حضرت امام محمد بن الحسن الشیبانی

حضرت امام محمد بن حسن شیبانی رضی اللہ عنہ

نام ونسب: کنیت ابو عبداللہ اسم گرامی محمد، سلسلۂ نسب اسطرح ہے ،محمد بن حسن بن فرقد شیبانی، قبیلہ شیبان کی طرف نسبت ولاء کی وجہ سے شیبانی کہلائے۔

تاریخِ ولادت:امام محمد132ھ میں " واسط " میں پیدا ہوئے۔ پھر والدین نے "کوفہ "کو وطن بنایا اور یہیں آپکی پرورش ہوئی۔

تحصیلِ علم:امام محمد علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر کے قریبی مکتب یا معلّمِ خاص (جیساکہ اہلِ ثروت کے ہاں گھر میں پڑھانے کیلئے استاذ آتا ہے)سے حاصل کی ۔چودہ سال کی عمر میں امام الائمہ سراج الامہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔امام صاحب کے وصال کے بعد حضرت امام ابو یوسف سے مزید تعلیم اورفقہ میں مہارت حاصل کی ۔علمِ حدیث میں مہارت ِ تامہ حاصل کرنے کیلئے امام دارلہجرہ حضرت امام انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ان کے علاوہ متعدد شیوخ سے علمی وروحانی استفادہ فرمایا۔

سیرت وخصائص: امام محمد علیہ الرحمہ حدیث و فقہ کے استاذ،امام ومجتہد،عابد وزاہد،جواد وفیاض،صاحبِ تصانیفِ کثیرہ اور واصلِ مراتبِ عظیمہ تھے۔آپ نے ایک لاکھ سے زیادہ مسائلِ شرعیہ قرآن وسنت سے مستنبط کیے۔ہزار کے قریب کتب تصنیف فرمائیں۔بے شمار لوگوں کو زیورِ علم سے آراستہ فرمایا،جن میں حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ جیسی عبقری شخصیات شامل ہیں۔آپ بیحد ذہین و فطین تھے ۔آپ نےصرف سات دن میں قرآنِ مجید مکمل حفظ کیا۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر یہودو نصاریٰ امام محمد کی تصانیف دیکھ لیں تو بے اختیار ایمان لے آئیں ۔ایک عیسائی عالم نے امام محمد علیہ الرحمہ کی کتاب"جامع کبیر"کا مطالعہ کیا تو فوراًمسلمان ہوگیا،اور کہنے لگااگر یہ شخص پیغمبری کا دعویٰ کرے اور معجزہ اس کتا ب کو پیش کرے تو کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا،تو میں نے سوچا جس امتی کی یہ شان ہے اس نبی کے علم کا کیا مقام ہوگا۔(حدائق الحنفیہ) 

؎یہ شان ہے خدمت گاروں کی،سرکار کا عالم کیا ہوگا

 امام شافعی فرماتے ہیں مارأیت اعقل ولا افقہ ولا ازھد ولا اورع ولا احسن نطقاولا ایرادا من محمد ن الحسن مارأیت افصح منہ وکنت اظن اذ رأیتہ یقرأ القرآن کأن القرأن نزل بلغتہ میں نے امام محمد جیسا عاقل، فقیہ، زاہد متقی خوش گفتار اور بحث و نقد کرنے والا نہیں دیکھا۔میں نے ان سے زیادہ فصیح اللسان کسی کو نہیں دیکھا جب وہ قرآن پڑھتے تھے تو معلوم ہوتا تھا گویا ان ہی کی لغت میں نازل ہوا ہے۔(تہذیب الا سماء نووی)

وصال: آپکا وصال بروز پیر ،14/جمادی الثانی،189ھ بمطابق۱۶/مئی ۸۰۵ ء کو "رے"(عراق) میں ہوا۔

بحوالہ: (الامام محمد بن حسن شیبانی واثرہ فی الفقہ الاسلامی،ص،۹۲:دکتور محمد الدسوقی)

تجویزوآراء