حضرت مولانا خواجہ فیض محمد شاہ جمالی چشتی نظامی

حضرت مولانا خواجہ فیض محمد شاہ جمالی چشتی نظامی رحمۃ  اللہ علیہ

نام ونسب:عالمِ کبیر محدث ِ جلیل خواجہ فیض محمد شاہ جمالی بن مولانا نور الدین علیہماالرحمۃ۔

تاریخ ِ ولادت: 16/ذیقعدہ1290ھ 5 جنوری بمطابق/1874ءبروز جمعرات بوقتِ سحر  اپنے وقت کے ممتاز عالم وعارف حضرت مولانا نور الدین علیہ الرحمتہ کے گھر قصبہ شاہ جمال (ڈیرہ غازی خان  )میں ہوئی۔

تحصیلِ  علم: آپ نے ابتدائی تعلیم قر آنِ پاک اور ابتدائی درسی کتب اپنے والد گرامی سے حاصل کی،اسکے بعد علوم متد اولہ کی کتب حضرت مولانا نصیر بخش  چشتی سے پڑھیں ۔بعدازاں مولانا خلیل احمد (قصبہ  روہیلا انوالی )ضلع مظفر گڑھ ،اور حضرت حافظ صاحب سیلا نوالی ضلع میا نوالی سے دیگر کتب متداولہ اور درس حدیث شریف کی  تحصیل و تکمیل کی۔

بیعت وخلافت: آپ حضرت خواجہ عبد الرحمن ملتانی چشتی نظامی علیہ الرحمہ کے دست حق پر بیعت سے سر فراز ہو ئے اور انہیں سے خرقہ خلافت حاصل کرکے صاحب ِارشاد ہو ئے۔اور حضرت خواجہ اللہ بخش تونسوی علیہ الرحمۃ نے بھی اُن کو خلافت عطا کی۔

سیرت وخصائص:آپ علیہ الرحمہ  عالم باعمل،فا ضل بے بدل،غوثِ یگانہ،مرشدِ زمانہ،پیکر علم و عرفان،محد ث وجدو پیمان،استاذالعلماء اور  قدوۃ الاخیا ر ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ ساری زندگی درس وتدریس ،قا ل اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ کا ورد فرماتے رہے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ اس علاقے میں رسول اللہ ﷺ کے سچے  نائب، اور علومِ نبویہ کے وارثِ کامل تھے۔ آپکی  ساری زندگی اسوۂ رسول اللہ ﷺ کی پیکر تھی۔آپکی تعلیم وتربیت اور رشد وہدایت،وعظ ونصیحت ،اور  مجالسِ خیر میں رسول اللہ ﷺ کے عشق ومحبت  کے جام پلائے جاتے تھے۔آپ اپنے مریدین و متوسلین  اور عوامِ اہلسنت کوبد مذہبوں کی صحبت ومجالس سے سختی سے منع فرماتے تھے۔

حضرت مولانا مفتی محمد ظریف  صاحب فیضی  فرماتے ہیں:

ایک سال کا واقعہ ہےکہ مرشدنا حضرت قبلہ شاہجمالی "حاجی پور شریف" حضرت خواجہ نور محمد نارووالے علیہ الرحمہ  کے عرس پہ تشریف لے گئے تو سجادہ نشین میاں اللہ ڈیوایا صاحب سے حضرت قبلہ شاہجمالی  کی رہائش اور کھانے کا انتظام نہ ہوسکا، رات کو میاں اللہ ڈیوایا صاحب کو سرکارِ دو عالم ﷺ کے زیارت ہوئی، دیکھا کہ حضرت شاہجمالی سرکار ﷺکے سامنے بیٹھے ہوئےہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جن کے صدقہ میں تمہیں سب کچھ مل رہا ہے ان سے بے  پرواہی کی ہے؟"  میاں اللہ ڈیوایا نے عرض کی یارسول اللہﷺ! ان کے متعلق مولوی صاحبان(دیوبندی،وہابی) کہتے ہیں کہ یہ بدعتی ہے ،حضور اکرمﷺنے فرمایا :"جو مولوی ان پہ اعتراض کرتے ہیں وہ ان کے شاگردوں کے برابربھی نہیں"۔ (درج اللالی فی حیاتِ خواجہ شاہجمالی،ص54)

وصال:آپ کا وصال8/رجب المرجب1364 ہجر ی،11 جون بمطابق 1945بروز پیر کو ہوا، مزار پر انوار" سند یلہ شریف "ضلع ڈیرہ غازی خان میں مرجع خاص وعام ہے ۔

مزید

تجویزوآراء