امام المحدثین حضرت شاہ وصی احمد محدث سورتی

امام المحدثین  حضرت شاہ وصی احمد محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب: اسمِ گرامی:وصی احمد۔لقب:شیخ المحدثین۔علاقہ"سورت"کی نسبت سے سورتی کہلاتے ہیں۔سلسلۂ نسب اسطرح ہے: مولانا وصی احمد محدث سورتی بن مولانا محمد طیب بن مولانا محمد طاہربن محمد قاسم بن محمد ابراہیم۔(علیہم الرحمہ)آپ علیہ الرحمہ کا شجرۂ نسب  صحابیِ رسول،حضرت سہیل بن حنیف  رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ اور آپ اپنے نام کے ساتھ حنفی اور حنیفی لکھا کرتے تھے۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1252ھ،مطابق 1836ءکو"راند یر" ضلع سورت، ہند وستان میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم اپنے والدِگرامی مولانا محمد طیب سورتی سے حاصل کی۔ مسجدِ فتح پور دہلی میں قیام کیا۔ اُس وقت مسجد فتح پور میں حضرت مفتی محمد مسعود محدث دہلوی درس و تدریس میں مصروف تھے۔ اُن کے ہی مشورے پر مدر سۂ حسین بخش میں داخلہ لیا اور علماء و فضلاء سے صرف و نحو، تفسیر و تراجم اور دیگر قرآنی علوم حاصل کیے اور ایک سال بعد 1279ھ میں" مدرسۂ فیض عام" کانپور میں داخلہ لیا اور تمام علوم میں فراغت حاصل کی۔طب کی تعلیم  حکیم عبدالعزیزلکھنوی سے حاصل کی۔ آپ کےاساتذہ میں یہ نابغہ ٔروزگارہستیاں ہیں۔حضرت مولانا مفتی لطف اللہ علی گڑھی﷫،حضرت مولانا احمد حسن کانپوری،حضرت شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی،حضرت مولانا محمد علی مونگیری﷫،حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری۔(علیہم الرحمہ)

بیعت و خلافت: اویسِ دوراں حضرت شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی علیہ الرحمۃ ﷫ سے دوران تعلیم بیعت ہوئے اورتکمیلِ ریاضت کے بعد خلافت سر فراز ہوئے۔

سیرت وخصائص:امام المحدثین،استاذالمدرسین،جامع علومِ نقلیہ وعقلیہ،فقیہِ کامل،حامیِ سنتِ،دافعِ بدعت،محسنِ اہلِ سنت،محبِ اعلیٰ حضرت،وحیدالعصر،خادم الفقہِ والحدیث،شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا شاہ وصی احمدمحدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ سراپا علم وحکمت تھے۔تمام علوم پرمہارتِ تامہ  حاصل تھی۔باالخصوص فنِ حدیث میں وحیدِ زمانہ تھے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ علم وفضل،تقویٰ وعمل میں  اپنے اسلاف کی تصویرتھے۔آپ نےانتہائی سادہ، نیک، باوضع، اور با اخلاق مزاج پایا تھا۔ لباس سادہ استعمال کرتے تھےاور معمولی غذا استعمال کرتےتھے۔طلبہ سےبے پناہ محبت کرتے تھے۔غریب طلبہ کی مالی اعانت فرماتےتھے۔عام مسلمانوں سے ہمدردی سے پیش آتےتھے۔

