حضرت ابراہیم بن رسول اللہ

حضرت ابراہیم بن رسول اللہﷺ

نام ونسب:  اسمِ گرامی: حضرت ابراہیم ﷜۔ سلسلۂ نسب اسطرح ہے: حضرت اہیم رضی اللہ عنہ بن سید المرسلین  خاتم النبین حضرت محمد ﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کالب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک ۔(رضی اللہ عنہم اجمعین)یہ حضورِ اکرم ﷺ کی اولاد مبارکہ میں سب سے آخری فرزند ہیں۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت27/ذوالقعدہ 8ھ،مطابق 17/مارچ 630ء بروز بدھ، مدینہ منورہ کے قریب مقام ’’عالیہ‘‘ کے اندر حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے۔ اس لیے مقام عالیہ کادوسرا نام ''مشربۂ ابراہیم ''بھی ہے۔ ان کی ولادت کی خبر حضورِ اکرم ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع ﷜ نے مقام عالیہ سے مدینہ آ کر بارگاہِ اقدس میں سنائی۔ یہ خو ش خبری سن کر حضورِ اکرم ﷺنے انعام کے طور پر حضرت ابو رافع ﷜ کو ایک غلام عطا فرمایا۔ اس کے بعد فوراً ہی حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور آپ ﷺ کو’’یااباابراہیم‘‘کہہ کر پکارا۔ حضور ﷺ بے حد خوش ہوئے اور ان کے عقیقہ میں دو مینڈھے آپ نے ذبح فرمائے اور ان کے سر کے بال کے وزن کے برابر چاندی خیرات فرمائی اور ان کے بالوں کو دفن کرادیا اور ’’ابراہیم‘‘  نام رکھا۔

 پھر ان کو دودھ پلانے کے لیے حضرت ’’ام سیف‘‘  رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد فرمایا۔ ان کے شوہر حضرت ابو سیف ﷜ لوہار کا پیشہ کرتے تھے۔ آپ ﷺ کو حضرت ابراہیم ﷜ سے بہت زیادہ محبت تھی اورکبھی کبھی آپ ان کو دیکھنے کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت انس ﷜ کا بیان ہے کہ ہم رسول اﷲﷺ کے ساتھ حضرت ابوسیف ﷜ کے مکان پر گئے تو یہ وہ وقت تھا کہ حضرت ابراہیم جان کنی کے عالم میں تھے۔ یہ منظر دیکھ کر رحمتِ عالم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ اس وقت عبدالرحمن بن عوف ﷜ نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ!ﷺکیا آپ بھی روتے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے عوف کے بیٹے!یہ میرا رونا ایک شفقت کا رونا ہے۔ اس کے بعد پھر دوبارہ جب چشمان مبارک سے آنسو بہنےلگے  تو آپ کی زبان مبارک پریہ کلمات جاری ہوگئے:کہ’’اِنَّ الْعَیْنَ تَدْمَعُ وَ الْقَلْبَ یَحْزَنُ وَلَا نَقُوْلُ اِلاَّ مَا یَرْضٰی رَبُّنَا وَاِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا اِبْرَاہِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ‘‘ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمزدہ ہے مگر ہم وہی بات زبان سے نکالتے ہیں جس سے ہمارا رب خوش ہو جائے اور بلاشبہ اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے بہت زیادہ غمگین ہیں۔    جس دن حضرت ابراہیم ﷜کا انتقال ہوا اتفاق سے اسی دن سورج گرہن لگا۔ عربوں کے دلوں میں زمانہ جاہلیت کایہ عقیدہ جما ہوا تھا کہ کسی بڑے آدمی کی موت سے چاند اور سورج میں گرہن لگتا ہے۔ چنانچہ بعض لوگوں نے یہ خیال کیا کہ غالباً یہ سورج گرہن حضرت ابراہیم ﷜ کی وفات کی و جہ سے ہوا ہے۔

 حضورِ اقدس ﷺ نے اس موقع پر ایک خطبہ دیا جس میں جاہلیت کے اس عقیدہ کا ردفرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : کہ’’اِنَّ اْلشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اٰیَتَانِ مِنْ اٰیٰاتِ اﷲِ لَایَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہٖ فَاِذَا رَاَیْتُمُوْھَا فَادْعُوا اللہَ وَصَلُّوْا حَتّٰی یَنْجَلِیْ‘‘۔(بخاری جلد 1 ص145 باب الدعاء فی الکسوف) یقیناً چاند اور سورج اﷲ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ کسی کے مرنے یا جینے سے ان دونوں میں گرہن نہیں لگتا جب تم لوگ گرہن دیکھو تو دعائیں مانگو اور نماز کسوف پڑھو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ میرے فرزند ابراہیم نے دودھ پینے کی مدت پوری نہیں کی اور دنیا سے چلا گیا۔ اس لیے اﷲ تعالیٰ نے اس کے لیے بہشت میں ایک دودھ پلانے والی کو مقرر فرما دیا ہے جو مدت رضاعت بھر اس کو دودھ پلاتی رہے گی۔ (مدارج النبوۃ جلد 2 ص 254)

تاریخِ وصال:  جیساکہ گزر چکا ہے کہ حضرت ابراہیم﷜ کےوصال کےدن عرب میں سورج گرہن لگا۔جدید ریاضی حساب کے مطابق وہ دن 7/جنوری 632ء کو 8:30 لگا تھا۔اس حساب سے قمری تاریخ 9/شوال المکرم 10ھ۔تو بحساب ِ شمسی ان کی عمر ایک سال 9ماہ،20دن،اور بحساب قمری ایک سال،10 ماہ، اور چھ دن ہوتی ہے۔( اللہ ورسولہ اعلم باالصواب)۔    روایت ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابراہیم ﷜ کوجنت البقیع میں حضرت عثمان بن مظعون ﷜کی قبر کے پاس دفن فرمایا اور اپنے دستِ مبارک سے ان کی قبر پر پانی کا چھڑکاؤ کیا۔(مدارج النبوۃ جلد2 ص 453)

ماخذومراجع: سیرتِ مصطفیٰﷺ۔مدارج النبوت۔اسد الغابہ۔

مزید

تجویزوآراء