حضرت امام المسلمین سیدنا امام احمد بن حنبل

حضرت امام المسلمین سیدنا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

کنیت ابو محمد۔ ابو عبداللہ ہے۔ نام محمد اور احمد بن حنبل تھا آپ ائمہ اربعہ میں سے امام چہارم تھے۔ آپ امام شافعی کے شاگرد تھے۔ آپ کی ولادت باقوال مختلف ۱۶۴ھ یا ۱۶۵ھ میں ہوئی پہلے قول کو ہم مستند مانتے ہیں۔ آپ نے بہت سے مشائخ کی زیارت کی تھی۔ ذوالنون مصری، بشر حافی، سری سقطی اور معروف کرخی ﷫ آپ کے زمانہ کے بہت بڑے معروف بزرگ تھے۔ حضرت بشر حافی﷫ آپ کے متعلق فرماتے ہیں کہ حضرت امام احمد بن حنبل کی تین خصلتیں ہیں جو مجھے نہیں ملیں۔ اوّل طلبِ حلال برائے اہل و عیال۔ ہم طلبِ حلال محض اپنی ذات کے لیے کرتے ہیں۔ دوسرے وُہ علم و حق میں مشغول ہیں۔ میں صرف بحق مشغول ہوں علم میں نہیں۔ وُہ علم کی وجہ سے وارثِ پیغمبر خدا ہیں۔ میں صرف پیر و پیغمبر ہوں۔

آپ کے ایک شاگرد کی والدہ بیمار ہوگئی اور زندگی سے مایوس ہوگئی۔ اس نے اپنے بیٹے کو کہا کہ امام صاحب کے پاس جاؤ اور میرے لیے دعائے شفا طلب کرو۔ مجھے یقین ہے کہ وُہ ہماری التجا ردّ نہیں کریں گے۔ وہ شخص حضرت کے دروازہ پر پہنچا اور آواز دی۔ آپ نے فرمایا: تم کون ہو؟ کہنے لگا: ایک محتاج سائل ہوں جس کی ماں بیمار ہے۔ میں اس کے لیے دعاءِ شفا کرانے آیا ہُوں۔ آپ اٹھے، غسل کیا اور نماز میں مشغول ہوگئے۔ خادم نے کہا: تم جاؤ! حضرت امام تمہارے کام میں مشغول ہوگئے ہیں۔ جب وُہ گھر آیا تو ماں نے بسترِ علالت سے اٹھ کر دروازہ کھولا اور بیٹے کو خوش  آمدید کہا، جیسے پہلے کبھی بیمار نہیں تھی۔

ایک دن امام محمّد چشمۂ آب پر وضو کر رہے تھے۔ ایک اور شخص آپ کے اوپر کی طرف بیٹھا وضو کر رہا تھا۔ ازرہِ تحریم و تعظیم وُہ اٹھا اور نیچے کی طرف آگیا۔ جب وُہ آدمی فوت ہوا لوگوں نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا۔ اس نے بتایا: حرمتِ امام کی وجہ سے مجھے اللہ تعالیٰ نے بخش دیا ہے۔

امام احمد جب تک بغداد میں رہے بغداد کی روٹی نہیں کھائی۔ کہا کرتے تھے: اس سرزمین کو حضرتِ عمر ﷜ نے وقف کردیا تھا۔ اس کی ساری آمدنی غازیان اسلام کے لیے تھی اور تمام دولت موصل بھیجی جاتی تھی۔ حضرت موصل سے آٹا منگوا لیتے اور اسی آٹے کی روٹی کھاتے۔ آپ کے بیٹے صالح بن احمد ایک سال تک اصفہان کے قاضی رہے۔ زہدو تقویٰ میں معروف تھے۔ صائم الدہر اور قائم اللیل تھے۔ اپنے مکان کے سامنے ایک کمرہ بنا رکھا تھا جہاں دن رات بیٹھتے۔ ان کی مراد یہ تھی کہ کوئی فریادی اگر رات کے وقت بھی آئے، خالی نہ جائے اور انصاف سے محروم نہ رہے۔ وُہ یہ کام محض خداوند تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا کرتے تھے۔ مہدۂ قضا سے علیحدہ ہونے کے بعد والد محترم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ایک دن حضرت امام حنبل کی روٹی کے لیے صالح کے باورچی خانہ سے خمیر لیا گیا تو  روٹی کھانے سے پہلے فرمانے لگے۔ کیا بات ہے آج روٹی سے خیانت کی بُو آرہی ہے۔ آپ کو بتایا گیا  کہ آپ کے بیٹے صالح سے خمیر حاصل کیا گیا تھا۔ آپ فرمانے لگے وہ ایک سال تک عہدۂ قضا پر فائز رہے ہیں۔ ان کا خمیر میری روٹی کے لائق نہیں۔ میں اس روٹی کو نہیں کھاؤں گا۔ لوگوں نے آپ سے پُوچھا کہ اس روٹی کا کیا  کیا جائے۔ آپ نے فرمایا: دروزے پر رکھ دو  اگر کوئی فقیر آئے  تو اسے بتادینا اس روٹی میں خمیر صالح کے گھر کا ہے۔ آٹا امام احمد بن حنبل کا۔ اگر مرضی ہو تو کھالو ورنہ خیر۔ کہتے ہیں: چالیس دن تک کوئی سوالی نہ آیا اور روٹی پڑی رہی اور سُوکھ گئی۔ آخر کار ملازمین نے وُہ روٹی دریائے دجلہ میں پھینک دی۔ جب آپ نے اس  روٹی کے دجلہ بُرد ہونے کی خبر سُنی تو اس دن سے لے کر موت تک دجلہ کی مچھلی نہیں کھائی۔

