مفتی محمد حسن حقانی

مفتی محمد حسن حقانی  رحمۃ اللہ علیہ  

نام ونسب:  اسمِ گرامی:مفتی محمد حسن حقانی اشرفی۔والد کااسمِ گرامی:مفتیِ اعظم آگرہ مفتی عبدالحفیظ۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: مفتی حسن حقانی بن مفتی عبدالحفیظ حقانی بن مولانا عبدالمجید آنولوی  بن شیخ عبدالکریم بن شیخ عبداللہ۔(رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت ماہ دسمبر  1930ء /1949ھ کو "ٹانڈہ "ضلع فیض آباد یوپی ا نڈیا میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے گھرپرہوئی۔1337ء میں  دہلی سے حفظ قرآن کا آغازکیا۔1939ء،میں اپنےوالدکےساتھ آگرہ آگئے،اور یہیں سے 1942ء سےدرسِ نظامی کاآغازمدرسہ عالیہ آگرہ سےکیا۔اکثرکتب اپنےوالدِگرامی اورحضرت علامہ مفتی فضل الکریم بہاری سے حاصل کی۔1950 ء میں مولوی کاامتحان پاس کیا۔1952ءمیں مولوی عالم کاامتحان پاس کیا،1953ء میں انٹرمیڈیٹ کاامتحان پاس کیا۔1954ء ،میں پاکستان ہجرت فرمائی،اور1957ء تک پاکستان کے مختلف سرکاری اداروں میں ملازمت کرتے رہے۔جب آپ کےوالدِ گرامی کراچی سےملتان تدریس کےلئے تشریف لےگئے،تو آپ بھی مدرسہ انوارالعلوم ملتا ن میں داخل ہوکر وہاں کےجلیل القدر علماءکرام سےاکتساب ِ فیض حاصل کرنےلگے،جن میں غزالیِ زماں سید احمدسعید شاہ کاظمی،والدِماجد مفتی عبدالحفیظ حقانی،مفتی امید علی خاں خلیفۂ اعلیٰ حضرت ،علامہ مفتی مسعودعلی قادری،1960ء میں شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری سےصحاح ستہ کی سند حاصل کی۔(علیہم الرحمۃ والرضوان)

بیعت وخلافت:شیخ المشائخ شاہ علی حسین اشرفی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے۔

سیرت وخصائص: استاذ العلماء، مظہر ِعلم و دانش، صائب الرائے، عالی ہمت، صاحب عزیمت حضرت علامہ  مفتی محمد حسن حقانی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات پر نظر ڈالی  جائے تو ان کی زندگی کے متعدد گوشے ایسے  ملتے ہیں جو انسان کی نظر اور توجہ کو فوراً  اپنی طرف مائل کر لیتے ہیں اور دل و دماغ کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتے۔ زندگی کے یہی وہ رنگ ہوتے ہیں جو صرف سانس لینے سے نہیں بلکہ اس کے پیچھے کچھ اور حقائق ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں ہے بلکہ وہ تو تنفس کا ایک طبعی عمل ہے جو ہمیں موت سے بچا رہا ہے۔ جب کہ انسان کی پہچان، اس کی بقاء اوراس کا مقام کسی اور چیز پر موقوف ہے۔ جسے ہم انسان کہتے ہیں وہ محض خاک کا پتلا نہیں ہے جو ہوا کے دوش پر کھڑا ہے بلکہ انسان تو وہ ہستی ہے جس کی ایک حقیقت ہے، وہ تمام جانداروں میں اپنی پہنچان آپ ہے، اس کا اپنا تشخص ہے۔ اس کی جو ہریت بالکل مختلف ہے، وہ عظیم مقصدیت سے ہمکنار ہے، وہ علم و حکمت، فضل و کمال اور نور و بصیرت کے بے شمار امکانات سے بھرپور ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ انسان اپنی انسانیت کے ساتھ ہے ورنہ وہ صرف آدمی ہے۔؏:بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا۔۔۔آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا۔۔

