حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی

حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ   

نام ونسب: اسمِ گرامی:سید عبد اللطیف بھٹائی  رحمۃاللہ علیہ ۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: شاہ عبداللطیف بھٹائی بن سیّد حبیب شاہ بن سیّد عبدالقدّوس بن سیّد جمال بن سیّد عبدالکریم بلٹری بن سید لعل  محمد شاہ بن سید عبدالمؤمن بن سید محمد ہاشم شاہ بن سید حاجی شاہ بن سید جلا ل محمد عرف جرار شاہ بن سید شرف الدین  بن سید میر علی بن سید حیدر بن سید یوسف بن سید حسین بن سید ابرہیم بن علی الجواری بن سید حسن الکبریٰ بن سید جعفر ثانی بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن سیدنا زین العابدین ۔رضوان اللہ عنہم اجمعین۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1102ھ،مطابق 1689ء کو قصبہ"قندر" قریب ہالہ ،سندھ میں ہوئی۔  

تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی ،دیگر اساتذہ کے ساتھ خصوصاً  مولانا میاں نور محمد بھٹو کا نام آتا ہے۔آپ اپنے استاد کی بڑی قدر کرتے تھے۔بھٹ شاہ میں اپنے استادِ محترم کو ایک گھر بنواکر دیا تھا۔بعض محققین کے مطابق آپ "امی"تھے۔اگر یہ درست ہے تو یہ صفت ان کے مقام کو اور ارفع بنادیتی ہے ۔عظیم محقق ڈاکٹر پروفیسرمحمدمسعود احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ان کے کلام سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ قرآن وحدیث اور تصوف کے اسرارومعارف سے مکمل طور پرآگاہ تھے"۔بلکہ ان کے معاصر میر علی شیر قانع ٹھٹوی نے "تحفۃ الکرام "میں لکھا ہے: شاہ صاحب کے قلب مبارک پر سارے عالمَ  کا  علم اسطرح لکھا ہواتھا،جیسےتختی پر لکھا ہواہو۔شاہ صاحب کو سندھی کے علاوہ عربی فارسی ہندی اور دوسری علاقائی زبانوں  کے ادب پر مکمل دسترس تھی ۔اس کے پیشِ  نظر یہ بات وثوق سے کہی  جاسکتی ہے کہ شاہ صاحب نے باقاعدہ علوم سیکھے تھے۔

بیعت وخلافت: شاہ  صاحب اپنے والدِ گرامی حضرت سید حبیب شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پرسلسلہ عالیہ قادریہ میں  بیعت ہوئے۔  

