حضرت امام احمد بن حنبل

حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب: اسم گرامی: احمد۔ کنیت:ابو عبداللہ۔لقب: مجدد الاسلام،شیخ الاسلام،امام السنۃ۔ سلسلۂ نسب  اس طرح ہے:  حضرت امام احمدبن  محمد بن حنبل بن ہلال بن اسدبن ادریس بن عبداللہ بن حیان بن عبداللہ بن انس بن عوف بن قاسط بن مازن بن شیبان بن ذہل بن ثعلبہ بن عکابہ بن صعب بن علی بن بکر  بن وائل بن قاسط بن ہنب بن اقصی بن دعمی بن جدیلہ بن اسد بن ربیعہ بن نزار بن معد بن عدنان شیبانی مروزی۔(محدثینِ عظام حیات وخدمات: 289)۔ امام احمد کا خاندان خالص عرب تھا۔ ان کے اجداد بصرہ میں آباد تھے۔ دادا حنبل خراسان کے گورنر تھے۔ اس لئے یہ خاندان’’مرو‘‘(قدیم خراسان کی ایک ریاست، اور موجودہ ترکمانستان کہلاتاہے)میں آباد ہوگیا۔ والد محمد بن حنبل ایک سپاہی تھے جو قومی شرافت اور علم حدیث کے امین تھے۔ 164ھ میں مرو سے ترک وطن کرکے بغداد آگئے تھے۔(ایضا: 289)

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت  ماہِ ربیع الاول 164ھ، مطابق ماہِ نومبر/780ء کو بغداد معلیٰ  عراق میں ہوئی۔(تذکرۃ المحدثین: 129)

تحصیلِ علم:ابھی صغر سن ہی تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اب کفالت اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ماں کے دوش نازک پر آئی انہوں نے اس دریتیم کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی۔ ماں کے سایۂ شفقت میں پروان چڑھ کریہ دریتیم اقلیمِ حدیث و اجتہاد کا تاج دار،اور امتِ مسلمہ کامجدد وشیخ الاسلام  بن گیا۔ امام احمد﷫ میں بچپن ہی سے قبول ِعلم کی صلاحیت اور آثارِ تقدس ظاہر تھے۔جب وہ مکتب میں تعلیم کےلیے بیٹھائے گئے اسی وقت سے ان کی عبقری صلاحیت اور تقویٰ کی شہرت ہونے لگی۔امام احمد نے ہوش سنبھالا تو عباسیوں کا پایۂ تخت بغداد علم و علماء کا زبردست مرکز بن چکا تھا،اور  پوری فضا علم و عرفان سے معمور تھی۔ابتدائی تعلیم کے بعد امام صاحب نے فقہ و حدیث کی تعلیم کے لیے اسی شہر میں حضرت امام ابو یوسف﷫(شاگردِ رشید،حضرت امام اعظم﷜)  کے حلقۂ درس میں شرکت کی وہ خود کہتے ہیں:’’اول من کتبت عنہ الحدیث ابو یوسف‘‘ میں نے سب سے پہلے ابو یوسف سے حدیث لکھی۔ (مناقب الامام احمد:20)تین سال تک ان کی خدمت میں رہے،اور ان کے علاوہ دوسرے علماء و مشائخ سے کسب ِفیض کیا۔