 آپ کو غرور،وتکبر،اورغیبت،و بُرائی،سےشدیدنفرت تھی۔تصوف سے خاص لگاؤ تھا،مگرخانقاہی زندگی اور ترک ِدنیا سے ہمیشہ گریزاں رہے۔ آپ کا دل مسجد و مدرسہ میں زیادہ لگتا تھا۔آپ سنت کی پابندی کو سب سےبڑی کرامت اور فقیری فرماتے تھے۔قطب الاقطاب حضرت شاہ فضل رحمن گنج مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ  زمانۂ طالبِ علمی میں مولانا وصی احمد  پر خصوصی عنایت فرماتے اور دیگر طالب علموں سے کہتے کہ ان کی عزت کیا کرو  یہ ہندوستان  میں فرمانِ رسولِ مقبول ﷺکے محافظ قرار پائیں گے۔ مولانا وصی احمد جب حصن حصین کے درس سے فارغ ہوئے تو شاہ فضل رحمن نے آپ کو خلافت عطا کی اور فرمایا کہ علم کے اظہار میں کبھی بخل نہ کرنا اور حق بات چاہے اپنے اور دوسروں کے حق میں کتنی ہی کڑوی کیوں نہ ہو عوام الناس کی فلاح کیلئے عام کرنا۔ 

خدمتِ دین: اللہ جل شانہ  نےآپ کو بہت سی صلاحیتوں سے نوازاتھا۔ہر معاملہ میں علمی نکتے نکالنا اور ہرمسئلہ کو ایک خاص نقطۂ نظر سے پرکھنا آپ کا معمول تھا۔مطالعہ کا اس قدر شوق تھا کہ ایک ایک کتاب کو کئی کئی مرتبہ پڑھتے حتیٰ کہ وہ حفظ ہوجایا کرتی تھی۔ حدیث و فقہ کی اکثر کتب درسیہ آپ کو زبانی یاد تھیں۔ محدثین کے سلسلے ازبر تھے۔ آپ علیہ الرحمہ نے  پیلی بھیت میں"مدرسۃ الحدیث" کی بنیادرکھی۔اس کاسنگِ بنیادرکھنے کےلئے اس وقت کی عظیم شخصیت مجدداسلام حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو مدعوکیاگیا۔علمائے ہندوستان کی موجودگی میں امام اہلسنت نے فنِ حدیث پر  تین گھنٹے بیان فرمایا۔جس پرعلماءِکرام عش عش کراٹھے۔حضرت محدث سورتی ہروقت درس وتدریس،تصنیف وتالیف میں مصروف رہتے تھے۔ علوم وفنون کے علاوہ آپ نے مستقل چالیس برس حدیث شریف کا درس دیا۔آپ کےدرسِ حدیث کی دور دور تک شہرت تھی۔دہلی،سہارنپور،کانپور،رامپور، جون پور،علی گڑھ،بنگال،سرحد،اور لاہورسےتحصیل ِعلوم کی غرض سےطلبہ آپ کےدرس حدیث میں شرکت کےلیےپہنچتے تھے۔نماز فجر کے بعد سے ظہر تک اور ظہر سے آدھی رات تک اور کبھی اس سےبھی زیادہ وقت تک درس جاری رہتا تھا، ہر وقت آپ با وضو رہتے تھے۔عشقِ رسول کریم ﷺکا یہ حال تھا کہ درس میں حضور ﷺکا نام نامی ادا کرنےکےبعد قدرے توقف فرماتےتھے،اورآنکھوں سے اشک رواں ہوجاتے تھے۔درسِ حدیث میں مولانا  احمد علی محدث سہارنپوری  آپ کو اپنا جانشین کہتےتھے۔