اس حوالے سے جب ہم حضرت علامہ حقانی صاحب کی شخصیت کا جائزہ لیتے ہیں تو آپ کی شخصیت ہمیں گوناگوں خصوصیات، علمی و فکری کمالات اور علمی صلاحیتیوں کا حسین مرقع نظر آتی ہے۔آپ کی ذات گرامی ایک انجمن کی مانند تھی۔ آپ عظیم صاحب علم تھے۔ ہر معاملہ میں تدبر فراست عیاں تھی، صائب الرائے تھے، فکر گہری اور دور رس تھی، صاف گوئی سے کام لیتے۔  حق بات کہتے مگر حکمت و دانائی کے  تقاضوں کے ساتھ۔ آپ کی زبان نہایت فصیح تھی اور حافظہ غضب کا تھا۔ گفتگو فرماتے تو سارے پہلؤوں اور گوشوں کو سمیٹ لیتے۔ آپ کے انداز گفتگو میں نکتہ آفرینی بھی ہوتی  اور بذلہ سنجی بھی۔ بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت تھی، نیز یہ یاد رہتا کہ کس سے کیا بات ہوئی ہے۔ برس ہا برس کی باتیں یاد رکھتے، لوگ بھول  جاتے مگر آپ کو یاد رہتی تھیں۔ مجالس و محافل میں ان کی موجودگی ہر ایک بآسانی محسوس کر لیتا تھا۔ ان کی ذاتی خوبیاں ہر ایک  کی توجہ کو اپنی طرف مائل کر لیتی تھیں، حالات پر بھر پور نظر رکھتے تھے آپ ایک بہترین تجزیہ نگار اور مبصر بھی تھے۔ مطالعہ کا شوق اخیر  عمر تک رہا، اس لیے اخبارات و رسائل اور تجزیے، تبصرے سب پڑھتے رہتے تھے، ملکی و بین الاقوامی، سیاسی و مذہبی سرگرمیوں سے گہری دلچسپی تھی۔ آپ اک درد مند شخصیت تھے۔ آپ کے دل میں قوم و ملت اور امت مسلمہ کا درد چھپا ہوا تھا مزاج میں حدت رکھنے کے باوجود تعلقات کی قدر فرماتے تھے، بسا اوقات دل میں چھپے ہوئے جذبات آنسوؤں کا  روپ دھار لیتے  تھے۔ آپ کے پر خلوص اور فصاحت و بلاغت  سے لبریز انداز گفتگو سے کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا تھا۔

انتظامی صلاحیت:         قدرت نے آپ کو بھر پور انتظامی صلاحیت سے مالا مال کیا تھا۔ آپ ایک مذہبی عالم ہی نہیں بلکہ زبردست منتظم بھی تھے۔ نظم و ضبط کی باریکیوں اور اس کے تقاضوں سے خوب واقف تھے۔ ساری زندگی خود بھی اس کی پابندی کی اور اپنے ارد گرد ماحول بھی ایسا ہی بنا کر رکھا۔ نظم کے خلاف کوئی بات برداشت  نہ کرتے تھے۔ ہر کام کو اس کے وقت اور طریقۂ  مناسب پر دیکھنا چاہتے تھے اور اس معاملہ میں سختی فرماتے۔ ہر ایک کو سمجھاتے، سکھاتے اور تربیت دیتے رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ  جو آپ کی خدمت میں رہ جاتا وہ کندن بن جاتا تھا۔

آپ کا نظام زندگی ایک مضبوط قلعہ کی مانند تھا جس کو کوئی توڑ نہیں سکتا تھا۔ یہی وجہ کہ آپ کے زیر انتظام چلنے والے ادارے، مساجد اور مراکز نظم و ضبط کا ایک حسین پیکر ہوتے تھے۔ آپ کا حسن انتظام سب کو نظر آتا تھا اور کوئی بھی شخص اس کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہتا تھا۔ آپ کے انتظام کی خوبی یہ تھی کہ آپ ماحول پر پوری گرفت رکھتے تھے۔ ہر چیز کی خبر رکھتے اور ہر بات پیش نظر رہتی بصیرت و فراست کا یہ عالم تھا کہ بعد میں پیش آنے والے حالات کا پہلے اندازہ ہوجاتا اور اس کی پہلےمنصوبہ بندی کر لی جاتی تھی۔ آپ کی مردم شناسی بھی زبردست تھی، پہلی نظر میں ہی آدمی کی صلاحیت اور استعداد کا اندازہ لگا لیتے تھے  پھر اس مناسبت سے خدمات یا منصب سپرد فرماتے تھے۔

