حضرت شیخ علی متقی

حضرت  شیخ علی متقی  رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:اسمِ گرامی:شیخ علی۔لقب:علاؤالدین،محدثِ کبیر۔سلسلۂ نسب اسطرح ہے:محدثِ کبیر شیخ علاء الدین علی متقی بن حسام الدین بن عبدالملک بن قاضی خان۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپ کا آبائی وطن "جونپور"تھا۔ شیخ حسام الدین  علیہ الرحمہ نے ترکِ وطن کر کے "برہان پور"میں مستقل  سکونت اختیار کرلی تھی۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 888ھ،مطابق 1483ء کو برہان پور (انڈیا)میں پیدہوئے۔

تحصیلِ علم:آپ نے ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی۔مروجہ علوم کی تحصیل کے بعد شاہی ملازمت اختیار کرلی،اورصاحبِ جاہ وحشمت ہوگئے۔مگر آپ نے سب چھوڑ کر مزید کسبِ علم کے لئے شیخ حسام الدین ملتانی علیہ الرحمہ کی خدمت میں ملتان حاضر ہوئے۔ان سے  تفسیرِ بیضاوی وغیرہ کا درس لیا۔ملتان میں دیگر علماء سے بھی علمی استفادہ کرتے رہتے تھے۔مزید علمی پیاس بجھانے کےلئے حرمین  طیبین کا قصد کیا۔مکۃ المکرمہ میں آپ نے شیخ الحرم شیخ ابوالحسن بکری  علیہ الرحمہ سے  فقہ وحدیث میں مہارت حاصل کی۔اسی طرح فقیہِ اعظم مکۃ المکرمہ حضرت شیخ ابنِ حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی علمی استفادہ فرمایا۔شیخ کی عظمت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ جب آپ  حرمِ محترم میں درس  دینے لگے،تو شیخ ابنِ حجر علیہ الرحمہ، آپ کے استاذِمحترم بھی شریکِ درس ہوتے تھے۔اللہ اکبر !یہ تھی علم کی سچی جستجو۔تحصیلِ علم میں نہ عار وشرم اور نہ  ہی عمر ومرتبے کی قید۔جہاں  کچھ کمال نظر آیا چلے گئے۔آج یہ با تیں معدوم ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ آج  علم کی فراوانی  کے باوجود جہالت کاغلبہ ہے۔چھوٹے موٹے کورسز کرنے کے بعد اپنے آپ کو ہی علامۃ الدہرسمجھنا شروع ہوجاتے ہیں،اور علم کادروازہ بند ہوجاتا ہے۔

بیعت وخلافت:آٹھ سال کی عمر میں سلسلہ عالیہ چشتیہ میں شیخ باجن چشتی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے،اور ان کے صاحبزادے شیخ عبدالحکیم  چشتی سے سلسلہ عالیہ چشتیہ میں مجاز ہوئے۔سلسلہ چشتیہ میں شیخ حسام الدین ملتانی علیہ الرحمہ سے بھی مستفید ہوئے۔عارف باللہ شیخ ابوالحسن بکری علیہ الرحمہ سےسلسلہ عالیہ  قادریہ،شاذلیہ میں مجاز ہوئے۔شیخ محمد بن محمد سخاوی علیہ الرحمہ سے سلسلہ قادریہ میں مجاز ہوئےہوئے۔

سیرت وخصائص:محدثِ کبیر،عالمِ جلیل،امام الوقت،شیخ الحرم،ماہرِشریعت،شیخِ طریقت،عارفِ حقیقت،صاحبِ تصانیفِ کثیرہ،مجمع البحرین،امام الفریقین،مخدومِ امت ،مصلحِ ملت،شیخ علاؤالدین علی  بن حسام الدین متقی چشتی قادری شاذلی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ ان شخصیاتِ اسلام میں سے ہیں جن پر ملتِ اسلامیہ کو فخر ہے۔ساری زندگی احادیثِ  رسولﷺ کی بےلوث خدمت فرمائی۔مولانا غلام علی آزاد بلگرامی لکھتے ہیں: شیخ علی متقی  کی ذات ظاہری و باطنی علوم کا سر چشمہ تھی۔ (ماثر الکرام ص 193) شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: انہوں نے دینی علوم اور یقین و معرفت سے ایک عالم کو منور و فیض یاب کیا۔ (اخبار الاخیار، ص 524)

شیخ علی  متقی علیہ الرحمہ نابغۂ روز گار علما ءاور شیخ طریقت تھے۔ اصول و فروع، معقولات و منقولات میں یدطولیٰ رکھتے تھے ۔لوگ ان کے فضل و کمال کے حدد درجہ معترف تھے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: ان کے دور کے تمام اکابر و مشائخ کو ان کے فضل و کامل کا اعتراف تھا۔ (اخبار الاخیار) علامہ عید روسی لکھتے ہیں: علما میں جوان سے ملتا اور جس سے یہ خود ملتے وہ ان کی مدح و توصیف میں رطب اللسان رہتا تھا۔ علم ظاہر کے ساتھ باطنی کمالات میں بھی وہ ممتاز تھے۔ ریاضت و مجاہدہ، زہد و اتقاء، دنیا ومافیہا سے بے رغبتی ،سلاطین و امراء سے بے نیازی آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ خودداری:آپ حالتِ سفر میں دو تھیلے اپنے پاس رکھتے تھے۔ ایک میں کھانے پینے کا سامان جیسے چاول، آٹا، گھی، دال، تیل، نمک وغیرہ اور کھانے پکانے کے برتن اور جنگل سے اپنے ہاتھوں کاٹی ہوئی لکڑیاں بقدر ضرورت رکھا کرتے تھے۔ دو دن کے سامان کو چار دن تک استعمال کرتے کبھی مسجد میں نہ ٹھہرتے بلکہ کرایہ کے مکان میں ٹھہرا کرتے تھے۔ چقماق جلا کر آگ سلگاتے تھے اور ایک لوٹا جس میں ایک مشک پانی آتا تھا جو کھانے پکانے وضو اور بشرط ضرورت غسل کے لیے کافی ہوتا۔ اپنی پیٹھ پر لادے رکھتے تھے۔ خود ہی کھانا پکاتے کسی سے اپنی کوئی خدمت نہ لیتے تھے۔(ایضاً)

