حضرت پیر محمد حسن جان سرہندی مجددی علیہ الرحمۃ

حضرت پیر محمد حسن جان سرہندی مجددی علیہ الرحمۃ

          بقیۃ السلف حجۃ الخلف حضرت مولانا خواجہ محمد حسن جان فاروقی مجددی ابن حضرت خواجہ عبد الرحمن قدس سرہ(م ۱۳۱۵ھ؍۱۸۹۷ئ) ابن حضرت شیخ عبد القیوم سر ہندی قدس سرہ (۱۲۷۲ھ؍۱۸۵۵ئ) ۶؍شوال،۶؍اپریل(۱۲۷۸ھ؍۱۸۶۲ئ) کو قندھار میں پیدا ہوئے[1]آپ کا سلسلۂ نس حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ تک پہنچتا ہے۔آپ کے والد ماجد حالات کی پراگندگی اور طوائف الملوکی کے سبب ۱۲۸۱ھ؍۱۸۶۵ء میں قندھار سے ارغستان چلے گئے۔جب امیر عبد الرحمن نے خراسان پر تسلط کر قتل و غارت کا بازار گرم کیا تو حضرت خواجہ عبد الرحمن قدس سرہ نے ۱۲۹۷ھ میں شریفین کی طرف ہجرت کرنے کے لئے رخت سفر باندھا،سندھ،کراچی اور بمبئی سے ہوتے ہوئے عرب شریف پہنچتے،۱۳۰۰ھ سے ۱۳۰۲ھ تک تین سال مکہ مکرمہ اور طارف میں قیام کیا،بعد ازاں مدینہ طیبہ دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور ایک سال چار ماہ تک وہیں قیام پذیر رہے۔آپ کے مخلص دوستوں اور خاص طور پر مولانا رحمت اللہ مہاجر مکی قدس سرہ نے مشورہ دیا کہ آپ وطن مالوف کو واپس تشریف لے جائیں کیونکہ آپ کے وجود مسعود سے خلق خدا کو فائدہ پہنچے گا۔چنانچہ پانچ سال تک بلا وطیبہ میں رہ کر وطر کو تشریف لے جاتے ہوئے جب سندھ سے گزرے تو معتقدین نے بصد اصرار گزارش کیکہ خراسا ن جانے کی بجائے ہمارے پاس تشریف رکھیں،چنانچہ آپ ٹکہڑ (مضافات حیدر آباد) میں قیام پذیر ہو گئے اور پھر یہیں جان جاں آفرین کے سپرد کی اور کوہ گنجہ کے دامن میں مدفون ہوئے بعد ازاں اولاد امجاد نے ٹند و سائیں داد کو مسکن بنا لیا[2]

          حضرت مولانا خواجہ محمد حسن جان قدس سرہ نے قرآن مجید پڑھنے کے بعد قندھا ر میں مولانا باز محمد سے فارسی کی کتابیں پڑھیں۔جب ۱۲۹۷ء میں والد ماجد کے ہمراہ سندھ تشریف لائے تو قصبہ ٹکٹر میں دوسال تک قیام کے دوران مولانا الحاج لعل محمد متعلوی سے کسب فیض کرتے رہے،بعد ازاں جب مکہ مکرمہ گئے تو مولانا رحمت اللہ مہاجرمکی قدس سرہ کے قائم کردہ ’’مدرسہ صولتیہ‘‘ میں تعلیم حاصل کرتے رہے اور حضرت بانی مدرسہ کی صحبت سے بھی فیضیاب ہوتے رہے۔اسی مدرسہ میں مولانا حضرت نور سے سراجی پڑھی،۱۳۰۱ھ میں درس حدیث مفتئی مکہ حضرت مولانا شیخ سید احمد وحلان رحمہ اللہ تعالیٰ سے لیا۔والد ماجد سے دیگر کتب کے علاوہ بخاری شریف سبقا پڑھی اور سند فراغت حاصل کی[3]

