حضرت شاہ ابوالمعالی چشتی انبیٹھوی

حضرت شاہ ابوالمعالی چشتی انبیٹھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

 آپ ہندوستان کے سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور شیخ داؤد چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے اگرچہ آپ کو شیخ محمد صادق گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے تربیت ملی تھی مگر آپ نے شیخ داؤد سے تکمیل پائی اور اُن سے خرقۂ خلافت حاصل کیا آپ کے والد سید محمد اشرف سہانپور کے قریب قصبہ امٹہ میں رہتے تھے جب اُن کی وفات ہوئی تو شاہ ابو المعالی ابھی چھوٹے تھے آپ کی والدہ آپ کو شیخ محمد صادق گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں لے گئیں اور التجاء کی کہ آپ اس کی تربیت کریں آپ نے انہیں اپنے پاس رکھ لیا اور ظاہری علوم مکمل کروائے وفات کے وقت اُنہیں شیخ داؤد رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے کردیا حضرت شیخ داؤد نے آپ کی تربیت بھی کی اور خرقۂ خلافت بھی دی۔

شاہ ابو المعالی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ہمسایہ بھی تھا جو بڑا بدطنیت اور بد خُو تھا آپ سے حسد کرتا اور ہر وقت آپ کے خلاف ہی سوچتا رہتا آپ کا نام حقارت سے لیتا اور طرح طرح کے دل آزار ا قدام کرتا حضرت شاہ ابو المعالی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدوں نے کئی بار آپ سے اجازت لی کہ اسے درست کریں مگر آپ نے کبھی اجازت نہ دی اور اُس سے بدلا لینے کی کبھی خواہش نہ کی اتفاقاً وہ ہمسایہ مرگیا آپ کو خود بڑا صدمہ ہوا کئی روز آپ ماتم اور گریہ کرتے رہے کھانا بھی نہ کھاتے آپ کے خادم اور مریدوں نے اِس غم کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ عالم ناسوت میں  اولیاء کے اکثر دامن دنیا کے غبار سے ملوث ہوں گے اور یہ غبار بدگو اور بد خوانسانوں کی گالیوں کی وجہ سے دُور ہوگا اب وہ شخص فوت ہوگیا ہے میرے دامن کے غبار کو رب تو دُور کرے گا مجھے اسی بات کا غم اور صدمہ ہے۔

حضرت شاہ ابو المعالی رحمۃ اللہ علیہ جوانی میں اکثر یاد الٰہی میں غرق اور محور رہتے تھے آپ کو دنیا اور مافیا کی خبر نہ تھی ایک بار تو ایسا ہوا کہ تین ماہ تک آپ نے کچھ نہ کھایا  پیا نماز کا وقت ہوتا تو آپ کے خادم آپ کو بڑی مشکل سے آگاہ کرتے وضو کرواتے اور مصلےٰ پر کھڑا کردیتے یہ کیفیت آپ پر تین سال تک رہی پھر جاکر دینی اور دنیاوی امور سے واقف ہوئے مریدوں نے پوچھا تو آپ نے فرمایا اب فرض اور سُنتیں خود مثالی مشکل میں میرے سامنے آکر مجھے آگاہ تربیت میں ادائیگی پر مجبور کردیتی ہیں اب مجھے تمہاری طرف سے کسی آگاہی کی ضرورت نہیں۔

حضرت شاہ ابو المعلی رحمۃ اللہ علیہ کے گھر میں اس قدر تنگ دستی اور بے سرو سامانی کا دور دورہ تھا کہ کئی کئی دن فقرو فاقہ میں گزاردیتے بعض خاص لوگوں میں آپ کے خلیفہ سیّد میران بہیکہ تک پہنچائی انہوں نے یہ بات سن کر شاہ صاحب کے گھر گئے اور آپ کے غلہ دان میں ہاتھ ڈالا تو دیکھا کہ اس میں غلہ موجود ہے آپ نے فرمایا یہ غلّہ قیامت تک کم نہیں ہوگا اِسے نکالتے جاؤ اور پکاتے جاؤ حضرت شاہ ابو المعالی نے اپنے گھر والوں سے پوچھا کہ دو مہینے گزر گئے گھر میں غلّے کی کمی کی شکایت آئی اس کی کیا وجہ ہے گھر والوں نے صورتِ حال سنائی تو آپ نے غلہ دان منگوا کر اُسے اُلٹا کردیا فرمایا کہ سید میران بہیکہ ہمارے توکل میں خلل ڈال دیتے ہیں۔

ایک دن قصبہ تھانیسر میں مشائخ کی ایک مجلس منعقد ہوئی اس میں حضرت شاہ ابوالمعالیٰ میران سید بہیکہ شیخ ابو الفتح شیخ ثوندھا بوہری شیخ بلاکی  شیخ محمد شاہ محمد شاہ۔ محمد یوسف شیخ عبدالقدر سنوری شاہ نصیر الدین کھڑی والا اور سید غریب کیرانوی جیسے بزرگ موجود تھے اس مجلس میں کلمۂ طیبہ لا اِلا الہ الااللہ کا ذکر ہورہا تھا حضرت شاہ ابو المعالی نے فرمایا کہ جن لوگوں نے اِس کلمے کو دل کی گہرائیوں سے پڑھا ہے اگر وہ لفظ لا پڑھ کر کسی جاندار کے کان میں پھونک دیں تو وہ مر جائے گا اور اگر اِلا اللہ پڑھ کر پھونک ماریں تو وہ پھر زندہ ہوجائے گا۔ حاضرین مجلس میں اِس بات کا امتحان لینے کے لیے حضرت شاہ کی خدمت میں التماس کی کہ ہمیں آپ ایسا کر دکھائیے آپ اٹھے تو اپنے گھر کے صحن میں جو گائے کھڑی تھی اس کے کان میں لاء کا لفظ کہا وہ اُسی وقت گر پڑی اور تڑپ کر مرگئی جب سب لوگوں نے دیکھا کہ وہ ٹھنڈی ہوگئی ہے تو آپ نے اُس کے دوسرے کان میں اِلاللہ کہا تو وہ زندہ ہوکر اٹھی اور سب کے سامنے گھاس چرنا شروع کردیا۔

شاہ ابو المعالی کی وفات ۱۱۸۶ھ میں ہوئی صاحبِ شجرۂ چشتیہ نے آپ کا سالِ وفات شہنشاہ مجتبےٰ سے نکالا ہے۔

رفت از دنیا چو در خلد بریں
پیر رہبر ابو المعالی اہل فیض
سال وصل اوست تاج التارکین
۱۱۱۶ھ
بار دیگر بو المعالی اہل فیض
۱۱۱۶ھ

مزید

تجویزوآراء