لیکن آپ کا ذوقِ علم اور جذبۂ تحصیل ایک ہی شہر کا پابند ہوکر نہ رہ سکا چنانچہ کوفہ،بصرہ،شام،یمن،حرمین شریفین، جزیرہوغیرہ  کا سفر کیا اور وہاں کےعلماء ومحدثین کی بارگاہوں سے وابستہ ہوکر خوب فیض حاصل کیا۔ طلب علم کے شوق میں انہوں نے بحری سفر بھی کیے۔آپ نے طلب علم میں بحری سفر کیا اور سمندر میں کشتی ٹوٹ گئی تو ایک جزیرے میں اتر گئے۔تنگدستی اور زاد سفر کی نایابی کے وقت بھی وہ علمی اسفار سے باز نہ رہتے اور پاپیادہ سفرکرتے۔ آپ کے صاحبزادے عبداللہ بن احمد کہتے ہیں:کہ’’میرے والد نے پیدل طر طوس(شام) کا سفرکیا تھا‘‘۔امام احمد نے سفر کی صعوبتیں جھیلیں اور اساطین علم سے علم حاصل کیا مگر تحصیل علم کا شوق پوری زندگی باقی رہا یہاں تک کہ جب ان کی علمی شہرت اور بزرگی کا چرچا ہر طرف ہورہا تھا اکابر شیوخ کی بارگاہوں میں طالب علم کی حیثیت سے آتے جاتے۔ ایک بار وہ قلم دوات لیے ہوئے کسی محدث کی خدمت میں جارہے تھے ایک شخص نے انہیں دیکھ کرکہا ابو عبداللہ آپ امام المسلمین ہیں پھر بھی پڑھنے جارہے ہیں؟ امام صاحب نے جواب دیا ‘‘مع المحبرۃ الی المقبرۃ’’ محبرہ (دوات کے ساتھ) مقبرہ (قبرستان) تک۔(مناقب امام احمد:23)امام صاحب نے ذوق و شوق کے ساتھ مختلف بلاد و امصار کے شیوخ و اساتذہ سے فیض پایا بلاشبہ ان کے اساتذہ کی تعداد کافی ہوگی یہاں کچھ نامور اساتذہ کے نام تحریر کیے جارہے ہیں۔امام ابو یوسف،امام شافعی، بشربن مفضل، اسماعیل بن علیہ، سفیان بن عیینہ، جریر بن عبدالحمید، یحیی بن قطان، ابوداؤد طیالسی، عبداللہ بن نمیر،  امام عبدالرزاق،(صاحبِ مصنف) علی بن عیاش، ، غندر، معتمر بن سلیمان۔ (تہذیب التہذیب، ج1 ص63)

سیرت وخصائص: حدیث وفقہ کے امام،عابد وزاہد،اقلیم علم کے شہنشاہ،حرمتِ قرآن کے پاسباں،امام ِ اہل سنت،صاحبِ حلم وعزیمت،امام المسلمین،مجدد الاسلام،شیخ الاسلام، حضرت امام احمد بن حنبل ﷜۔آپ﷫  کی علمی شخصیت کی تعمیر میں چند باتیں خاص اہمیت رکھتی ہیں وہ بچپن میں ہی یتیم ہوگئے جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ ان میں اعتماد نفس پیدا ہوگیا جو زندگی کے آنے والے مراحل میں انہیں تقویت دیتا رہا۔ فقرو افلاس  جس نے انہیں دنیا کی لذتوں میں گرفتار نہیں کیا۔ قناعت جس نے ان کے اندر علُوِّفکر و نظر پیدا کیا۔ تقویٰ جس کا اثر یہ ہوا کہ خدا کے سوا کسی اور قوت کے سامنے انہوں نے سرخم نہیں کیا۔ عقل سلیم اور فکر رسا جس کی بدولت انہوں نے علم کے ہر خرمن سے فائدہ حاصل کیا اور پوری خود اعتمادی کے ساتھ علمی جواہر پاروں سے اپنی فکروں دانش کا چراغ روشن کیا۔ اور وہ زمانۂ طالب علمی ہی میں قابل رشک علمی و اخلاقی شخصیت کے مالک بن گئے تھے۔

 امام احمد زہد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت کے بچپن ہی سے پابند تھے۔ آپ قائم اللیل اور صائم الدہر تھے۔ نماز اور روزہ سے خاص شغف تھا۔ صاحبزادہ عبداللہ کا بیان ہے کہ  میرے والد روزانہ رات دن میں سو رکعات نفل نماز پڑھتے تھے۔ کوڑوں کی ضرب سے بیمار ہوگئےتو ڈیڑھ سو  رکعات پڑھتے تھے۔اس وقت ان کی عمر اسی سال کے قریب تھی۔ روزانہ ساتواں حصہ قرآن پڑھتے تھے۔ عشاء کے بعد کچھ دیر سوکر صبح تک نماز میں مشغول رہتے تھے۔ ایک مرتبہ امام شافعی، امام یحیی بن معین، اور امام احمد بن حنبل ایک ساتھ مکہ مکرمہ گئے اور ایک ہی مکان میں اترے۔ امام شافعی اور یحیی بن معین لیٹ گئے۔ اور امام احمد بن حنبل نماز پڑھنے لگے۔ صبح کو امام شافعی نے کہا کہ میں نے رات دوسو مسائل حل کیے۔ یحیی بن معین نے کہا کہ میں نے دوسو احادیث کو کذاب سے محفوظ کیا۔امام  احمد بن حنبل نے کہا کہ میں نے ایک ختم قرآن نماز میں پڑھا ہے۔