          ابتداء ہی سے آپ کو حفظ قرآن مجید کا بہت شوق تھا۔مکہ مکرمہ میں تعلیم حاسل کرنے،گھر کے تمام کام کاج کرنے،ہر روز عمرہ ادا کرنے اور عبادت و ریاضت کی بے پناہ مصروفیات کے با وجود قرآن مجید حفظ کرنا شروع کیا اور احتیاطاً والد ماجد کو نہ بتایا کہ بے انداز مصروفیات کی بنا پرکہیں ممانعت نہ فرمادیں،والد ماجد کو اس وقت پتہ چلا جب آپ بائیس پارے حفظ کر چکے تھے،اس پر انہوں نے بڑی مسرت کا اظہار فرمایا اور ختم قرآن کے موقع پر وسیع دعوت کا اہتمام فرمایا[4]

          حضرت مولانا محمد حسن رحمہ اللہ تعالیٰ علوم دینیہ کو بہت اہمیت دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ قرآن و حدیث میں جو فضائل علم وار د ہیں وہ صرف علوم دینیہ سے متعلق ہیں،مساجد اور مدارس دینیہ کی تعمیر و ترقی میں خود بھی حصہ لیتے تھے اور مریدین کو بھی بیش از بیش حصہ لینے کی تلقین کیا کرتے تھے[5] اتباع شریعت،سادگی اور اخلاق حمیدہ میں بے مثل تھے صبر و تسلیم کا یہ عالم تھا کہ ۱۳۵۴ھ میں آپ اہل وعیال سمیت کوئٹہ میں تشریف فرما تھے کہ ۲۷ صفر کو ہولناک زلزلے قیامت صغریٰ قائم کردی،پورا علاقہ تہ و بالا ہوگیا،لاتعداد افراد شہید ہوئے۔ حضرت مولانا کے اہل و عیال اور ہمراہیوں میں سے گیارہ افراد جام شہادت نوش کر گئے لیکن آپ نے حیرت انگیز ہمت و استقامت کا مظاہرہ کیا اور چند معاونین کے ہمراہ ایک ایک فرد کو ملبے کے نیچے سے نکالا اور کفن و دفن کا انتظام کیا[6] ۱۳۳۲ھ میں حرمین شریفین،کربال،نجف اشرف،شام اور بیت المقدس کی زیارات کی نیت سے تقریباً بیس افراد کے ہمراہ بغداد شریف حاضر ہوئے۔یہ آپ کا چوتھا سفر زیارت تھا۔اسی دوران جنگ عظیم چھڑ گئی اور آپ بہ ہزار مشقت حرمین شریفین پہنچے اور مختلف مقامات کی سیر کرتے ہوئے واپس تشریف لائے[7]

          حضرت مولانا علم و فضل کے ساتھ ساتھ بے باک مجاہد اور مرد میدان بھی تھے چنانچہ جب ۱۲۹۶ھ میں انگریزوں نے افغانستان پر حملہ کیا تو آپ بھی والد ماجد کے ہمراہ شریک کاراز ہوئے۔آپ بیدار مغز اور صاحب بصیرت قومی راہنما تھے۔ ترکی کے سلطان عبد الحمید خان کو خلیفۃ المسلمین تصور کرتے تھے اور جب انگریز ستوں نے سلطان کو معزول کیا تو آپ برے رنجیدہ ہوئے،جنگ بلقان اور اطالیہ کے طرابلس پر حملے کے موقع پر معتقدین اور سندھ کے مسلمانوں سے خطیر رقم اکھٹی کر کے ہلال احمر کے ذریعہ مجاہدین کے لئے بھجوائی[8] تحریک خلافت میں گم کردہ راہ لیڈروں کی کجروی پر بہت افسوس کیا کرتے تھے۔ آپ نے کھل کر بعض مسائل میں شرعی نقطۂ نظر سے اختلاف کیا اور طعن و تشنیع کی پرواہ کئے بغیر اپنے موقف کو واضح طور پر پیش کیا۔آپ گاندھی ی قیادت کو سخت نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے،ان لوگوں پر تعجب ہے کہ ایک طرف تو انگریزوں سے لاتعلقی کرتے ہیں اور دوسری طرف مشرکین ہنود سے اتحاد اور داد کے حامی ہیں جو انگریزوں سے بھی زیادہ دشمن اسلام ہیں۔اسی طرح جب لیڈروں نے ہندئوں کے فریب میں آکر سادہ لوح مسلمانوں کو انگریز کے مقبوضہ علاقوں سے ہجرت کر کے افغانستان چلے جان ے کا مشورہ دیا  اور لوگ جوق در جوق ترک وطن کرنے لگے تو اس موقع پر بھی آپ نے قوم کی صحیح رہنمائی کی اور ترک وطن سے ممانعت کی[9]

