مولانا خواجہ محمد اکبر چشتی نظامی بصیرپوری

مولانا خواجہ محمد اکبر چشتی نظامی بصیرپوری  رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب: اسم گرامی:مولانا  خواجہ محمد اکبر رحمۃ اللہ علیہ۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:مولانا خواجہ محمد اکبر بن مولانا خواجہ محمد مقیم بن مولانا خواجہ محمد عظیم  بن خواجہ محمد یارالمعروف بہ حافظ بڈھا۔علیہم الرحمہ۔

تاریخِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت  9/شوال المکرم 1282ھ،مطابق 25/فروری 1866ء،بروزاتواربوقتِ تہجدبصیرپورمیں ہوئی۔

تحصیل علم: ابتدائی تعلیم کے علاوہ شرح جامی تک کتب درسیہ کی تحصیل والد ماجد سے کی،مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہند کے مدارس کا قصد کیا،شملہ اور ڈلہوزی وغیرہ مقامات پر ممتاز علماء سے تکمیل کی، ڈلہوزی میں ایک قادری سہر وردی بزرگ سے علم الاخلاق حاصل کیا۔

بیعت وخلافت: آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں اپنےوالدگرامی سےبیعت ہوئے،اورپھرحضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمہ کےدستِ اقدس پربیعت ہوئےاوراجازت وخلافت سےمشرف ہوئے۔حضرت خواجہ صاحب نےآپ کو"غریب نواز"کالقب عطاکیا۔

سیرت وخصائص: صوفیِ باصفا،عالم علم الہدیٰ،جامع شریعت وطریقت،حضرت مولاناخواجہ محمد اکبر چشتی نظامی بصیرپوری رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ صاحب علم وعمل،اورسراپاخلوص وتقویٰ تھے۔آپ تین مرتبہ حج و زیارت کے شرف سے بہرہ ور ہوئے اور کئی کئی ماہ مدینہ طیبہ میں قیام پذیر رہے۔جب حصول علم کےلئےگھرسےروانہ ہوئے توتقریباً بائیس سال کے بعد واپس بصیر پور آئے۔

حضرت خواجہ تونسوی علیہ الرحمہ نےآپ کوبصیرپورعلاقےکی ذمہ داری تفویض فرمائی ،آپ نے بصیر پور میں جامع مسجد برنے والی(جو اَب مسجد خواجہ محمد اکبر کے نام سے مشہور ہے) میں مدرسہ قائم کیا،جہاں علم و تدریس کے علاوہ عرصۂ دراز تک افتاء کے فرائض بھی  انجام دیتے رہے،آپ کی بہت سی عالمانہ تصانیف فی الحال طبع نہیں ہو سکیں۔آپ کےتلامذہ اورخلفاء  کثیرتعدادمیں ہوئے،آپ کی برکت سےاس علاقےمیں دین اسلام کی خوب ترویج واشاعت ہوئی،اورسلسلہ عالیہ چشتیہ کافروغ ہوا۔آپ کی ساری زندگی ان علاقوں میں دین اسلام کی ترقی وفروغ میں صرف ہوئی۔آپ کی درس گاہ سےایک جہاں علم کی لازوال دولت سےفیض یاب ہوااورہورہاہے۔

تاریخِ وصال: آپ کاوصال 16/رجب المرجب 1335ھ،مطابق 8/مئی 1917ء،برومنگل ہوا۔آپ کامزارشریف بصیرپورمیں مرجع خلائق ہے۔

ماخذومراجع: تذکرہ اکابر اہلسنت۔

مزید

تجویزوآراء