فضل  و کمال: امام احمد بن حنبل نے اپنے زمانہ کے بڑے بڑے علمی مرکزوں میں جاکر وہاں کے شیوخ کا علم حاصل کیا تھا حفظ و ضبط اور فراست و دانائی کی خداداد صلاحیت نے ان کے جوہر علم کو چمکا دیا اور وہ اپنے معاصرین میں ممتاز ہی نہیں رہے بلکہ اسلام کی تاریخ کے بہت اہم علمی ستون بن گئے۔ اور اس مینارۂ علم و فضل سے آج تک روشنی حاصل کی جارہی ہے۔ امام احمد قرآن، تفسیر، حدیث، فقہ، عقائد وکلام، عربیت میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔ ان کی علمی شوکت اور فنی جلالت اور ثبات قدمی کا اعتراف بڑے بڑے علماو محدثین نے کیا ہے۔

ابن حبان: ’’جاب حافظا متقنا فقیھا ملازماً للورع الخفی مواظبا علی العبادۃ الدائمۃ اغاث اللہ بن امۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  وذالک انہ ثبت فی المحنۃ وبذل نفسہ للہ حتی ضرب بالبساط للقتل فعصمہ اللہ تعالٰی عن الکفر وجعلہ علما یقتدی بہ وملجأ الیہ‘‘ حافظ، متقن فقیہ، ورع کو لازم پکڑے والے، عبادت پر ہمیشہ مواظبت کرنے والے تھے۔ان کے ذریعہ اللہ نے امت محمدیہ کی مدد فرمائی اس لیےکہ وہ مشکلات میں ثابت قدم اور اللہ کے لیے اپنی ذات کو قربان کرنے والے تھے حتیٰ کہ ان کو کوڑوں سے مارا گیا تو اللہ نے انہیں اس آزمائش میں بھی کفر سے محفوظ رکھا اور انہیں ایسا علم (فقہ) عطا کیا جس کی پیروی کی جاتی ہے اور وہ ایسے ملجا ہیں جس کی پناہ حاصل کی جاتی ہے۔ (ایضاً)

ابراہیم حربی: ’’رأیت احمد کان اللہ قد جمع لہ فی علم الاولین والآ خرین‘‘۔ میں نے امام احمد کو دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اگلے پچھلے سب لوگوں کا علم ان کے سینہ میں جمع کردیا ہے۔ (تذکرہ، ج2، ص17)۔حافظ ذہبی: ’’شیخ الاسلام  وسید المسلمین فی عصرہ الحافظ الحجۃ‘‘ امام احمد بن حنبل  اپنے زمانہ کے (سرخیلِ محدثین) شیخ الاسلام، سید المسلمین بلند پایہ حافظ حدیث اور حجت ہیں۔ (تذکرہ،ج2، ص17)

حلقۂ درس: امام احمد نے چالیس سال کی عمر میں بغداد کے اندر حلقۂ درس و افتاء قائم کیا جس میں طالبانِ علم اور مسائل شرعیہ دریافت کرنے والوں کا بڑا ازدہام ہوتا بعض لوگوں کا بیان ہے کہ حلقۂ درس میں بیٹھنے والوں کی تعداد پانچ پانچ ہزار ہوتی جن میں پانچ پانچ سو حدیثیں لکھنےوالے  ہوا کرتے تھے یوں تو حکومت وقت کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئیں جبر و استبداد کے پہاڑ توڑے گئے مگر حلقۂ درس ہر حال میں قائم رہا اور علم حدیث و چقہ میں آپ کا فیضان سیل رواں کی طرح اتنا بڑھا کہ بے شمار طالبان حدیث نے اپنے دامن کو مالا مال کرلیا۔

فقہ و اجتہاد: امام احمد بلند پایہ فقیہ اور مجتہدفی المذہب تھے۔ اسلامی دنیا میں فقہ کے جو چار دبستان مشہور ہیں اور جن ائمہ کی فقہی آراء پر امت مسلمہ عمل کر رہی ہے ان میں ایک امام احمد اور  ان کا مکتبِ فقہ بھی ہے۔ امام احمد بلا ریب فقیہ اور مجتہد ہیں اور وہ  صاحب ِمذہب اور امام ِفقہ ہیں۔ آپ کی فقہی جلالت کا اعتراف مقتدر ائمہ اسلام نے کیا ہے۔ علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں: ’’وقد صار اھل الاسلام الیوم علی تقلید ھؤلاء الائمۃ الاربعۃ‘‘  اب مسلمان ان ہی چار اماموں کی تقلید کرتے ہیں۔ (مقدمہ ابن خلدون، ص۴۹۱) صاحب مفتاح السعادہ لکھتے ہیں۔ امام احمد ان مجتہدین میں ہیں جن کے اقوال و آراء پر عمل کیا جاتا ہے اور جن کا مذہب اکثر شہروں میں مروج ہے۔ (مفتاح السعادۃ، ج۲، ص۹۸)صاحب کشف الظنون تحریر فرماتے ہیں: کہ مشہور مذاہب جن کی صحت مسلم ہے چار ہیں اور وہ امام حنیفہ، مالک، شافعی اور احمد ہیں۔ (کشف الظنون، ج۲۰۲)۔