اور فرمایا:۔

’’وہاں اتنی گنجائش کہاں ہے کہ سب لوگ سما سکیں،خواہ مخواہ خود بھی پیرشان ہوں گے اور مسلمانون کے بادشاہ کو بھی تکلیف دیں گے اس سے مسلمانون کے دشمنوں کو خوشی ہوگی۔‘‘

          اسی دوران سندھ میں فتنۂ نجدیت نے سر اٹھایا،اس کی سر کوبی کے لئے بھی آپ نے گراں قدر خدمات انجام دیں [10] غرض اعتقادی،عملی،اخلاقی اور سیاسی امور مین قوم کی بر وقت راہنمائی کی اور ایک روشن دماغ،صائب الرأی قائد کے فرائض انجام دئے۔

          حضرت مولانا محمد حسن جان رحمہ اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا بے پناہ جذبہ رکھتے تھے۔ہر اس تحریک میں بڑھ کر حصہ لیتے جو اسلام اور مسلمانوں کی بہتری کے لئے شروع کی جاتی۔تحریک خلافت کے دور کا ایک واقعہ آپ کے فرزند ارجمند مولان پیر ہاشم جان رحمۃ اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان کیا:

’’جب تحریک خلافت شروع ہوئی تو اس وقت مولانا محمد علی جو ہر کی ہدایت پر سندھ میں اہل ثروت لوگوں سے چندہ جمع کرنے کے لئے حاجی عبد اللہ ہارون کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی،اس کیمیٹی کے افراد حاجی صاحب خود،حکیم فتح محمد اور مولانا صادق وغیرہ میرے والد ماجد محمد حسن جان سر ہدنی کی خدمت میں پہنچے اور اپنا مقصد بیان کیا۔والد محترم نے فرمایاکہ خلافت اسلامیہ کے احیاء اور انگریز حکومت سے مسلمان ممالک کی آزادی کے لئے ضرورت بات کی ہے وہ جسمانی جہاد کی ہے،مالی جہاد جسمانی جہاد سے بہت فروتر ہے۔

اس کے بعد فرمایا کہ م یں گھر جاکر دیکھتا ہوں،گھر میں جو رقم ہوگی وہ لاکر پیش کرودوں گھا،اس وقت کا غذ کے نوٹ نہیں تھے، اشرفیوں کی صورت میں روپیہ جمع رہتا تھا چنانچہ والد محترم بھری ہوئی تھیلیاں اٹھواکر لائے،کمیٹی کے ممبروں کے حوالے کردیں اور فرمایا: میرے گھر میں دس ہزار روپیہ سے کچھ زائدتھے وہ سب آپ کے حوالے کر رہا ہوں،انہوں نے ایک آنہ بھی گھر میں نہیں چھوڑا تھا، پورے برصغیر میں یہ مالی قربانی کی اس طرح کی پہلی مثال تھی جو والد محترم نے پیش کی[11]

          مولانا محمد حسن جان رحمہ اللہ تعالیٰ نے تحریک پاکستان کے سلسلے میں مسلم لیگ کی بھر پور امداد کی،مریدین کو مسلم لیگ کے حق میں ووٹ ڈالنے کا حکم دیا اور با اثر لوگوں کو خطوط لکھ کر مسلم لیگ کی حمایت کا حکم دیا۔ذیل میں ااپ کے ایک فارسی مکتوب کا ترجہ پیش کیا جا رہا ہے:

مخلصین مکرمین و ڈیر ہ محمد قاسم،وڈیرہ عبد اللہ وقاضی جان محمد سلمہم ربہم بعد از دعائے خیر تم مخلصین کو بہ طور نصیحت لکھا جاتو ہے کہ الیکشن کے سلسلہ میں اسلام کے مددگار بنو اور کافر ہندئووں کی رفاقت سے الگ ہو جائو کیونکہ یہ ہندئووں کا مسلمانون سے مقابلہ ہے۔سید اکبر علی شاہ کو مسلم لیگ کا ٹکٹ دے دیا گیا ہے اس لئے تم پر لازم ہے کہ ان کی مخالفت سے دستبردار ہو جائو اور جس قدر ممکن ہو امداد کرو۔ والسلام

۶؍ماہ صفر ۲۵ھ     فقیر محمد حسن جان عفی عنہ[12]

          سندھ میں یہ مقولہ مشہور تھا کہ:

’’پیر سر ہندی سندھ کا بے تاج بادشاہ ہے۔‘‘

چناچنہ آپ کی امداد واعانت سے مسلم لیگ نے سندھ میں زبر دست کامیابی حاصل کی۔

          مسجد منزل گاہ،سکھر کو ہندئووں کے قبضے سے واگزار کرانے کی تحریک چلی تو آپ نے دو صاحبزادوں،مولانا عبد اللہ جان اور مولانا عبد الستار جان کی قیادت میں ہزاروں مریدین کو سکھر بھیجدیا جنہوں نے مسجد کی واپسی تک تحریک میں پر جوش حصہ لیا۔

          سندھ میں لواری بہت بڑی گدی ہے،وہاں کے مشائخ دینی اور قومی خدمات کی بنا پر زبر دست شہرت کے حامل رہے ہیں۔قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل بعض لوگوں نے مشہور کردیا کہ جناب احمد زمان سجادہ نشین لواری شریف نے عرس کے موقع پر حج کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور مریدین کو یہ تاثر دیا ہے کہ مکہ،مدینہ جانے کی بجائے یہیں حج کرلیا کریں،مکہ کا سارا نور لواری شریف میں منتقل ہوگیاہے،حضرت خواجہ محمد حسن جان رحمہ اللہ علیہ کو یہ اطلاع پہنچی تو انکے ایماء پر ہزاروں مریدین کفن بردوش میدان میں نکل آئے۔جب انگریز حکومت نے دیکھا کہ مسلمان اس مسئلہ پر خون بہانے کے لئے تیار ہیں تو سرکاری طور پر پابندی کا اعلان کردیا[13]

          حضرت مولانا کو دینی اور علمی کتب کے مطالعہ سے بے حد شغف تھا،اپنے اکثر اوقات تصنیف و تالیف میں صرف فرماتے تھے۔آپ کا ذاتی کتب خانہ مطبوعہ اور غیر مطبوعہ نادرو نایاب کتب کا بہترین ذخیرہ ہے۔آپ نے اس دور کی اعقادی آویزش کو ختم کرنے کے لئے نہایت اہم کتابیں لکھیں۔آپ نے دیگر موضوعات پر بھی قلم اٹھایا اور فضیلت علمی کے قابل قدر جواہر پارے یادگار چھوڑے۔ آپ کی تصانیف یہ ہیں:۔

۱۔  شفاء الامراض (عربی) جملہ امراض کے لئے کتب طبیہ کی ترتیب پر تعویذات اور وظائف پر مشتمل ہے۔

۲۔  انیس الارواح والد ماجد حضرت خواجہ عبد الرحمن فاروقی قدس سرہ کی سوانح حیات ہے ۔اس میں مشائخ عظام کا اجمالی تذکرہ اور سلوک طریقۂ نقشبندیہ کے ابحاث شریفہ درج ہیں۔(مطبوعہ مطبع مجددی امر تسر ۱۳۲۸ھ)

۳۔  انساب الانجاب : کاندان مجددیہ کا تذکرہ (مطبوعہ مطبع مشہور عالم،لاہور)

۴۔  انساب الانجاب : خاندان مجددیہ کا تذکرہ(مطبوعہ مطبع مشہور عالم ،لاہور)

۵۔  الاصوال[14]