عباسی سلطنت میں جب معتزلہ  کا غلبہ ہوگیا تو ان لوگوں سے درباری احکام کے پیشِ نظر امام احمد بن حنبل کو مجبور کیا کہ وُہ بھی قرآن پاک کو مخلوق کہیں۔ جب آپ نے نہ کہا تو  آپ کے دونوں ہاتھ کندھے پر باندھ دیے اور خلیفۂ وقت کے محل کے سامنے لائے۔ خلیفہ کے دروازہ پر ایک سپاہی کھڑا تھا۔ اس نے کہا: حضرت! میں چوری کیا کرتا تھا مجھے ایک دفعہ ہزار ڈنڈے مارے گئے تو میں چوری نہیں مانا تھا۔ آپ بھی ثابت قدم رہیں۔ میں ایک بُرے کام پر صبر کرتا رہا اور  رہا ہوگیا۔ آپ حق پر ہیں، ثابت قدم رہئے۔ حضرت امام کے بڑھاپے کے باوجود ننگے بدن پر ایک ہزار تا زیانہ برسایا گیا۔ آپ کو کہا گیا کہ جب تک آپ اقرار نہ کرلیں گے کہ قرآن مخلوق ہے، رہائی نہیں ملے گی۔ آپ نے آخرین دم تک یہ اقرار نہیں کیا۔

خلیفۂ وقت کے سامنے حضرت امام احمد کے جسم پر تازیانے برسائے جارہے تھے، اتفاقاً آپ کا ازار بند کُھل گیا۔ چونکہ آپ کے ہاتھ کندھوں سے بندھے ہوئے  تھے اپنی ازاربند درست نہ  کرسکے۔ کوئی ہاتھ غیب سے نمودار ہُوا جس نے آپ کا ازاربند ٹھیک کردیا۔ خلیفہ نے یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تو آپ کو رہا کردیا گیا مگر آپ اس عقوبت سے واصلِ  بحق ہوگئے۔

حضرت  امام حنبل عالمِ نزع میں ہاتھ سے اشارہ کررہے  تھے اور  فرماتے جاتے تھے: ابھی نہیں! آپ کے بیٹے نے پُوچھا: ابّا جان یہ کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ بڑا خوفناک وقت ہے تم سوال کررہے ہو۔ دعا کرتے جاؤ۔ تمام حاضرین جو میرے سرہانے کھڑے ہیں ان میں شیطان بھی ہے وُہ میرے سامنے کھڑے ہوکر دونوں ہاتھ اپنے سر پر مار رہا ہے اور کہہ رہا ہے۔ اے احمد! ایمان و جان دونوں مجھ سے سلامت لیے جارہے ہو۔ میں کہہ رہا ہوں: ابھی نہیں! ابھی نہیں! یعنی جب تک ایک سانس بھی باقی ہے خطرہ باقی ہے۔ جب آپ واصلِ بحق ہوئے، آپ کا جنازہ اٹھا تو سبز مُرغ آسمان سے اترتے دکھائی دیے اور جنازے پر لوٹتے تھے۔ آپ کا جنازہ دیکھ کر دوہزار گمراہ لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ان جامع الکرامات کی وفات بغداد میں بوقت چاشت بروز جمعہ ۱۲؍ربیع الاول ۲۴۱ھ (بقولِ دیگر ۲۴۲ھ) معتزلہ کے ظلم و ستم سے ہُوئی۔ آپ کا مزار پُر انوار بغداد میں ہے اور آپ کی عمر ۷۹ برس کی تھی۔

جناب احمد حنبل شہ دیں 
بتولیدش رقم کن قطب احمد

 

کہ بود اد جامع معقول و منقول
تبر حلیش بگو محبوب و مقبول
۲۴۲ھ

تجویزوآراء