شیخ اکبر محی الدین ابن عربی

 شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:

الشیخ، الامام، العارف ،العالم، الشیخ الاکبر ،والکبریت الاحمر ،ابوعبداللہ ،محی الدین، محمد ابن علی، ابن العربی، اور شیخ الاکبر کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا نام محمد ابن العربی، کنیت ابو بکر اورلقب محی الدین ہے۔ آپ تصوف اور راہ طریقت میں شیخ اکبر یعنی “سب سے بڑے شیخ” کے نام سے مشہور ہیں۔ صوفیا میں آج تک اس لقب کو کسی دوسرے شیخ کے لیے استعمال نہیں کیاگیا۔ آپ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے طے سے تھا۔ شیخ اکبر کے جد اعلی حاتم طائی عرب قبیلہ بنو طے کے سردار اور اپنی سخاوت کے باعث صرف عرب ممالک میں ہی نہیں پوری دنیا میں مشہور تھے ان کی نسل سے آپ کا خاندان تقوی عزت اور دولت میں اہم مقام رکھتا تھا۔ مشہور صوفی بزرگ  ابو مسلم خولانی آپ کے ماموں تھے۔

 

ولادت:

آپ 17 رمضان المبارک سن 560 ہجری کو اندلس کے شہر مرسیہ میں پیدا ہوئے۔

 

بشارتِ غوث الاعظم:

 کتابِِ مناقبِ غوثیہ میں شیخ محمد صادق شیبانی قادری لکھتے ہیں کہ علی بن محمد پدرِشیخ محی الدین ابن عربی محض لاولد تھے۔ حتّٰی کہ ان کی عمر پچاس سال کی ہوگئی۔ ان کے والد حضرت غوث الاعظم﷜ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اولاد عطا فرمائے۔ حضرت غوثیہ نے حضورِ حق میں دعا فرمائی۔ ہاتفِ غیب نے آواز دی کہ اس شخص کی قسمت میں کوئی اولاد نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی دوسرا اپنی اولاد کا حصّہ اسے عطا کردے۔ حضرت غوث الاعظم﷜ نے اپنی پشت علی بن محمد کی پشت کے ساتھ مس کی اور فرمایا ابھی میرے صلب میں ایک فرزند باقی تھا۔ وُہ ہم نے تمہیں دیا۔ وُہ تیرے گھر پیدا ہوگا۔ ہم نے اس کا نام محمد اور لقب محی الدین رکھا ہے۔ یہ بچّہ اولیاء میں درجۂ عظیم اور رتبۂ عالی پائے گا۔ چنانچہ حضرت غوثیہ کی بشارت کے مطابق نو ماہ کے بعد علی بن محمد کے گھر لڑکا پیدا ہوا وہ اسے حضرت کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ آپ نے نگاہِ لطف و کرم سے بچّہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ میرا بیٹا ہے ان شاء اللہ قطبِ زمانہ ہوگا۔ اسرارِ توحید جو آج تک کسی موحد نے بیان نہیں کیے۔ یہ لڑکا ان اسرار و رموز کو واشگاف طور پربیان کرے گا۔(کتاب خزینۃالاصفیاء قادریہ ،ص،۱۸۶)(مہر منیر ،ص، ۴۷۲)

وفات:

۶۲۰ھ میں آپ نے دمشق کو اپنا وطن بنایا ، جہاں کے حاکم الملک العادل نے آپ کو وہاں پر آ کر رہنے کی دعوت دی تھی ۔ وہاں پر آپ نے۲۸ربیع ا لآخر ۶۳۸ھ بمطابق ء۱۲۴۰کو وفات پائی اورجبل قاسیون کے پہلو میں دفن کئے گئے ، جو آج تک مرجع خواص و عوام ہے۔

مزید

تجویزوآراء