حضرت شاہ رزق اللہ قنوجی

حضرت شاہ رزق اللہ قنوجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی: آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی رزق اللہ قنوجی ۔اور آپ کا تخلص مشتاق تھا۔

تاریخِ ولادت:  آپ کی ولادتِ باسعادت 897 ھ میں ہوئی۔

بیعت وخلافت:  آپ شیخ محمد ملادہ کے مریدوخلیفہ میں سے تھے اور شیخ آپ پر خصوصی عنایت فرمایا کرتے تھے۔

سیرت وخصائص:  شیخ رزق اللہ مرد کامل، فاضل نوادر روزگار اور یاد گار سلف صالحین تھے۔ فضائل صوری اور معنوی میں جامع تھے۔ اسی طرح مشرب عِشق و محبت، سلامت عقل اور وسعت حوصلہ و صبر کے مالک تھے، دوام حضور اور مستقل مزاج ہونے میں یکتائے روز گار تھے۔ بانوے برس کی عمر تک پہنچ جانے کے باوجود آپ کے اندر عشق و ذوق اسی طرح تازہ تھا جس طرح کہ جوانی کے عالم میں تھے۔ آپ سے جو کوئی ملاقات کرتا اس سے ایسے معارف آمیز اور محبت انگیز نکات بیان فرمایا کرتے تھے کہ جنھیں اہلِ وجد اور اہل ذوق سن کر تڑپ جایا کرتے تھے۔ قصے اور مشائخ کے احوال اور ہندوستان کے بادشاہوں کی تاریخ بڑی خوش اسلوبی اور روانی کے ساتھ بیان فرمایا کرتے تھے۔ آپ کی مثل بہت کم اولیاء اللہ گزرے ہیں۔ آپ نہایت اطمینان اور بے نظیر انداز سے گفتگو کیا کرتے تھے۔ محبت کی باتوں کو بڑے شوق سے کہتے اور سنتے تھے اور اس وقت اکثر و بیشتر آبدیدہ ہوا کرتے تھے۔ آپ کثرت سے سفر کرتے تھے اور ان سفروں میں لوگوں کی صحبت حاصل کرکے بڑے تجربے کار بزرگ بن گئے۔ آپ ہمیشہ فقیروں درویشوں اور مشائخ کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ ہندی اور فارسی کے شاعر بھی تھے۔ مدت دراز تک ہندی زَبان میں شعر کہتے رہے آپ کی نظموں کا مجموعہ ’’پیمان و جوت نرنجن‘‘ نہایت مقبول ہے۔ ہندی زَبان میں جب شعر کہتے تو اپنا تخلص راجن، اور فارسی میں مشتاق رکھتے تھے۔

تاریخِ وصال: شیخ رزق اللہ قنوجی رحمۃ اللہ علیہ نے ۲۰ربیع الاول ۹۸۹ھ/بمطابق اپریل 1581 ء میں  عالِم دنیا سے عالمِ پائدار میں چلے گئے۔

 ماخذ ومراجع: اخبار الاخیار

مزید

تجویزوآراء