اصلاح عقائد کی جد و جہد: تیرہویں صدی کے اواخر اور چودھویں صدی کے شروع میں محکوم ہندوستان میں زندگی بے لگام گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑ رہی تھی۔ طمع اور لالچ نے وہ جال پھیلا یا تھا کہ ہرشخص اپنے پیر چادر سے باہر دیکھنے کا آرزومند تھا۔ نت نئے مسائل اور جدّت طبع کی فراوانی تھی۔ خصوصاً مسلمانوں میں حمیت دینی روزبہ زوال اور نفس پرستی عام ہور ہی تھی۔ ایسی فضا میں کسی عالم کا روشِ دنیا سے علیحدہ رہنا اور اپنے حالات پرقناعت اختیارکرنا کرامت سے کم نہ تھا۔ پورے ہندوستان میں مغربی افکار کوفروغ دیا جارہا تھا اور کتاب و سنت کو مسجدوں اورحجروں تک محدود کرنے کی سامراجی سازش اپنے ہی دینی بھائیوں کے ہاتھوں پروان چڑھ رہی تھی اس سازش کے پیر جمانے میں مصلحت کوش علماء ، بے دین دانشور اور جاہل عوام سب ہی یکساں مصروف تھے۔ اعمالِ شریعت اور اوصافِ طریقت پر شرک و بدعت کا لیبل لگا کر سنت ِاسلاف پرعمل کرنے والوں کو کافروبدعتی ٹھہرایا جا رہا تھا۔ مصلحت کا یہ حصار کچھ اس قدر وسیع تھا کہ اس میں خود بہت سے نام نہاد صاحب شریعت و طریقت گرفتار تھے۔

سامراجی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کی اس کوشش میں بعض نا عاقبت اندیش علماء تو اس حد تک آگے بڑھ گئے کہ انہوں نے خاتم النبیین حضرت محمد ﷺکے اسمِ گرامی کی ادائیگی کو بھی حاضر و غائب کی شرط لگا کرمحدودکر دینا چاہا۔ اظہارِ عقیدت کے ذرائع مسدودکر دینے کی ہاں تک جسارت کی گئی کہ اساتذہ کی دست بوسی بھی خلافِ شریعت قرار پائی۔ غیر فطری سوالات اور مسائل اٹھائے گئے ۔ نماز میں رسولِ مقبول ﷺ کا خیال آنا جائز ہے یا ناجائز،رسول اللہ ﷺکو علم غیب تھا یا نہیں۔ بعد از نماز پیش امام سے مصافحہ کرنا مکروہ ہے یا مسنون،بعد ازتلاوت قرآن حکیم کو بوسہ دینا حرام ہے یا حلال،غرض کہ مسلمانوں کے سامنے مذہب کو نہایت تنگ و تلخ بنا کر پیش کیا گیا تاکہ مسلمان اکتاہٹ کا شکار ہو کاس روحانی قوت سے کٹ جائیں جو تیرہ سو سال سے ان کی سرخروئی اور افضلیت کا باعث بنی ہوئی تھی۔

چنانچہ مولانا وصی احمد محدث سورتی نے اس فتنہ کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے علمی کاوشوں کا جال بچھا دیا اور ہرممکنہ وسائل کو بروئے کار لا کر عوام الناس کو اصول مذہب سے روشناس کرایا۔ سامراجی حکمرانوں کی سر پرستی میں اٹھائے گئے تمام سوالات کا مفصل جواب دیا اور ان تمام عقائد باطلہ کا رد فرمایا جو اختلافِ امت اور ترکِ مذہب کا باعث بن رہے تھے۔ مولانا وصی احمد محدث سورتی نے جو درس حدیث کے ساتھ تصنیف و تالیف کی جانب بھی مکمل توجہ دے رہے تھے اصول حدیث اور مسائل فقہ کو عام کرنے اور عوام الناس کو صحیح العقیدہ بنانے کیلئے متعدد مذہبی کتابوں پر حواشی لکھے، اورمختلف مسائل پر فتاویٰ رسائل کی صورت میں شائع کرائے۔ اور کذب و اختراع کی دیوار پر برابر کاری ضربیں لگاتے رہے۔

وصال:  آپ کاوصال8/جماد ی الاوّل 1334ھ ،مطابق12/اپریل 1916ء،بروزبدھ،بمقام پیلی بھیت میں ہوا۔ تاریخ وفات: اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ نے قرآن حکیم کی درج ذیل آیتِ کریمہ سے تاریخِ وفات نکالی۔ یطاف علیھم بانیۃ من فضہ واکواب ۔1334ھ

ماخذومراجع:  تذکرہ علمائے اہلسنت۔تذکرہ محدث سورتی۔          

 

 

مزید

آپ پر تحقیق   (1)

تجویزوآراء