فتنۂ خلق ِقرآن اور امام احمد کی آزمائش: اسلام نے اپنے متبعین میں حق و صداقت کی تائید و جانبداری اور باطل شکنی کا جو بلند حوصلہ پیدا کیا اس کی نظیر دوسرے مذاہب میں بمشکل نظر آتی ہے۔ یہ وہ عظیم لوگ ہوتے ہیں جو حق صداقت کے رائے روشن کو بدعات کے غبار سے محفوظ رکھنے کےلیے جان شیریں کی پرواہ نہیں کرتے اسلام کی بقا وسالمیت کے لیے سر ہتھیلی پر لے کر میدان میں اتر جاتے ہیں طوفان حوادث کی ہلاکت خیزیاں ان کے پائے ثبات و استقلال میں ارتعاش پیدا کرنے میں ہمیشہ ناکام رہی ہیں۔ انہیں ہستیوں میں امام احمد بن حنبل کی عظیم شخصیت ہے وہ حق و صداقت کے اعلان میں بے حد جری و بیباک واقع ہوئے تھے ۔آپ کے سر سے ابتلاء و آزمائش کے طوفان گذرتے رہے مگر ضبط و تحمل کی یہ چٹان ذرا بھی متزلزل نہیں ہوئی۔آپ کے عہد کا عظیم فتنہ خلق قرآن کا فتنہ تھا جو یونانی فلسفہ کی موشگافیوں کا بدترین ثمرہ تھا ۔

ابو زہرہ مصری لکھتے ہیں: خلق قرآن کا مسئلہ تاریخ معتزلہ سے وابستہ ہے معتزلہ ہی نے اسے خلافت عباسیہ میں اکسایا اور پھیلایا انہیں کے افکار سے متاثر ہوکر عباسی خلفاء نے محدثین و فقہاء کو جبراً اس کا قائل کرنا چاہا اور بعض کو آلام و شدائد میں مبتلا کیا۔ خلفائے ثلاثہ، مامون، معتصم اور واثق کے عہد ہائے خلافت میں یہ فتنہ لوگوں کے ذہنوں پر مسلط رہا۔ (مذاہب اسلامی، ص253)۔ خلیفہ مامون فطرتاً عقلیت پرست واقع ہوا تھا وہ معتزلہ سے کافی متاثر ہوا۔ اور معتزلہ کو اپنا مقرب بنا لیا۔ 213ھ میں اس نے سرکاری طور پر خلق ِقرآن کے عقیدہ کا اعلان کردیا ابتداء میں وہ منکرین خلق قرآن کو بحث و نظر سے قائل کرنے میں یقین رکھتا تھا مگر زندگی کے آخری ایام میں اس عقیدہ کی جبری اشاعت پر آمادہ ہوا چناں چہ اپنے نائب اسحاق بن ابراہیم کے نام پر اپنے آخری خط میں لکھتا ہے۔’’جولوگ خلقِ قرآن کے عقیدہ کے ہم خیال نہ ہوں ان کو بیڑیاں پہناکر امیر المومنین کے لشکر کی جانب بھیج دو تاکہ امیرالمومنین انہیں دلائل و براہین سے خلق قرآن کا قائل کرلیں اگر وہ پھر بھی توبہ نہ کریں تو انہیں تہہ تیغ کردیا جائے۔ (مذاہب اسلامی، ص251)

اس نے ابتداء میں امام احمد کو حیلوں سے خلق ِقرآن کے عقیدہ کی جانب مائل کرنے کی کوشش کی مگر جب ناکامی ہوئی تو 220ھ میں دبار میں طلب کیا اور  مسئلہ پر مناظرہ کا آغاز کیا۔یہ وہ وقت تھا جب حکومت کے تشدد نے پورے ماحول کو چاروناچار اس باطل عقیدہ کا پابند بنادیا تھا ۔اس شب ِ دیجور میں صرف امام احمد  کا چراغِ صداقت پوری آب و تاب کے ساتھ روشن تھا۔ چنانچہ دربار عام میں ظلم و استبدار کے نرغے میں آپ کی زبان سے یہی صدا بلند ہوتی تھی ‘‘القرآن کلام اللہ غیر مخلوق‘‘  قرآن کلام الہی اور صفت الہی ہے اگر یہ حادث ہوتو اللہ کی ذات محل حوادث بن جائے اور یہ محال ہے۔ (تذکرۃ المحدثین سعیدی:135)