۶۔  طریق النجاۃ مع رسالہ التنوری فی اثبات التقدیر (عربی) رد نیچریت۔

۷۔  العقائد الصحیحہ فی بیان مذہب اہل السنۃ والجماعۃ: علماء بریلی اور دیوبند کے اختلافی مسائل پر تبصرہ اور مسلک اہل سنت و جماع کی تائید۔

(مطبوعہ مطبع الفقیہ امر تسر)

۸۔  رسالہ تہلیلیہ: کلمۂ طیبہ کی شرح (مطبوعہ مطبع الفقیہ امر تسر)

۹۔  تذکرۃ الصلحاء فی بیان الاتقیاء : ان اولیاء و صالحین کا تذکرہ جن سے عرب شریف، سندھ،خراسان اور ہند میں آپ کی ملاقات ہوئی(مطبوعہ مطبع نظامی کانپور ۱۳۴۸ھ)

۱۰۔  شرح حکم شیخ عطاء اللہ سنکدری (مطبوعہ ۱۳۵۷ھ) علم توحید اور سندے کے اپنے رب کے ساتھ تعلقات کی مکمل تشریح۔

۱۱۔  پنج گنج:  اس میں پانچ رسالے ہیں،

(۱)سفر حجاز کی تفصیلات۔

(۲)شرح چہل کاف۔

 (۳) مناسک حج۔

(۴)مجموعۂ احادیث،جو آپ کو مکہ مکرمہ میں شیخ سید محمد ابو نصر و مشقی سے حاصل ہوئیں مع خطبات نبویہ۔

(۵) دینی دنیاوی نصائح۔

۱۲۔  سفر نامۂ عربستان۔

۱۳۔  الاشارۃ الی البشارۃ ،التحیات میں اشارہ نہ کرنے کی تائید و تحقیق۔

۱۴۔  رسالہ فی با صحۃ الجمعۃ نے القریٰ: دیہاتوں اور قصبوں میں جواز جمعہ کے متعلق فتوے ۔

۱۵۔  لغات القرآن: قرآن پاک کے مشکل الفاظ کی تفسیر ۔

۱۶۔  رسالہ درقواعد تجوید و قرأت[15]

          حضرت مولانا شعروشاعری کا عمدہ ذوق رکھتے تھے،عری اور فارسی میں اظہار خیال کرتے تھے۔اگر چہ اس طرف میلان طبع بہت کم تھا اور کوئی شعری ذخیرہ بھی یادگار نہیں چھوڑا لیکن آپ کے کلام کی سلاست،روانی اور پختگی،بلندیٔ فکر کی غماز ہے،مدینہ طیبہ کی تعریف میں لکھتے ہیں:

زاد صاف مدینہ ہر چہ گویم،قطرہ ازدریااست

عفاف آنجا کفاف آنجا صلوٰۃ آنجا زکوٰۃ آنجا

خداوند اعطا کن بندئہ خود را لبفضل خود

قیام آنجا مقام آنجا حیات آنجاممات آنجا

اگر خواہی کہ بینی جنت الماوے دریں عالم

نشیں دور روضۂ اطہر بخواہ از حق نجات آنجا[16]

          ۲؍رجب،۲ جون ۱۳۲۵ھ؍۱۹۴۶ء کو آپ کا وصال ہوا اور کوہ گنجہ (مضافات حیدر آباد)کے دامن میں والد ماجد کے مزار کے پہلو میں محو خواب ابدی ہوئے۔آپ کا مزار پر انوار مرجع خاص وعام ہے۔جناب صاحبزادہ محمد سلیم جان مجددی نے ’’نغفرلہ‘‘ (۱۳۲۵ھ) سے تاریخ وفات نکالی ہے۔آپ کے فرزند اجمند حضرت مولانا عبداللہ[17] افسوس حضرت شاہ آغا صاحب ۱۹۷۳ء میں وصال فرماگئے۔آپ بھی اپنے وت کے فال جلیل اور ولی  کامل تھے او فی زمانناہذا تقویٰ میں یدانہ روز گار تھے۔آپ کی متعدد تصانیف ہیں۔آپ کا کتب خانہ قلمی نواردرات اور نادر مطبوعات سے معمور ہے اور قابل دیدہے ۔آپ کا مزار مبارک والد ماجد حضرت خواجہ محمد حسن جان علیہ الرحمۃ کے پہلو میں ہے اور یک ہی گنبد میںیہ تین فضلائے وقت آرام فرما ہیں یعنی حضرت خواجہ عبد الرحمن ،حضررت خواجہ محمد حسن جان اور حضرت شاہ آغا علیہم الرحمۃ ۔حضرت شاہ آغا صاحب کے جانشین صاحبزادہ علی جان مدظلہ العالی ہیں جو بڑئے متورع اور متقی ہیں،عمر شریف ۶۰سال کے لگ بھگ ہے۔(بشکر یہ پروفیسر محمد مسعود احمد ایم اے،پی ایچ ڈی)

