حافظ سید محمد عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر

حافظ سید محمد عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ   

نام ونسب: اسمِ گرامی:حافظ سید محمد عثمان مروندی۔لقب:لعل شہباز قلندر۔سلسلہ  نسب اسطرح ہے:حافظ سید محمد عثمان بن سید کبیر الدین بن سید شمس الدین الیٰ آخرہِ ۔علیہم الرحمہ۔آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔

تاریخِ ولادت:  آپ  کی ولادتِ با سعادت مشہور قول کے مطابق ،538ھ  بمطابق 1143ء   کو  آذربائیجان کے ایک قصبہ "مروند"میں ہوئی۔علاقے  کی نسبت سے "مروندی"کہلاتے ہیں۔

تحصیلِ علم:ابتدائی تعلیم وتربیت والدِ گرامی  کے زیرِ سایہ حاصل ہوئی،گھر کے قریبی مسجد میں سات سال کی عمر میں حفظِ قرآن مکمل کرلیا۔پھر اس کے بعد  دیگر علومِ دینیہ کے حصول میں مصروف ہوگئے۔بہت جلد ہی علومِ نقلیہ وعقلیہ اور عربی وفارسی ادب  میں مہارتِ تامہ حاصل کرلی،آپ کا شمار اپنے وقت کے جید علماء ِکرام میں ہوتاتھا۔

بیعت وخلافت:صحیح قول کےمطابق آپ حضرت ابو اسحاق محمد ابراہیم قادری علیہ الرحمہ سے  بیعت ہوئے۔بعض مؤلفین کے قول کے مطابق آپ شیخ الاسلام غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی علیہ الرحمہ  کے مرید تھے۔اس میں تطبیق اس طرح ہوسکتی  ہے کہ حضرت بہاؤالدین  زکریا علیہ الرحمہ نے آپ کو خلافت سے نوازا ہو جیسا کہ مشائخ کا طریقہ ہے۔

سیرت وخصائص: امام العلماء والعارفین،رئیس المدرسین،قدوۃ السالکین،برہان الواصلین ،عارف با اللہ،فنا  فی اللہ ،بقا با اللہ حضرت سید حافظ محمد عثمان مروندی المعروف لعل  شہباز قلندر رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ کی ولادت کی بشارت حضرت شیر خدا علی المر تضیٰ رضی اللہ عنہ نےبایں الفاظ  ارشاد فرمائی :اے احمدکبیر: اللہ تعالیٰ تم کو بیٹا عطا فرمائے گا! مگر میری ایک بات یاد رکھنا کہ جب فرزند تولد ہو تواس کا نام ،محمد عثمان،رکھنا اور جب وہ تین سو چور اسی دن کا ہوجائے تو  اس کولے کر مدینہ منورہ حاضری دینا اور حضور ﷺکے حضور سلام کے بعد حضرت سیدناعثمان غنی ذوالنور ین رضی اللہ عنہ کے مزار پر لے جانا اور سلام عرض کرنا، چنا نچہ والد صاحب نے حسب وصیت ایسا ہی کیا(شہباز ِ ولایت، صفحہ 8)۔آپ بہت ہی حسین وجمیل تھے۔آپ کا چہرہ انور ایسے چمکتا تھا جیسے"لعل"اس لئے آپ کو لعل شہباز کہتے ہیں ۔لعل شہباز قلندر علیہ الرحمہ جس پایہ کے صاحب علم و فضل اور صاحب تصوف و معر فت تھے،اسی پایہ کے معلم و مقر ر اور ادیب و شاعر بھی تھے، عربی و فارسی علوم و ادبیات پر کامل دسترس رکھتے تھے، قرآن و حدیث و فقہ کا وسیع مطا لعہ تھا، ماہر لسا نیات اور ماہر قو اعد زبان بھی تھے،  آپ صاحبِ تصانیف بزرگ تھے،اور بالخصوص صرف ونحواور عربی ادب  کے شائقین دور دراز علاقوں سےسفر کرکے  آپ کے ہاں  تحصیلِ علم کیلئے حاضر ہوتے ۔آپ شیخ الاسلام حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا علیہ الرحمہ کے مدرسہ جو حقیقۃً اس وقت ایشیا کی عظیم یونیورسٹی تھی ،میں صدرالمدرسین کے منصب پر فائز تھے۔

قلندر ی طریقت:بعض مؤلفین کا خیال ہے کہ آپ"قلندری طریقت"رکھتے تھےملنگوں نے قلندروں کو شریعت  سے آزاد سمجھ رکھا ہے اور قلند ری طریقے کو بے نمازی اور غیر شرعی کاموں سے روشنا س کراتے ہیں،اس لیے بہتر ہوگا کہ قلندری طریقت پر وضاحت پیش کی جائے۔۔۔تا رک الدنیا، تہجد گزار اور نفسانی لذتوں سے پاک شخص کو قلندر کہتے ہیں۔صوفی اور قلندر ایک ہی ذات کا نام ہے۔حضرت خواجہ عبید اللہ احر ار (متو فی 895ھ) نے فرمایا:اپنے آپ کو دنیا وی خواہشات سے مجر د رکھنے اور نفس کو معبود (اللہ تعالیٰ)کے تابع کردینے کو قلند ری طریقت کہا جاتا ہے۔

علامہ اقبال کے نزدیک قلندر وہ ہے جس کے دل میں دنیا کے مضرات اور مشکلات کا خوف وہراس بالکل نہ ہو۔

ہزار خوف ہوں لیکن زبان ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلند روں کا طریق

عرس کی آڑ میں بدعات کا فروغ:  عرس شریف کے مبارک و مقدس پروگرام کو اخلاق و کردار سے آزاد لوگوں کا میلہ، ناچ گانا،کھیل وتماشا،خواتین کا بے پردہ،ہونا ،محفل مو سیقی،دھما ل اور دھمال پر عورتوں کا رقص ،رنڈیوں کا تماشا ،طو ائفوں کی بھر مار، شور و ہنگا مہ ،بھنگ و چرس کا دھندا،مزار میں مہندی لے جانا،قلندر کی شادی کرانا۔ملنگوں کی عجیب و غریب حرکتیں،شیعہ روافض کا علم کو پو جنا ان پر منتیں مانگنا اور اصحاب کرام کی شان میں گستا خی اور خلفأثلاثہ پر تبرا بازی سمیت حیا سوز خرافات اور بد رسموں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

ان تمام خرافات کا حضرت شہباز قلندر کے عقیدہ و مسلک سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، نفس کے غلاموں،شیطان کے پیر و کاروں اور خدا کے نا فرمانوں نے اپنے نفس کو خوش کرنے کےلیے ان بے ہو دہ رسموں اور حیا سوز حرکات کورواج دیا ہے۔اگرملنگوں کو  حضرت لعل شہباز قلندر کی پیر وی کرنے کا شوق ہے تو پر ہیز گاری کریں، پنج وقتہ نماز کی پابند ی معمول بنا لیں، شب بیداری کی عادت ڈالیں،ذکر شریف و درود شریف کا کثرت سے ورد کریں، اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنائیں،حرام سے اجتناب اور شریعت مطہرہ پر عمل پیرا ہوں۔حضرت لعل شہباز قلندر فرماتے ہیں:

؎عثمان چو شد غلام ِنبی و چہار یار
امید ش از مکا رم عربی محمدﷺ است

وصال: آپ کا وصال21 شعبان المعظم 673ھ بمطابق 1274ء کو ہوا۔آپ کا مزار سیہون شریف میں مرجعِ خلائق ہے۔

مزید

تجویزوآراء