تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر بد ایونی

تاج الفحول مولانا شاہ  عبد القادر بد ایونی رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب: اسم گرامی:شاہ عبدالقادر۔لقب:تاج الفحول،محبِ رسول،مظہرِ حق،شیخ الاسلام فی الہند۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: تاج الفحول حضرت علامہ مولاناشاہ عبدالقادربدایونی بن حضرت سیف اللہ المسلول مولانا شاہ فضل رسول بد ایونی  بن عین الحق شاہ عبدالمجیدبدایونی بن شاہ عبدالحمیدبدایونی۔علیہم الرحمہ۔

تاریخِ ولادت:  آپ کی ولادت باسعادت 17/رجب المرجب 1253ھ،مطابق  اکتوبر/1837ءکوپیداہوئے۔

تحصیلِ علم: آپ کی رسم تسمیہ خوانی آپ کے جد محترم نے فرمائی۔ بعد ازان تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا حضرت مولانا نور احمد صاحب نے کمالات علمیہ میں آپ کو معراج کمال تک پہنچایا ۔ اس کے بعد آپ نے استاذ الاساتذہ امام الوقت  مجاہدِ جنگ آزادی حضرت مولانا فضل حق خیر آبادی سے شرف تلمذ حاصل کیا۔ استاذ کو اپنے تلامذہ میں سے آپ پر ناز تھا۔مولانافضلِ حق آپ پرفخرکیاکرتےتھے، اکثر فرمایا کرتے :کہ " صاحب قوت قدسیہ ہر زمانے میں ظاہر نہیں ہوتے بلکہ عصراً بعد عصرٍ پیدا ہوتے ہیں، اگر اس زمانے میں کسی کا وجود تسلیم کیا جائے تو وہ عبد القادر ہیں"ذہن کی جودت کا یہ عالم تھا کہ والدمحترم فرمایا کرتے تھے:کہ "برخوردار عبد القادر کی ذہانت مجھ سے بھی زیادہ ہے"۔ حضرت مولانا فضل  حق کے شاگردوں میں چار شاگرد عناصر اربعہ مانے جاتے تھے مگر تاج الفحول کا نام ان میں بھی سر فہرست تھا کیوں کہ تین شاگرد تو کسی خاص فن میں وحید عصر تھے مگر حضرت تاج الفحول کا تبحر جملہ علوم و فنون میں تھا۔ بعد فراغ علوم عقلیہ و نقلیہ سندِ اجازت حدیث اپنے والد ماجد سے لی، اورمکۃ المکرمہ میں شیخ جمال عمرمکی علیہ الرحمہ سےسندِحدیث حاصل کی۔

بیعت وخلافت: اپنےوالدِ گرامی حضرت سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ کےدستِ حق پرست پربیعت ہوئے،اوراجازت وخلافت سے سرفرازہوئے۔

سیرت وخصائص: مظہرِ حق،تاج الفحول،محب الرسول،شیخ الاسلام حضرت علامہ مولانا شاہ عبدالقادر بدایونی رحمۃ اللہ علیہ۔حقیقت یہ ہےکہ آپ اپنے زمانے میں امام الانام اور شیخ الاسلام تھے۔عرب و عجم،شام و عراق تمام بلاد اسلامیہ میں آپ کی بزرگی اور فضل و کمال مسلم ہے۔علماءو مشائخِ عصر نےمتفقہ طور پر آپ کو "تاج الفحول"کے مبارک خطاب سے ملقب  کیا۔ آپ کے مناقب نظم و نثر میں تحریر کیے گئے، فی زمانہ کوئی علمی درس گاہ ایسی نہیں جہاں بہ صد احترام آپ کا نام نہ لیا جاتا ہو۔

مشکل سے مشکل اور پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل طلبا ءکو نہایت آسانی سےسمجھا دیتے تھے۔فلسفہ اورمنطق کی گھتیاں اس طرح سلجھا دیتے کہ بڑے بڑے فلسفی اور منطقی منہ تکتے رہ جاتے تھے۔اکثر اوقات بخاری شریف کے مطالعے میں مشغول رہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بخاری شریف حرفاً حرفاًٍ حفظ تھی۔ آپ جس طرح کلامِ الٰہی کے حافظ تھے اسی طرح احادیث نبوی کے بھی حافظ تھے۔ آپ کے تلامذہ میں حضرت مولانا حافظ شاہ عبد الصمد سہسوانی کو بھی یہ شرف حاصل تھا اور وہ بھی " حافظِ بخاری" کہلائے جاتے تھے۔

