سید العلماء حضرت علامہ مفتی شاہ آل مصطفی سید میاں مارہروی

سید العلماء حضرت علامہ مفتی شاہ آل مصطفی سید میاں مارہروی علیہ الرحمہ

نام ونسب:سید العلماء ، سید آل ِمصطفی ٰبن سید آل عباء ،بن سید شاہ حسین، بن سید شاہ محمد حیدر۔الیٰ آخرہ(علیہم الرحمہ)

تاریخ ِ ولادت:25رجب المرجب1333ھ/9جون1915ءبروزبدھ،مارہرہ مطہرہ،(انڈیا)میں ہوئی۔

تحصیل ِعلم: آپ جب چار سال چار ماہ چار دن کےہوئے  تو سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دستِ مبارک کی تحریر کی ہوئی بسم اللہ شریف  سےتسمیہ خوانی  کا آغاز کیا جو کہ مارہرہ  خاندان میں موجود ہے۔حفظ قرآن سات آٹھ برس کی چھوٹی سی عمر میں والدہ ماجدہ اور حافظ عاشق علی صاحب برکاتی اور حافظ سلیم الدین صاحب علیہ الرحمۃ سے مکمل کیا۔ فارسی کی پہلی کتاب اپنی والدہ ماجدہ سے پڑھی۔ نانا جان اور خالو محترم سید شاہ اولاد رسول محمد میاں صاحب علیہ الرحمۃ سے علوم درسیہ مروجہ کا اکتساب کیا ۔بقیہ جمیع علوم کی تکمیل اجمیر مقدس میں حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ  سے  کی۔ آپ دینی علوم کیساتھ ساتھ عصری علوم سے بھی بہرہ  ورہوئے۔طبیہ کالج ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ادویہ ہندی و یونانی  وغیرہ اور عمل جراحی میں ڈی آئی ایم ایس میں ڈپلومہ حاصل کیا ۔

بیعت و خلافت:نانا جان حضور سید شاہ ابو القاسم اسماعیل حسن شاہ جی میاں قدس سرہ

سیرت وخصائص: جلیل القدر، دوربین، دور اندیش، نکتہ داں، حق گو، حق آگاہ، حق بیں، حق شناس، حقیقت بیان، صداقت شعار، سراپا ایثار، پرتوِ  حیدر کرار ،حق بیانی، شیریں مقالی یہ تمام صفات جن کی ذات کا جزو لاینفک تھیں وہ ہیں حضرت سید العلماء شاہ آل مصطفی ٰ (علیہ الرحمۃوالرضوان)۔آپ بیک وقت عظیم  محدث، مفسر، مفتی، نعت گو شاعر، حاذق حکیم، مدبر، اسلامی سیاست داں اور اعلیٰ تنظیمی صلاحیتوں کے مالک ،عابد شب زندہ دار ولی ِ کامل  تھے۔

شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں!دقیق سے دقیق علمی مباحث میں وہ نکتہ سنجیاں فرما تے کہ عقل دنگ رہ جاتی، اس وقت اعتراف کرنا پڑتا کہ" سید العلماء "کا خطاب ان کے قامت زیباہی کے لیے وضع ہوا ہے۔آپ کے مبارک سینے میں علوم وفنون کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا، مناظرہ میں امام المناظرین، گفتگو میں سید المتکلمین، تحریر وتقریر کے مانے ہوئے بادشاہ اور قادر الکلام تھے، ایک ہی موضوع پر مختلف عنوانات اور متعدد پیرائے سے بیان آپ کے لیے معمولی بات تھی۔(حضورسیدالعلماء،ص:۱۲)

وصال:

ماخذومراجع:حضور سیدالعلماء۔

تجویزوآراء