حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

          شاہ ولی اللہ احمد بن عبد الرحیم بن وجیہ الدین شہید بن معظم بن منصور دہلوی: قطب الدین لقب تھا،آپ کا نسب تیس واسطوں سے حضرت عمر فاروق خلیفہ ثانی تک پہنچتا ہے۔آپ افضل علمائے متأخرین اور سید المفسرین سند المحدثین تھے۔ولادت آپ کی چار شنبہ کے روز بوقت طلوع آفتاب۴؍ماہ شوال ۱۱۱۴ھ میں ہوئئی۔پانچویں سال میں مکتب میں بیٹھے اور ساتویں سال میں آپ کے والد بزرگوار نے آپ کو نماز میں کھڑا کیا اور روزہ رکھنے کا حکم دیا اور اس سال کے آخر میں قرآن شریف ختم ہوگیا اور کتب فارسیہ پڑھنی شروع کیں،دسویں سال میں شرح ملّا شروع کیا،چودھویں سال  نکاح ہوا،پندروھیں سال اپنے والد ماجد سے بیعت کی اور طریقت صوفیہ کرام خصوصاً نقشبندیہ میں مشغول ہوئے۔آپ کے والدِ ماجد نے بہت سامان طعام کا مہیا کیا اور خاص و عام کی دعوت کر کے فاتحہ اجازت درس کی پڑھی پس بحسب رسم اس ولایت کے پندرہویں سال م یں جملہ علوم متداولہ اور فنون متعارفہ سے فراغت حاصل ہوئی یعنی علم حدیث سے تمام مشکوٰۃاور صحیح بخار کتاب الطہارۃ تک،شمائل نبوی تمام اور علم تفسیر سے کچھ بیضاوی اور مدارک پڑھی اور چند دفعہ تدریس قرآن شریف مع معانی و شان نزول میں مطابق تفاسیر کے والد ماجد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہی سبب فتح عظیم کا ہوا۔علم فقہ سے شرح وقایہ وہدایہ تمام،علم اصول سے حسامی اور کچھ توضیح و تلویح اور علم منطق سے شرح شمسیہ اور کچھ شرح مطالع،علم کلام سے تمام شرح عقائد مع کسی قدر خیالی اور شرح مواقف کے،علم سلوک سے کچھ عوارف اور رسائل نقشبندیہ وغیرہ،علم حقائق سے شرح رباعیات مولوی جامی اور مقدمہ شرح لمعات اور مقدمہ نقد المنصوص،علم خواص اسماء وآیات سے مجموعہ خاصہ اور مأتہ فوائد،علم  طب سے موجز،علم حکمت سے شرح ہدایۃ الحکمہ،علم نحو سے کافیہ وشرح ملّا علم معانی سے مطول و مختصر المعانی،علم ہئیت و ھساب سے بعض مختصر رسالے پڑھے۔ستر ھویں سال آپ کے والد ماجد فوت ہوگئے اور آپ کو اجازت بیعت وارشاد کی دے کر آپ کے حق میں کلمہ یدہ کیدی کا مکرر فرمایا پس آپ بعد وفات والد ماجد کے تقریباً بارہ سال تک کچھ کم وبیش تدریس کتب دینیہ وعقلیہ میں مشغول رہے اور بعد ملاحظہ کتب مذاہب اربعہ اوران کے اصول فقہ اور ان احادیث کے جوان کے متمسک ہیں آپ کی طرز تصنیف و تدریس فقہائے محدثین کی روش پر قرار پائی،بعد ازاں آپ آخر۱۱۴۳؁ھ میں ھرمین شریفین کی زیارت کو تشریف لے گئے اور وہاں ایک سال قیام فرماکر شیخ ابو طاہر مدنی وغیرہ مشائخ سے حدیث کی روایت کی اور وہاں کے علماء و فضلاء کی صحبت سے مستفیض ہوئے اور شیخ ابو طاہر مدنی سے جو حاوی جمعی فرق صوفیہ تھے خرقہ جامع پہن کر  اور دورا حج ادا کر کے ۱۴رجب ۱۱۴۵ھ میں وارد دہلی ہوئے۔

          تصانیف کثرت سے کی جو تمام نافع و مفید اور اپن ی جگہ بے نظیر ہے جسن میں حجۃ اللہ الباللغہ،ازالۃ الخفاء عن خلاقۃ الخلفاء،مصفّٰے شرح فارسی مؤطا، مستویٰ شرح عربی مؤطا،فیوض الحرمین،دار الثمین،انتباہ،انسان العین فی مشائخ الحرمین،فوز الکبیر نے اصول التفسیر،عقد الجید فی احکام الاجتہاد و التقلید، قول الجمیل،خیر الکثیرہمعات،الطاف القدس،مقالہ وضیہ فی النصیحہ والوصیہ،انصاف فی بیان سبب الاختلاف،سرور المحزون،لمعات،سطعات،المقدمۃ السنیہ فی انتصار الفرقۃ السنیہ،فتح الرحمٰن ترجمہ فارسی قرآن،انفاس العارفین،شفاء الغلوب،فتح الجیر بما لابد من حفظ فی علم التفسیر،قرۃ العینین فی تفصیل الشیخین،بدور البازغۃ،زہراوین، رسائل تفہمات وغیرہ مشہور و معروف ہیں۔وفات آپ کی ۱۱۷۶ھ میں ہوئی۔

(حدائق الحنفیہ)

مزید

تجویزوآراء