شیخ عبدالوہاب شعرانی تحریر فرماتے ہیں:"947ھ میں مکہ مکرمہ میں آپ کے پاس حاضر ہوا۔ میں آپ کے پاس اور آپ میرے پاس آتے رہے۔ آپ عالم، پرہیزگار، زاہد اور کمزور بدن کے تھے۔ قریب نہ تھا کہ بھوک کی کثرت کی وجہ سے ان پر تھوڑا گوشت بھی پائے۔ اکثر خاموش اور تنہا رہتے۔ اپنے گھر سے صرف حرم شریف میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے ہی نکلتے۔ صفوں کےکنارے میں نماز ادا کرتے پھر جلدی سے لوٹ آتے۔ آپ نے مجھے اپنے گھر میں داخل کیا میں نے دیکھا کہ آپ کے گھر کی چہار دیواری کی اطراف میں فقراء ِصادقین کی ایک جماعت ہے ہرفقیر کے لیے چھپر ہے جس میں وہ متوجہ الی اللہ ہے کوئی تلاوت کر رہا ہے کوئی ذکر کر رہا ہے کوئی مراقبہ میں ہے اور کوئی علم کا مطالعہ کر رہا ہے۔ مجھے مکہ شریف میں اس کی مثل کہیں خوشی نہیں ہوئی۔ (طبقات شعرانی: ص740)

شغف بالحدیث:       شیخ علی متقی نے اپنے زمانہ کے اکابر علماء حدیث سے کسب ِفیض کیا تھا اور اس علم کے لیے انہوں نے اپنی زندگی وقف کردی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بلند پایہ محدثین کی جماعت میں شامل ہوگئے تھے فن ِحدیث پر ان کی نظر کافی وسیع اور گہری تھی اس علم کے نکتوں اور باریکیوں سے کامل آشنا تھے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں:وہ سنن و احادیث نبوی کے تتبع میں آخر عمر تک مشغول رہے ایام پیری میں جب کہ بتقا ضائے عمر جنبش کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا وہ شب و روز کتب احادیث کی تالیف و تصحیح اور مقابلہ کے کام میں منہمک رہا کرتے لوگ بیان کرتے ہیں کہ دقائق کے فہم و معرفت اور معانی و نکات کے استنباط و استخراج میں ایسے بلند درجہ پر فائز تھے کہ ماہرین اور علما ءفن بھی حیرت و تحسین ظاہر کیے بغیر نہیں رہتے تھے۔ ان کی تصانیف دیکھ کر عقل حیران اور ششدر رہ جاتی ہے اور اس بات پر یقین محکم ہو جاتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کی خاص برکت اور توفیق کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا ان کی بعض کتابیں سالکانِ طریقت اور طالبانِ آخرت کے لیے بیش قیمت سرمایہ اور ان کے حال کے لیے معین و مددگار ہیں۔(اخبار الاخیار، ص ۵۳۰)

تمام کتب میں سب سے زیادہ مقبول "کنزالعمال "ہے۔اس کتاب کی اہمیت و افادیت کا اعتراف علماءِ فن نے اس طرح کیا ہے کہ شیخ ابو الحسن بکری فرماتے ہیں:"السیوطی منۃ علی العلمین والمتقی منۃ علیہ"۔یعنی امام سیوطی نے جامع کبیر مرتب کر کے دنیا والوں پر احسان کیا تھا اور شیخ علی متقی نے کنزالعمال ترتیب دے کر خود سیوطی پر احسان کیا ہے۔ (مأثر الکرام ص 193)

وصال: 2/جمادی الاولیٰ 975ھ ،مطابق نومبر/1567ء، بہ وقت طلوعِ سحر مکۃ المکرمہ میں وفات پائی اور حضرت فضیل بن عیاض کی قبر کے سامنے دفن ہوئے۔

محمدﷺ کے غلاموں کاکفن میلا نہیں ہوتا:شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ شیخ علی متقی کی وفات کے بارہ یا چودہ  سال بعداتفاقاًقبرکھل گئی تو آپ کا جسدِ اقدس بالکل تروتازہ تھا۔حالانکہ مکۃ المکرمہ زمین کی یہ خاصیت ہے کہ تین چار دن میں مردہ خاک میں مل جاتا ہے۔لیکن اولیاءاللہ کےجسد سلامت رہتے ہیں۔(اخبارالاخیارفارسی:266)

ماخذومراجع:  اخبارالاخیار۔مآثرالکرام۔حدائق الحنفیہ۔حیات محدثینِ عظام۔

مزید

تجویزوآراء