جب معتزلی مناظرین اور معتصم آپ کی زبان حق ترجمان کو سردربار خاموش کرنے سے عاجز رہے تو آپ کے قتل کا فتویٰ دیا گیا چناں چہ جلاد نے امام برحق کے جسم پر کوڑوں کی بارش شروع کردی ۔ آپ کو جسم پر مسلسل کوڑوں کی بارش ہوتی رہی جسم سے خون کے پھوارے چھوٹتے رہے مگر پائے استقلال میں جنبش نہ آئی دست ظلم شل ہوگیا مگر صداقت کی یہ چٹان اپنی جگہ قائم رہی اس سزا کے بعد امام کو 18 ماہ قید رکھ کر آزاد کردیا گیا۔ آپ کی اس مثالی عزیمت و ثبات قدمی نے اہل حق کو تقویت بخشی فتنہ کا غبار چھٹ گیا اور آپ کی ذات اہل اسلام کے لیے معیار حق بن گئی قتیبہ کہتے ہیں:’’جب تم کسی کو دیکھو کہ اس کو احمد بن حنبل سے محبت ہے تو سمجھ لو کہ وہ سنت کا متبع ہے‘‘۔ انہیں کا قول ہے فرماتے ہیں : ’’اگر سفیان ثوری نہ ہوتے تو ورع و تقویٰ کو موت ہوجاتی،  اور اگر احمد بن حنبل نہ ہوتے تو لوگ دین میں بدعات و احداث پیدا کردیتے‘‘۔ احمد بن ابراہیم دورقی کہتے ہیں : ’’ کہ اگر تم کسی کو احمد بن حنبل کی برائی کرتے ہوئے سنو تو اس کے اسلام میں شک کرو‘‘۔ سفیان بن وکیع کہتے ہیں: ’’ کہ احمد بن حنبل ہمارے نزدیک معیارِ حق  ہیں جو ان کی عیب جوئی کرتا ہے ہمارے نزدیک فاسق ہے‘‘۔

امام احمد بن حنبل کا عشقِ رسولﷺ:  آپ﷫ کی کتابِ زندگی کا ورق ورق اتباع سنت کے نقوش سے معمور ہے انہوں نے پوری زندگی اسوۂ رسولﷺ کے سانچے میں ڈھال لی تھی۔ اور وہ سنت رسول اور دینِ مصطفٰےﷺ کی حفاظت میں زندگی کے ایام بسر کرتے رہے۔امام احمد بن حنبل کا دل محبت رسول سے معمور اور دماغ خوشبوئے رسالت سے مہکتا رہتا تھا۔ عبداللہ بن حنبل کہتے ہیں کہ امام احمد کے پاس حضور ﷺ کا ایک موئے مبارک تھا وہ  اس مقدس بال کو اپنے ہونٹوں سے بوسہ دیتے اور کبھی آنکھوں سے لگاتے اور کبھی بیمار ہوتے تو اس بال کو پانی میں ڈال کر اس کا غسالہ پیتے اور شفا حاصل کرتے۔(تذکرۃ المحدثین: 133)۔امام شافعی، امام بخاری،امام مسلم،اور امام ابوداؤد جیسے حضرات آپ کے تلامذہ میں ہیں۔اسی طرح غوث الاعظم سید شیخ عبدالقادر جیلانی اور علامہ  امام ابنِ جوزی آپ کے مقلدین میں سے ہیں۔

تاریخِ وصال: 12/ربیع الاول241ھ بروز جمعۃ المبارک،  مطابق 30/جولائی 855ء کوعلم و تقویٰ کا یہ نورانی پیکرواصل باللہ ہوا۔ نماز جنازہ میں آٹھ لاکھ سے زیادہ لوگ شریک ہوئے تھے۔ آپ کے غم  میں مسلمانوں کے ساتھ یہود و نصاریٰ  ودیگر اقوام بھی شریک تھے۔آپ کا مزار پر انوار، بغداد میں مرجعِ خلائق ہے۔

ماخذ ومراجع: محدثین عظام حیات وخدمات۔تذکرۃ المحدثین۔مذاہبِ اسلامی۔مناقب امام احمد۔

مزید

تجویزوآراء