نوٹ: ۱۹۷۵ء میں حضرت مولانا محمد حسن جان سر ہندی قدس سرہ کے قابل صد فخر فرزند اور سندھ کے مانور عالم و فاضل بزرگ پیر ہاشم جان رحمہ اللہ تعالیٰ فرماگئے،ان کے حالات دوسری جگہ ملاحظہ فرمائیں۔(شرف قادری) جان المعروف بہ شاہ آغارحمہ اللہ تعالیٰ سجادہ نشین ہوئے۔

 

 

[1] محمد مسعود احمد،پروفیسر: تذکرہ مظہر مسعود،مطبوعہ کراچی ص ۴۴۰

[2] عبد اللہ جان المعروف بہ شاہ آغا،مولانا: مونس المخلصین (۱۳۶۶ھ)ص۷۔۱۵

[3] عبد اللہ جان المعروف بہ شاہ آغا،مولانا: مونس المخلصین: ص۵۹۔۲۳

[4] ایضاً: ص : ۲۷۔۲۸

[5] ایضاً: ص : ۱۷۱۔۱۷۲

[6] عبد اللہ جان المعروف بہ شاہ آغا: مونس المخلصین ۱۷۸۔۱۸۰

[7] ایضا!: ص ۱۷۴۔۱۷۸،بصر الدین سیوستانی،مخدوم مولانا تقریظ الاصول الاربعہ،

مطبوعہ ترکی ۱۹۷۵ئص ۱۲۵

[8] عبد اللہ جان : مونس المخلصین: ص ۱۹۲۔۱۹۷

[9] تحریک ترک موالات اور تحریک ہجرت کے بارے مین آپ کاموقف وہی تھا جو اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کا تھا،تفصیل کے لئے دیکھئے’’فاضل بریلوی اور ترک موالا ت‘‘ شائع کردہ مرکزی مجلس رجا لاہور (از پروفیسر محمد مسعود احمد )

 

[10] عبد اللہ جان المعروف بہ شاہ آغا:۔ مونس المخلصین: ص ۱۹۷۔۲۰۲

 

[11] محمد موسی بھٹو،حافظ: (سندھ کے عظیم پیر ہاشم جان سر ہندی سے خصوصی ملاقات) ہفت روزہ اداکر ۲۰؍تا۲۶؍جولائی ۱۹۷۵ء ، ص ۲۴

 

[12] عبداللہ جان المعروف بہ شاہ آغا،مولانا: مونس المخلصین ،ص۲۰۴

 

[13] محمد موسیٰ بھٹو،حافظ: ہفت روزہ ادا کار،لاہور،۲۰؍تا۲۶ جولائی ۱۹۷۵ء ،ص ۲۴۔۲۵(انٹر ویو پیر ہاشم جان سرہندی)

[14] یہ وکتب حضرت علامہ مولانا حسین علمی مدظلہ العالی کی سعی سے مکتبہ الشیق ترکی سے چھپ گئی ہیں مولائے کریم انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین

[15] عبد اللہ جان،المعروف بہ شاہ آغا: مونس المخلصین،ص۷۲۔۸۸

[16] ع ایضاً : ص ۱۰۷ء

[17] ع ایضاً : ص ۱۰۷ء

(تذکرہ اکابرِاہلسنت)

مزید

تجویزوآراء