سیرت وخصائص: عارفِ ربانی،کاشف اسرارِ یزدانی،عالمِ احکامِ قرآنی، تاجدارِ بھٹ شاہ ،حضرت سید عبداللطیف شاہ بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ۔یوں تو  سرزمینِ سندھ کو باب الاسلام ہونے کا شرف حاصل ہے ،اور اس پر اولیاء کرام کی محبت  کا بیج بدرجہ اتم موجود ہے۔عقیدتوں اورمحبتوں کی  سرزمین ہے۔ایسا کیوں نہ ہوتا کہ اس کا چپہ چپہ اولیاء اللہ کے انوار سے منوّر ہے۔کہیں عبد اللہ شاہ غازی ہیں اور کہیں لعل شہباز قلندر ۔ مگرجو شہرت و مقبولیت شاہ عبداللطیف بھٹائی  کو ملی وہ کسی اور کو نہ مل سکی۔ ایک طرف تو ان کا ورع وتقویٰ ہے اور دوسری طرف دلوں کو موہ لینے والی اور روحوں میں پیوست ہونے والی شاعری ہے۔ اُن کے پاکیزہ نغموں سے سندھ کے گاؤں گاؤں اور گلی کو چے آج بھی گونج رہے ہیں۔ اُن کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیّت یہ ہے کہ اُس سے تعلیم یافتہ طبقہ بھی لطف اندوز ہوتا ہے اور ناخواندہ طبقہ بھی ان کے اشعار میں ایک لذّت محسوس کر رہے ہیں۔ آج بھی عورتیں گھروں میں، کسان کھیتوں میں، اور بچے گلیوں میں، صوفیا خانقاہوں میں اور واعظ محافلِ و عظ میں شاہ صاحب کے کلام کو پڑھتے ہیں۔تبلیغ کے سلسلے میں آپ روزانہ کئی کئی میل پیدل سفر کرتے اور راستے میں جتنے گاؤں آتے، قافلے ملتے یا کوئی بھی شخص ملتا اُس کو دین کی دعوت دیتے تھے۔ آپ نے سندھ کا سارا علاقہ پیدل گھوما اور لوگوں میں ایمان کے زر و جواہر لٹائے۔ اُن کا سفر"سفرِ و سیلۂ ظفر" تھا۔عمر بھر آپ کے توسّل سے نیکی اعتماد اور پاکیزگی کی دولت لوگوں میں تقسیم ہوتی رہی۔ شاہ صاحب نے قرآنی تعلیمات کے فروغ کے لیے جو خدمات انجام دیں وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں۔ سندھی زبان سے آپ نے اسلام کی تبلیغ اور قرآنی تعلیمات کے فروغ و اشاعت کا کام لے کر اس زبان کو غیر معمولی بنا دیا۔

زبدۃ العارفین قدوۃ السالکین حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی علیہ الرحمہ مذہباً سنی،مسلکاً حنفی،اور مشرباً قادری تھے۔انسانوں کی ہدایت پر ساری عمر صرف کردی تھی۔سرکشوں کو اللہ کے قریب کیا،گمراہوں کو راہِ رست پر لگایا،بے دینوں کو دین کا فلسفہ سمجھایا،دنیا کی محبت، حرص ،لالچ، حسد، کینہ،بغض، وغیرہ جیسی گندی خصلتوں سے مسلمانوں کے من کو صاف کیا۔

بحیثیت انسان شاہ صاحب ایک سادہ طبیعت کے مالک تھے۔آپ کی طینت میں حلم،صبر،شکر،قناعت،اور منکسرالمزاجی قدرت کی طرف سے  ودیعت کردی گئی  تھی۔ہمدردی وایثار،بے لوث روادرای،مشفقانہ رحمدلی،اور متعدد اوصافِ حسنہ کے مالک تھے ۔قرآن وسنت پر خود سختی سے عمل پیرا رہتے تھے،اور مسلمانوں کو اس پرعمل کی تلقین کرتے تھے۔شاہ صاحب ظاہری عبادت کو لازمی سمجھتے تھے۔اور اسے ہی قربِ خداوندی کاذریعہ سمجھتے تھے۔اپنے مریدین ومتوسلین کو کم کھانا ،کم سونا ،خودغرضی سے بچنے ،اور دوسروں ہمدردی،راضی برضا رہنے،اور ذکروفکر میں مشغول  رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ہر قسم کی نشہ آور اور حرام چیزوں سے سختی سے منع کرتے تھے۔مسلمانوں  کی بقاء رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں ہے۔سرورِ عالمﷺ کی  محبت  مسلمانوں  کا سرمایۂ حیات ہے۔آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ جل شانہ کی محبت کا درس دیا ہے۔آپ کے دیوان کانا م "شاہ جو رسالو"ہے۔جومقبولِ عام وخاص ہے۔

وصال: آپ کا وصال 14/صفرالمظفر1165ھ،مطابق دسمبر 1752ء کو 63سال کی عمر میں ہوا۔آپ کامزار"بھٹ شاہ"سندھ پاکستان میں مرجعِ خلائق ہے۔

ماخذمراجع: تذکرہ اولیاءِ سندھ۔حیات شاہ عبداللطیف بھٹائی۔

تجویزوآراء