سلطان العارفین حضرت سلطان باہو سروری قادری

سلطان العارفین حضرت سلطان باہو سروری قادری رحمۃ اللہ علیہ

نام ولقب: آپ کانام "باہو"اور لقب "سلطان العارفین"اور"حق باہو"ہے۔آپ فرماتےہیں!  ؎ نام باہومادرِ باہو نہاد،زانکہ باہو دائمی باہونہاد۔یعنی باھو  کی ماں نے نام باھو رکھا کیونکہ باھو ہمیشہھوکے ساتھ رہا۔

تاریخ ِ ولادت: سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ یکم جمادی الثانی 1039ھ (17۔جنوری 1630ء) بروز جمعرات بوقتِ فجر قصبہ شورکوٹ ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے۔

تعلیم وتربیت: آپ کی ابتدائی تعلیم وتربیت آپ کی والدہ کی نگرانی میں ہوئی۔سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ نے کسی قسم کا کتابی اور ظاہری علم حاصل نہیں کیا۔آپ اپنی تصنیف ""عین الفقر"" میں فرماتے ہیں !""محمد مصطفٰی عربی ﷺ و مرا علمِ ظاہر ہیچ نہ بود۔ از علم حضور است و ظاہر و باطن علم چندیں واردات فتوحاتِ کشادہ است کہ دفتر ہا باید""۔یعنی حضرت محمد ﷺ اور مجھے علمِ ظاہر کسی نے نہیں سکھایا کیونکہ  ہمیں علمِ حضوری عطا کیا گیا ہے جس کی واردات و فتوحات سے ظاہر و باطن میں اتنا وسیع علم منکشف ہوا ہے کہ جس کے اظہار کے لیے بے شمار دفاتر (کتب) کی ضرورت ہے۔اُمی ہونیکے باوجود آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تصانیف کی تعداد(۱۴۰)اور۳۹ کتب کی فہرست تذکروں میں موجود ہے۔ 

بیعت وخلافت:آپ فرماتے ہیں میری باطنی بیعت سرور عالم ﷺ اور مولائے کائنات شیر ِخدا رضی اللہ عنہ سے ہے۔ پھرحضور ﷺنےغوث الاعظم حضرت شیخ  عبدالقادرجیلانی رضی اللہ عنہ کےسپردفرمایا۔والدہ کے حکم پر شاہ حبیب اللہ قادری  رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئےاور شاہ صاحب نے آپکی طلب اور جذبہ کو دیکھکر مزید فیض کیلئے اپنے پیر ومرشدشیخ عبدالرحمٰن قادری دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں بھیج دیا ۔آپنے آنِ واحد میں باطنی توجہ فرماکر نعمت ِعظمیٰ  سے مالا مال کردیا۔

سیرت وتعلیمات:حضرت سلطان باھو رحمتہ اﷲ علیہ ساری زندگی سنتِ نبوی اور شریعت محمدی ﷺپر اس طرح کاربند رہے کہ ساری زندگی آپ سے ایک مستحب بھی فوت نہیں ہوا۔آپ عین الفقر میں فرماتے ہیں!ہر مراتب ازشریعت یافتم۔پیشوائے خود شریعت  ساختم۔یعنی میں نے شریعت پر عمل پیرا ہو کر ہر مرتبہ حاصل کیا ہے اور اپنا پیشوا اور راہبر شریعت کو بنایا ہے۔ شاہراہ شریعت پرچل کر میں عرش و کرسی سے بالا مقامات پرجاپہنچا اور اﷲ تعالیٰ کے سرِّ وحدت کے ہر مقام کو میں نے اچھی طرح دیکھا ۔ فقر(ولایت) کی ابتدا بھی شریعت اور انتہا بھی شریعت ہے۔اور تارکِ شریعت فقر (ولایت)کی خوشبو تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔(عین الفقر)

وصال: یکم جمادی الثانی1102ھ (بمطابق یکم مارچ1691ء) بروز جمعرات، بوقتِ عصر  ،تریسٹھ سال کی عمر میں وصال فرمایا ۔آپکا مزار شریف شور کوٹ ضلع جھنگ میں مرجعِ عام وخاص ہے۔

؎ نام فقیرتنہاں دا باھوُ، قبر جنھاں دی جیوے ہو۔

مزید

تجویزوآراء