرات سے روکتے تھے۔آپ کے اعلائے کلمۃ الحق نے سلاطین اور امراء کے محلات میں زلزلہ ڈال دیا تھا۔حضور پرنور سیدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ مجسمہ ایثاروسخاوت تھے۔دریا دلی کا یہ عالم تھاکہ جوکچھ پاس ہوتاسب غریبوں اور حاجت مندوں میں تقسیم فرمادیتے۔عفووکرم کے پیکر جمیل تھے۔کسی پر ظلم برداشت نہیں کرتے اور فوراً امداد پر کمر بستہ ہوجاتے، مگر خود اپنے معاملے میں کبھی بھی غصہ نہیں آتا۔لوگوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرماتے۔نہایت رقیق القلب تھے۔حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ باتفاق علماء واولیاء مادرزاد یعنی پیدائشی ولی تھے۔

 مناقب غوثیہ میں شیخ شہاب الدین سہروردی سے منقول ہے :کہ سیّدنا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی ولادت کے وقت غیب سے پانچ عظیم الشان کرامتوں کا ظہور ہوا۔ اوّل: شب ولادت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد سیّد ابو صالح نے خواب میں دیکھا کہ آقائے دو جہاں حضرت رسول مقبول ﷺ تشریف لائے ہیں ارشاد فرماہے ہیں:" اے ابو صالح! اللہ تعالیٰ نے تجھے فرزند عطا کیا ہے وہ میرا محبوب  ہے اور خدا پاک و برتر کا محبوب ہےاور تمام اولیاء و اقطاب میں اس کامرتبہ بلند ہے"۔ دوئم: جب آپ پیدا ہوئے تو آپ کے شانہ مبارک پر نبی کریمﷺ کے قدم مبارک کا نقش موجود تھا، جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ولی ہونے کی دلیل ہے۔ سوئم: آپ کے والدین کو اللہ تعالیٰ نے عالم خواب میں بشارت دی کہ جو لڑکا تمہارے ہاں پیدا ہوا ہے سلطانِ الاولیا ہوگا۔

چہارم: آپ کی ولادت کی شب صوبہ گیلان میں تقریباً گیارہ صد لڑکے پیدا ہوئے جو سب کے سب مرتبہ ولایت پر فائز ہوئے۔ اس رات تمام علاقہ گیلان میں کوئی لڑکی پیدا نہیں ہوئی۔ پنجم: یہ کہ آپ رمضان المبارک کے مہینہ کی چاند رات کو پیدا ہوئے۔ دن کے وقت مطلق دودھ نہیں پیتے تھے البتہ افطار سے لے کر سحری تک والدہ ماجدہ کا دودھ پیتے تھے۔ ولادت کے دوسرے سال ابر(بادل) کی وجہ سے رویت ہلال کے متعلق کچھ شبہ پڑگیا تھا لیکن جب وقت سحرکے بعد جناب غوث الاعظم نے والدہ ماجدہ کا دودھ نہیں پیا تو آپ کی والدہ سمجھ گئیں کہ آج رمضان المبارک کی پہلی تاریخ ہے انہوں نے لوگوں کو یہ خبر سنائی اور بعد میں معتبر شہادتوں سے اس قیاس کی تصدیق بھی ہوگئی۔

 تاریخِ وصال:سیدنا غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ  نے 11 ربیع الثانی  560 ھ/بمطابق فروری  1165 ء میں وصال فرمایا۔

ماخذ ومراجع: تذکرہ مشائخ قادریہ۔

تجویزوآراء