حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی

حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ مادر زاد ولی تھے قطب الاقطاب اور قطب الدین لقب پایا تھا۔ شمع صوفیاء اور چراغ چشتیہ کے خطابات سے نوازے گئے تھے۔ یگانۂ روزگار محبوب پروردگار۔ صاحب الاسرار اور مخزن الانور تھے۔ خرقۂ خلافت اپنے والد بزرگوار سے حاصل کیا تھا۔ وہ اکثر ہوا میں پرواز کرکے جہاں چاہتے چلے جایا کرتے تھے۔ سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا اورسولہ سال کی عمر میں علوم دینیہ سے فارغ ہوگئے، آپ کی تصانیف میں سے منہاج العارفین اور خلاصۃ الشرقیہ بہت مشہور ہیں، آپ کی عمر انتیس سال تھی کہ والد ماجد کا انتقال ہوگیا۔ آپ سجادۂ نشین بنے اور مخلوق کی ہدایت میں مصروف ہوگئے۔ چنانچہ بیت المقدس سے چشت تک اور بلخ و بخارا کے علاقوں کی سیر کی ، آپ کے ایک ہزار خلفاء مشہور ہوئے۔ اور آپ کے مریدوں کی تعداد کا کوئی شمارنہیں۔ دنیا کے کسی حصّے پر آپ کے کسی مرید کوکوئی مشکل پیش آتی آپ مدد کے لیے وہاں پہنچتے، آپ کی وفات کے بعد بھی جو شخص آپ کے مزار پر تین دن کے لیے حاضر ہوتا اور دعا کرتا تو اُس کی مشکل حل ہوجاتی، آپ کے بہت بیٹے تھے۔ چنانچہ خطہ پاک چشت سے آپ کی اولاد کی کئی شاخیں دنیا میں پھیلیں۔

خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو کعبہ کے طواف کرنے کا شوق پیدا ہوتا تو وہ ہوا میں اُڑ کر فوراً مکہ شریف پہنچ جاتے۔ طواف کرتے اور اسی دن واپس آجاتے۔ حضرت شیخ احمد جام زندہ پیل بڑے مشہور ولیوں میں ہوئے ہیں انہوں نے جب خواجہ ابویوسف چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کی خبر سنی، تو آپ خواجہ مودود کے پاس چشت کی طرف روانہ ہوئے، آپ کے دشمنوں نے آپ کے خلاف حضرت مودود چشتی کو یہ خبر پہنچائی کہ خواجہ احمد جام آپ کی ولایت پر قبضہ کرنے آ رہے ہیں۔ یہ بات سنتے ہی خواجہ مودود چشتی نے مراقبہ کیا اور چند لمحوں کے بعد سر اُٹھا کر فرمایا کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ شیخ احمد جان تو محبت و خلوص سے آرہے ہیں چنانچہ خواجہ نے فوری طور پر ایک دیوار کو حکم دیا کہ وہ گھوڑے کی طرح تیز دوڑ کر شیخ احمد جام کا استقبال کرے اور انہیں لائے۔ شیخ مودود چشتی چار ہزار اولیاء اور خلفاء کو لے کر استقبال کے لیے آگے بڑھے۔ شیخ احمد جام شیر پر سوار ہوکر دریائے نوتک کے کنارے پر کھڑے تھے۔ دونوں کا آمنا سامنا ہوا۔ دونوں اپنی سواریوں سے نیچے آگئے اور ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے، دیر تک بیٹھے، گفتگو کرے رہے، وہاں سے خواجہ علی حکیم جو خواجہ مودود چشتی کا معتقد تھا کے گھر تشریف لے گئے، تین دن تک مجلس سماع منعقد رہی۔ دونوں حضرات وجد میں جھومتے رہے۔ بے غیرت دشمنوں نے شیخ احمد کی تشریف آوری کی خبر دوسرے انداز میں پیش کی تھی۔ اب یہ لوگ موقع غنیمت جان کر مجلسِ سماع میں چلے آئے۔ وہ چاہتے تھے کہ شیخ احمد جام کو تلوار سے ہلاک کردیں۔ مگر اسی اثناء میں خواجہ موجود چشتی کی نگاہِ غضب ان پر ایسی پڑی کہ تمام بے ہوش ہوکر تڑپنے لگے۔ جب مجلس ختم ہوئی تو شیخ احمد جام نے ان بے ہوشوں کی حالت دریافت کی تو حضرت خواجہ مودود نے سارا واقعہ سنادیا۔ شیخ احمد جام نے ان کا جرم معاف کردیا، اُن کی پشت پر دستِ شفقت پھیرا تو اُن کو ہوش آیا۔ دونوں بزرگوں کے پاؤں پر گر پڑے۔ شیخ احمد جام حضرت خواجہ مودود دونوں خلوت میں رہے۔ دونوں حضرات نے ایک دوسرے سے استفادہ کیا، کچھ دنوں بعد اپنی اپنی خانقاہ کی طرف تشریف لے گئے۔

