قطب مکہ مکرمہ شیخ الدلائل حضرت علامہ شیخ عبد الحق الہ آبادی مہاجر مکی

قطب مکہ مکرمہ شیخ الدلائل حضرت علامہ شیخ عبد الحق الہ آبادی مہاجر مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام ونسب: اسمِ گرامی:محمد عبدالحق۔لقب:شیخ الدلائل،قطبِ مکۃ المکرمہ۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: محمد عبدالحق بن شاہ محمد بن یار محمد مہاجر مکی(علیہم الرحمہ)۔آپ صدیقی  النسب تھے۔

تاریخِ ولادت:  آپ علیہ الرحمہ 1252ھ بمطابق 1836ء میں الہ آباد (انڈیا) میں پیداہوئے۔

تحصیلِ علم: مولانا تراب  علی لکھنوی اور مولانا عبد اللہ صاحب  وغیرہ سے درسیات پڑھیں۔ایک وقت آیا کہ آپ مفسر،محدث  متکلم اور اپنے وقت کے عظیم فقیہ وصوفی،اور شیخ الدلائل کے لقب سے مشہور ہوئے۔

بیعت وخلافت: حضرت مولانا  عبد اللہ  صاحب  گور کھپوری سے بیعت  ہوئے۔

سیرت وخصائص: آپ مفسر، فقیہ حنفی  اور اس کے اصول کے عالم و فلسفی اور تصوف میں  سیدنا  محی الدین  ابن  عربی  قدس سرہ کے طریقہ پر تھے۔ ہندوستان میں تعلیم پائی،1283ھ میں حج  کیا  اور چار سال مدینہ طیبہ میں اقامت پزیر رہے، پھر مکہ معظّمہ میں سکونت اختیار کی ، شیخ  الدلائل کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کے حجاج آپ سے بیعت اور دلائل  شریف کی  اجازت حاصل کرتے۔   آپ بہت بڑے ولی  اللہ، عالم باعمل ، متقی شب زندہ  دار اور بہت عبادت گزار  بزرگ  تھے۔ اہل مکہ  مکرمہ  آپ کو قطب مکہ مکرمہ کہا کرتے تھے۔ اما م اہلسنت  مولانا شاہ احمد رضاخاں قادری قدس سرہ دوسرے  سفر حج میں آپ کی قیام  گاہ  پر بار بار  حاضر ہوئے۔

سیدنا  امام احمد  رضاقادری  قدس سرہ  فرماتے ہیں :فقیر دعوتوں کے علاوہ صرف چار جگہ ملنے کوجاتا ہے۔مولانا شیخ صالح  کمال ، شیخ العلماء محمد سعید  ،اور مولانا عبد الحق  مہاجر  الہٰ آبادی  اور کتب خانے میں مولانا سعید اسمعٰیل کے پاس۔ (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)

حضرت مولانا  عبد الحق  الہٰ آبادی کو چالیس  سال سے زائدمکہ معظّمہ  میں  گزرے تھے، کبھی شریف  (حاکم)کے ہاں   تشریف  نہ لے گئے۔مولانا اسماعیل وغیرہ ان کے تلامذہ  فرماتے تھے:کہ یہ محض خرق عادت ہے۔مولانا کا دم  بہت غنیمت تھا،  ہندی تھے  مگر ان کے انوار مکہ   مکرمہ میں چمک رہے تھے ۔ التز اماً   ہر سال حج کرتے۔مولانا سید  اسمٰعیل  فرماتے  تھے: کہ ایک  سال زمانہ  حج میں حضرت مولانا  عبد الحق صاحب بہت علیل  اور صاحب فراش تھے ، نویں  تاریخ  کواپنے تلامذہ سے کہا : مجھے حرم شریف میں لے چلو!کئی آدمی اٹھا کر لائے ، کعبہ معظمہ  کے سامنے بٹھایا ، زمزم  شریف منگا کر پیا اور دعا کی یاالہی !مجھےحج سے محروم نہ رکھ ! اسی وقت مولاتعالیٰ نے قوت  عطا فرمائی کہ اٹھ کر اپنے پاؤں سے عرفات شریف گئے اور حج ادا کیا۔ امام اہل سنت مجدد اعظم  احمد رضاخاں قادری قدس سرہ العزیز  مکہ مکرمہ  کے علماء  کا تذکرہ  کرتے ہوئےآپ   کے بارے میں یوں ارشاد فرماتے ہیں:علماء کی خدمت سے شرف  لو  خصوصا اکابر ، جیسے آج کل مولانا مولوی عبد الحق صاحب مہاجر الہٰ آبادی   آپ  حمید یہ محل  کے قریب  تشریف فرما اور مسلمانانِ  ہند  کے لئے  رحمت مجسم ہیں ۔

وصال: 16/شوال المکرم 1333ھ میں آپ کا وصال ہوا۔

تجویزوآراء