امام مہدی بن حسن عسکری

امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

نام ونسب:اسمِ گرامی:محمد۔لقب:مہدی۔کنیت:ابوالقاسم۔ سلسلہ نسب اسطرح ہے:امام محمد مہدی بن حسن عسکری بن علی نقی  بن علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن امام حسین بن امیرالمؤمنین  حجرت مولاعلی ۔(رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین)

 تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت 13 رمضان المبارک  258 ھ میں ہوئی۔

خلافت: آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد امام حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد کے خلیفہ وجانشین مقرر ہوئے۔

سیرت وخصائص: حجۃ اللہ ، صاحب الزماں، خاتم الائمہ، صاحب الکرامات  حضرت ابوالقاسم امام مہدی رحمۃ اللہ علیہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح کامل ہستی تھے۔ عبادت وریاضت کی ادائیگی میں اور عالمِ شریعت وطریقت ہونے میں آپ اپنی مثال آپ تھے،کیونکہ آپ کی ولادت ہی غیرمعمولی طریقے سے ہوئی چنانچہ جب آپ کی ولادت کا وقت آیا تو اس وقت آپ کی والدہ پر حمل کے آثار تھے ہی نہیں اوراس طرح کی ولادت اس بات کو ظاہر کررہی تھی کہ یہ بچہ  غیر معمولی ہوکر بہت بلند مقام ومرتبہ پائے گا۔ اورہواایسا ہی کہ جب آپ اس دنیا میں جلوہ گر ہوئے تو آتے ہی قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے لگے اور اپنے والد سے فصیح وبلیغ زباں میں گفتگوں کرنے لگے۔آپ   کاکلام وبیان،وعظ ونصیحت  لوگوں کی زندگی میں انقلاب توپیدا کرہی دیتا آپ کی خاموشی بھی مخلوقِ خدا کے نافع ثابت ہوتی کہ ان کو دیکھ کر ہی شریعت پر عمل کا جذبہ حاصل ہوجاتا۔اسلام کی نشرواشاعت ، دین کی خدمت  اور عوام کی ذہنی واخلاقی وروحانی تربیت پر آپ خاص توجہ فرماتے۔ اہل تشیع امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہما کو وہ مہدی تصور کرتے  ہیں جو قربِ قیامت آئیں گی ،جن کی آمد کی خبر نبی آخر الزماںﷺ نے دی ۔حالانکہ اہلِ سنت والجماعت کے علماء نے یہ بات تحقیق سے ثابت کی ہے کہ امام مہدی کی جو خبر سرکارِ دوعالم ﷺ نے دی ہے وہ نزولِ عیسٰی علیہ السلام سے پہلے خانہ سیادات میں پیدا ہوں گے اورعیسٰی علیہ السلام سے ملاقات بھی کریں گی،جبکہ امام مہدی بن حسن عسکری پیداہوچکے اور ان کی وفات بھی ہوچکی ہے ۔لہذا امام مہدی بن حسن عسکری وہ امام مہدی نہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے آسمان سے نزول کے وقت موجود ہوں گے۔(ماخوذ از مرقات شرح مشکوٰۃ)

وصال: آپ کا وصال  7 محرم الحرام  326/بمطابق  نومبر 937 ء میں ہوا۔

ماخذ ومراجع: خزینۃ الاصفیاء۔

مزید

تجویزوآراء