حضرت مولانا شاہ سید محمد کچھوچھوی

حضرت مولانا شاہ سید محمد کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اسمِ گرامی:  محدثِ اعظم  کا اسم ِ گرامی سید محمد  اور آپ کے والد ماجد کا نام حکیم نذر اشرف تھا۔(رحمۃ اللہ علیہما)

تاریخ ومقامِ ولادت: محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 15 ذو القعدہ 1311 ھ  کو جائس، ضلع رائے، بریلی میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:محدث ِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی ، والدِ ماجد کے بعد جب مختلف اساتذہ سے علوم وفنون حاصل کرتے کرتے اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی بارگاہ میں پہنچے تو امامِ اہلسنت نے محدثِ اعظم کو آسمانِ علم کا ایسا درخشاں ستارہ بنایا کہ جس کی چمک سے کثیر لوگوں نےاستفادہ کیا۔

بیعت وخلافت:  محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نانا شیخ الاصفیاء، محبوبِ ربانی، قطبِ عالم شاہ علی حسین اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کے ایماء مبارکہ سے اپنے ماموں ملک العلماء، عارفِ ربانی مولانا شاہ احمد رحمۃ اللہ علیہ سے مرید ہوکرتکمیلِ سلوک کیا۔ اس کے بعد اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ  نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت بھی عطا کردی۔

سیرت وخصائص: محدثِ اعظم، وحید العصر، شمس الافاضل، قدوۃ العلماء الراسخین،  حضرت مولانا شاہ سید محمد کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ   علم و عمل کے پیکر ، باکرامت ولی ، شیخِ کامل  اور زہد وتقوی ٰ کے حامل شخص اور صفاتِ حمیدہ کے  جامع  تھے۔آپ نے اپنے فیض سے ایک عالم کو مستفیض کیا، تقریباًپانچ ہزار غیر مسلم آپ کے دستِ مبارکہ پر مشرف بہ اسلام ہوئے، لاکھوں افراد نے آپ کی بیعت کی، خطابت میں خاص اثر تھا مجمع پر سکوت رہتا، درجنوں کتابیں تالیف کیں، چار بار حج وزیارت سے مشرف ہوئے ۔ آپ اعلیٰ درجہ کے ناظم وناثر بھی تھے، مجموعۂ کلام" فرش پر عرش"طبع ہوچکی ہے۔آپ نے قرآنِ پاک کا ترجمہ بھی کیا تھااس ترجمہ کے ابتدائی حصہ کو ملاحظہ کرنے کے بعدبطورِ تحسین امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا  خان نے آپ سے فرمایا:" شاہزادے اردو میں قرآن لکھ رہے ہو"۔تدبر اور اصابتِ رائے وصفِ خاص تھا۔چھوٹے سے چھوٹے کی اتنی دلجوئی وتعریف کرتے کہ وہ خوش فہمی میں مبتلا ہوجا۔علمائے اہلسنت کے درمیان اتحاد کے علمبردار تھے۔ آل انڈیا سنی کانفرنس کے اجلاس  بنارس کے موقع پر بالاتفاق صدر عمومی مقرر کئے گئے۔جماعت رضا ئےمصطفیٰ بریلی کے تاوقتِ وفات  صدرِ اعلی رہے۔اہلسنت کی نشراشاعت میں آپ نے اپنے اکابرین کی طرح بہت جد جہد سے کام لیا ،سنیت کا درد ہمیشہ آپ کے مبارک سینے میں موجزن رہتا۔آپ نے ہر طرح باطل کا مقابلہ کیا اور اپنی تقریر وتحریر کے ذریعہ امتِ مسلمہ کے عقائد کو بگاڑ سے بچایا۔

تاریخِ وصال: محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17  رجب المرجب 1383 ھ/بمطابق دسمبر 1963 ء کو بمقام لکھنؤ میں ہوا۔

ماخذ ومراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت

تجویزوآراء