حضرت امام زین العابدین

حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ

نام ونسب: اسمِ گرامی:سید علی۔کنیت:ابومحمد،ابوالحسن۔لقب:سجاد،سید الساجدین،  زَین العابدین، امین۔ سلسلہ نسب:حضرت امام علی  زین العابدین  بن سیدالشہداء امام حسین  بن امیرالمؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم۔آپ کی والدہ کا اسمِ گرامی:شہربانو بنت یزگردہے۔

تاریخِ ولادت:  آپ بروز جمعرات 5شعبان المعظم/ 38ھ،بمطابق جنوری/659ء کو مدینۃ المنورہ میں پیداہوئے۔

سیرتِ مبارکہ:آپ  اپنے جد امجد حضرت امیر المؤمنین حضرت علی ضی اللہ عنہ کے ہم شبیہ تھے، دو سال تک اُن کے آغوش میں تربیت پائی۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جب اِن کو دیکھتے  توفرماتے" مرحبایاحبیب  ابن الحبیب"۔ سعید بن المسیّب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کہ میں نے اِن سے زیادہ کسی کو متورع نہیں دیکھا۔ابن شہاب زُہری رضی اللہ عنہ اور ابو حازم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: کہ ہم نے اِن سے زیادہ افضل و فقیہ کسی کو نہیں پایا۔(طبقات الحفاظ)

امام مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ یہ اہل فضل میں سے تھے، ابن ابی شیبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحیح  اور افضل ترین وہ تمام اسانید ہیں جوزہری رضی اللہ عنہ نے اِن سے، اور انہوں نے اپنے والد ماجد سے، اور اُنہوں نے حضرت  علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہیں۔( طبقات الحفّاظ ) اور ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ یہ تابعین  سے تھے، ثِقہ، مامون ،کثیر الحدیث، عالی قدر، رفیع منزلت، پرہیز گار، عابِد اور خائف من اللہ تھے۔ ( طبقات ابن سعد ) ابو الائمہ اور سید التابعین تھے، واقعہ کر بلا میں موجود تھے، لیکن بوجہ علالت شریکِ قتال نہ ہوسکے، دنیا کی لذتوں کو ترک کیا ہوا تھا۔واقعہ کربلا کے بعد آپ کو کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا،بلکہ جب بھی اس واقعہ فاجعہ کی یاد آتی تھی،آنکھوں سے  آنسؤں کی جھڑی لگ جایا کرتی تھی۔جب وضو کر کے نماز کے لیے تیار ہوتے تو چہرہ مبارک زرد ہوجاتا، اورجسم کانپنے لگتا، دِن رات میں ہزار رکعت نماز  پڑھتے۔(اس لئے سجاد لقب ہوا)دِن کو روزہ  رکھتے، اور شام کو صرف ایک پارۂ نان(روٹی کاایکٹکڑا) پر اکتفا کرتے، رات کو ایک ختم قرآن شریف بھی کیا کرتے، سخاوت پوشیدہ کرتے، راتوں کو آٹے و روٹیوں  کا بوجھ پشت مبارک پر لے کر مستحقین میں خیرات بانٹا کرتے، یہاں تک کہ پشت پر سیاہ داغ پڑ گئے تھے۔

وصال: آپ کاوصال 18/محرم الحرام94ھ،بمطابق اکتوبر 712ء کو مدینۃ المنورہ میں ہوا۔جنت البقیع میں حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی الہ عنہ کے پہلومیں دفن ہوئے۔

ماخذومراجع: الصواعق المحرقہ۔شریف التواریخ۔

تجویزوآراء