طرز تحریر:حضرت تاج الفحول کا اندازِ تحریر بالکل انوکھا اورنرالا تھا۔ آپ کو تصنیف کا بے حدشوق تھا لیکن زیادہ تر تصانیف تلامذہ کے نام سے شائع ہوتی تھیں۔مدرسہ قادریہ  کے کتب خانے میں مختلف علوم و فنون کے صدہا مسودات دست اقدس کے لکھے ہوئے موجود ہیں۔ درسی کتب میں شاید ہی کوئی کتاب ایسی ہو جس پر آپ کے دستِ  اقدس کا حاشیہ نہ ہو ، فرقہ مبتدعہ باطلہ کاردبڑی شد و مد سے کیا ہے۔حضرت تاج الفحول کاقوت استدلال کا تو جواب نہ تھا مگر انداز تقریر نہایت سادہ اور عام فہم ہوتا تھا۔ جب آپ درس دیا کرتے ،تو اہل نظر کہتے تھے"ایسا معلوم ہوتاہے کہ مسندِ حرم پر حضرت امام مالک جلوہ افروز ہو کر درسِ حدیث دے رہے ہیں"۔ سننے والوں کے سینے نور ایمان  سے چمکنے لگتے تھے۔ تصوف و عرفان کی یہ شان تھی کہ جس طرف توجہ فرمائی جاتی حجابات اٹھادیے جاتے تھے۔ اس رویت و بے حجابی کا تذکرہ فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک قصیدے چراغ میں کیا ہے۔

میں بھی دیکھوں جو تو نے دیکھا ہے
صفا مروہ پہ تو نے جو دیکھا
ہاں یہ سچ ہے کہ یاں وہ آنکھ کہاں

روز سعی صفا محب رسول
وہ مجھے بھی  دکھا محب رسول
آنکھ پہلے دلا محب رسول

 

 

 

شریعت مطہرہ کا احترام: آپ شریعت مطہرہ کے پیکرا تم تھے۔زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں  تھاجو احادیث  مبارکہ سے مزین نہ ہو۔ کوئی قدم ایسا نہیں اٹھا جو شریعت مطہرہ کے دائرے سے باہر ہو، جس طرح حضور اکرم  ﷺ کی حیات طیبہ قرآن کی عملی تفسیر ہے،بعینہٖ حضرت تاج الفحول کی حیات مقدسہ احادیث نبوی کی مکمل اور جامع تفسیر ہے۔جس کاجی چاہے صحاح ستہ کو کھول کر بیٹھ جائے اور حضور ﷺکی حیات مقدسہ کا ایک ایک لمحہ دیکھتا جائے ان شاء اللہ سر موفرق نہ پائے گا۔

جملہ حرکات و سکنات ،افعال و اقوال عادات و اطوار میں سلف صالحین کا ظہور تھا۔ پوری زندگی اس کا لتزام رکھا کہ کوئی سنت سہوایا قصداً ترک نہ ہو، یہاں تک کہ جس طرح سید عالمﷺکے دنیاسے پردہ فرمانے کے وقت کا شانۂ نبوت میں چراغ میں تیل   تک نہ تھا۔ اورکہیں سے اُدھار منگایا گیا تھا، اس سنت کا بھی اس طرح ظہورہوکر رہا کر  جب جنازہ مدرسہ قادریہ سے دولت خانے کے اندر لے جایا گیا تو مکان میں چراغ گل چکا تھا۔یہاں تک کہ روغن اُدھار منگایا گیا۔ آپ کے زمانہ مقدسہ میں آپ کی محبت سنت و ہدایت کی علامت تسلیم کی جاتی تھی اور آپ سے دوری اوربغض سنت اور ہدایت سے دوری مانا جانا تھا۔ جیسا کہ فاضل بریلوی فرماتے ہیں؎

 ٹھیک معیار سنیت ہے آج
سنیت سے پھرا ہدیٰ پھرا

 

تیری حب و ولا محب رسول
اب جو تجھ سے پھرا محب رسول

          یہی نہیں بلکہ فاضل بریلوی خود کو حضور تاج الفحول کے زیر سایہ سمجھتے تھے ،کہتے ہیں؎

تجھ پہ فضل رسول کا سایہ

مجھ پہ سایہ ترا  محبّ رسول

حضرت تاج الفحول کے زمانے میں بدعقیدگی کی جتنی تحریکیں اُٹھیں ان کا آپ نے سختی سے مقابلہ کیا اور ان کا سد باب کیا۔عام مخلوق پر رحمت خاص تھی، لیکن مذہبی امور میں کوئی رواداری نہ تھی۔ بلکہ الحب للہ  والبغض للہ کی شان دکھائی دیتی تھی۔ شانِ حقانیت جلال کا پہلو لیے ہوئے تھی۔ آپ کاوجودِمحمود دنیائے اسلام کے لیے باعث فخر تھا۔ آپ کے ذریعے بغداد کی تجلی بدایوں میں جلوہ ریز ہوئی۔ تلاش  حق کے راہی مدرسہ قادریہ میں حاضر ہوتے اور بانیل مرام واپس جاتے۔ مدرسہ قادریہ میں علماء فضلا اور مشائخ کا تانتا لگا رتا تھا۔جملہ سلاسل کے رموز ونکات کی تعلیم فرماتے تھے۔

اعلیٰ حضرت فرماتےہیں:

آج قائم ہے دم قدم سے ترے
رفض و تفصیل و نجدیت کا گلا
ہزم احزاب ندوہ کا سہرا

دین حق کی بنا محب رسول
تیرے ہاتھوں کٹا محب رسول
تیرے ماتھے رہا محب رسول

تاریخِ وصال:  آپ کاوصال 18/جمادی الاول 1319ھ،مطابق 29/ستمبر1901ءکوہوا۔خانقاہِ قادریہ بدایوں شریف  آخری آرام گاہ ہے۔

ماخذومراجع:  تذکرہ علمائے اہلِ سنت۔اکابرِ بدایوں۔

تجویزوآراء