ہم یہاں بتا دینا چاہتے ہیں کہ نفحات الانس کے مصنف نے اس واقعہ کو دوسری طرح نقل کیا ہے۔ لیکن ہم نے جو واقعہ بیان کیا ہے وہ حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات میں لکھا ہوا دیکھا ہے، خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ جب شیخ احمد جام سے رخصت لے کر چشت کی طرف لوٹے تو راستے میں پہاڑ کے دامن میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو یا مودود کا ورد کر رہا تھا۔ اُس سے پوچھا گیا تو اُس نے بتایا کہ میں ایک عرصہ سے نابینا تھا۔ ایک دن میں نے اللہ کی باگارہ میں بینائی کے لیے دعا کی تو مجھے غیب سے آواز آئی کہ خواجہ مودود میرے محبوب ہیں اُن کے نام کا ورد کیا کرو، ایک وقت آئے گا کہ ان کی برکت سے بینائی مل جائے گی حضرت خواجہ مودود نے جب یہ بات سنی تو اپنا لعاب دہن اس کی آنکھوں پر ملا، وہ اُسی وقت بینا ہوگیا۔

حضرت خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ جب بلخ میں پہنچے تو وہاں کے علماء نے آپ کی بڑی مخالفت کی، مسئلہ سماع پر مناظرہ کرنے کے لیے ایک عظیم الشان اجلاس کیا اس مجلس میں علمائے بلخ نے جتنے سوالات اُٹھائے حضرت خواجہ مودود نے اُن کے جواب دیے، اور فرمایا ہم خواجہ ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کی سنت پر قائم ہیں وہ ہمارے پیر تھے اور سماع سنا کرتے تھے۔ علماء نے جواب میں کہا کہ خواجہ ابراہیم ادھم پیر کامل تھے۔ وہ ہوا میں اُڑا کرتے تھے ۔ ان کا سماع سننا جائز ہے مگر آپ ایسا نہیں کرسکتے۔ حضرت خواجہ مودود چشتی اُسی وقت مجلس سے اُٹھے اور تیز پرندے کی طرح ہوا میں پرواز کرنے لگے۔ علماء کی نظروں سے غائب ہوگئے، کچھ وقت گزرنے کے بعد واپس آئے اور مجلس میں آکر یوں بیٹھ گئے کہ کسی کو خبر تک نہ ہوئی اہل مجلس میں شور برپا ہوگیا۔ اس مجلس میں دو ہزار لوگ موجود تھے تمام کے تمام آپ کے مرید ہوگئے۔ مگر اس کے باوجود بعض ضدّی علماء اصرار کرتے رہے کہ ہمیں اس پرواز پر اعتبار نہیں۔ایسا کام تو بعض جوگی بھی کرلیتے ہیں۔ ہم اس وقت مانے گے جب جامع مسجد کے حوض پر پڑا ہوا بڑا پتھر آپ کی ولایت کی گواہی دے ، پھر ہم آپ کے مرید ہوجائیں گے۔ حضرت خواجہ نے انگشت شہادت سے پتھر کی طرف اشارہ کیا وہ پتھر اپنی جگہ سے ہلا اور لیٹے لیٹے حضرت خواجہ کے پاس آکر رک گیا۔ پتھر سے آواز آئی، اے خواجہ مودود آپ کی ولایت پر کوئی شک نہیں، آپ کے اقوال شرع پیغمبر کے مطابق ہیں۔ بلخ کے علماء نے جب یہ کرامت دیکھی تو حضرت خواجہ مودود کے قدموں میں گر پڑے اپنی غلطی کی معافی مانگی۔