انداز تدریس:  استاذ العلماء حضرت حقانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی یوں تو متنوع خصوصیات اور گوناگوں کمالات کی مظہر تھی لیکن جس چیز کو آپ نے سب  سے زیادہ اہمیت دی اور جسے اپنی پہچان بنایا وہ درس و تدریس کا شعبہ ہے۔ مسند درس کی آپ زینت بنے۔ ہر طرح کے حالات میں آپ نے اس رشتے کو قائم رکھا۔ اور علم کے پیاسوں کو کبھی محروم نہیں لوٹایا۔ ذوق تدریس کا عالم یہ تھا کہ مدرسہ کے علاوہ گھر پر بھی وقت دے دیا کرتے تھے۔ حضرت کو تدریس سے بڑا شغف تھا۔ وہ اس پر نازاں تھے کہ وہ ایک معلم ہیں بلکہ کبھی کبھار فرماتے کہ:"میں پاک پروردگار سے ایک ہی دعا کرتا ہوں کہ ساری زندگی پڑھایا ہے اب پڑھاتا ہوا ہی دنیا سے جاؤں"۔

منصب معلمیت سے بڑھ کر کون سا منصب ہو سکتا ہے۔ انسان کو اس پر ناز کیوں نہ ہو جب کہ اللہ رسول ﷺ نے اس منصب کی تعریف فرمائی اور ایک موقع پر اپنے آپ کو صرف معلم بتایا۔ چنانچہ آپ کا ارشاد ہے: انما بعثت معلماً (میں تو صرف معلم بن کر آیا ہوں)۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دنیا میں سب سے اعلیٰ رتبہ ان لوگوں کا ہے جو قرآن و حدیث اور دین و شریعت کا علم دوسروں کو سکھا رہے ہیں۔ اور یہ کام سب سے بہتر انداز میں ایک معلم ہی کر سکتا ہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اساتذۂ دین اگر اخلاص کے ساتھ دین کی تعلیم دیں تو وہ یقیناً  آج کل کے پیروں، فقیروں،اماموں،خطیبوں اور  واعظوں سے لاکھ گنا بہتر ہیں۔ جس مسلک اور جماعت میں معلموں کی جتنی کثرت ہو گی وہ مسلک اور جماعت اتنے ہی کامیاب و  کامران رہیں گے اور دیگر جماعتوں پر انہیں غلبہ حاصل رہے گا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ آج کل پیری مریدی کرنا سب سے آسان کام ہے اور پڑھانا نہایت مشکل۔ بہت سے لوگ شاید اسی وجہ سے معلمیت سے گریزاں ہو کر پیری مریدی اور سیروسیاحت کو اپنا چکے ہیں۔ اللہ ہی جانے اس قوم کا کیا بنے گا جو اپنے پیروں،فقیروں پر جان چھڑکے اور  اپنے واعظوں اور خطیبوں کو آسمان تک پہنچا دے مگر اپنے معلمین اور اساتذہ کی قدر و منزلت نہ پہنچانے،مگر محترم حقانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے مسند تدریس کو زینت بخشی۔ اس منصب کا حق ادا کیا اور ساری زندگی اس کے تقاضوں کو نبھایا۔

تاریخِ وصال: آپ کاوصال 17/جمادی الثانی 1430ھ،مطابق 11/جون 2009ءبروزجمعرات آپ کاوصال ہوا،اورجامع مسجد مدنی گلشن اقبال کراچی کےایک حصےمیں مدفون ہوئے۔

ماخذومراجع: روشن دریچے،ص،158-157۔

تجویزوآراء