یاد رکھیں کہ خواجہ مودود چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک ہزار مشہور خلفاء تھے، جن میں اکثر اولیاء کبار اور مشائخ والاتبار تھے۔ اگر ان کے اسماء گرامی لکھیں جائیں تو ایک علیحدہ کتاب درکار ہوگی، ہم تبرکاً یہاں صرف آٹھ بزرگوں کے نام لکھتے ہیں۔ پہلے آنجناب کے فرزند ارجمند خواجہ ابواحمدر حمۃ اللہ علیہ ہیں جو آپ کی وفات کے بعد سجادہ نشین بنے اور طلباء حق کو تربیت کرتے رہے۔ دوسرے خواجہ حاجی شریف زندنی رحمۃ اللہ علیہ تھے آپ قطب الوقت بھی تھے اور غوث زمانہ بھی تیسرے شاہ سنجان تھے جن کا پہلے نام خواجہ سنجان تھا پھر انہیں خواجہ بزرگوار کا خطاب ملا، چوتھے ابو نصیر شکیبان زہاد تھے آپ سیطستان کے اکابر مشائخ میں شمار ہوتے ہیں۔ پانچواں شیخ حسن تبتی ہیں جو پانچویں کوہِ تبت میں سکونت رکھتے تھے چھٹے احمد بد رون تھے جو موضع بد رون میں سکونت پذیر تھے۔ ساتواں خواجہ سبز پوش آزر بائی جانی تھے آٹھویں عثمان روحی تھے۔ آپ کو حضرت بایزید بسطامی کے سلسلۂ عالیہ سے بھی خلافت ملی تھی نویں خواجہ ابوالحسن بانی تھے رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔

جب حضرت خواجہ مودود رحمۃ اللہ علیہ مرض موت میں صاحب فراش ہوئے۔ روز بروز مرض بڑھتا جاتا تھا، وفات کے دن بار بار اپنے دروازے کی طرف دیکھتے تھے ہر بار سرہانے سے سر اُٹھاتے جیسے کسی بڑے پیارے کے آنے کا انتظار ہو، اسی اثناء میں ایک شخص نورانی چہرے اور پاکیزہ لباس کے ساتھ اندر آیا۔ سلام ادا کرنے کے بعد ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا پیش کیا، جس پر سبز خط سے چند سطریں لکھی ہوئی تھیں حضرت خواجہ نے اس کپڑے کو ایک نظر دیکھا اور اپنی آنکھوں پر رکھا اور جان اللہ کے حوالے کردی، تجہیز و تکفین کے بعد لوگ نماز جنازہ ادا کرنے لگے تو ایک ہیبت ناک آواز آئی جس کی دہشت سے لوگ درہم برہم ہوگئے، بہت سے رجال الغیب پہنچے، پہلے انہوں نے نماز جنازہ ادا کی، ان کے بعد جن اور دیو آنے لگے، پھر ہزاروں پری زاد پہنچنے شروع ہوئے، وہ نماز جنازہ پڑھتے جاتے اس کے بعد آپ کے بے شمار مرید خلفاء چھوٹے بڑے نماز جنازہ ادا کرتے رہے۔ جب سب لوگ فارغ ہوئے تو جنازے کا تابوت خود بخود اٹھا اور قبر تک جا پہنچااس کرامت کو دیکھ کر دس ہزار ایسے لوگ جو اسلام سے بیگانہ تھے، مشرف با سلام ہوئے۔ حضرت خواجہ مودود چار سو تیس ہجری میں پیدا ہوئے اور آپ یکم رجب المرجب ۵۲۵ھ میں فوت ہوئے۔

صاحبِ مودود والی پیشوا
۵۲۷ھ

ہم شہِ محمود دین مودود خواں
۵۲۷ھ

انتقال از سرور والادعا
رحلت آں بادشاہ اتقیاء

 

 

مزید

تجویزوآراء