حضرت بابا بلھےشاہ

حضرت بابا بلھےشاہ رحمتہ اللہ علیہ

نام ونسب: اسمِ گرامی:سید عبداللہ شاہ۔لقب:بلھے شاہ۔اسی سے شہرت دوام حاصل ہوئی ،اصل  نام  بہت کم افرادکومعلوم  ہے۔والد کااسمِ گرامی:سید سخی درویش محمد رحمۃ اللہ علیہ۔سید صاحب متقی عالمِ دین اور امام مسجد تھے۔آپ کاتعلق "اوچ  شریف "کے ساداتِ گیلانیہ سے ہے۔چندواسطوں سے سلسلہ نسب امام الاولیاء حضرت غوث الاعظم  سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔

تاریخِ ولادت: آپ کی تاریخِ پیدائش میں اختلاف ہے،لیکن جو قریبِ قیاس ہے وہ 1680ء/1091ھ ہے۔

تحصیلِ علم: آپ کےوالد ماجداپنےزمانےکےایک  بہترین عالم تھے۔عربی فارسی میں ان کو دستگاہ حاصل تھی۔چنانچہ آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کےوالد کی نگرانی میں ہوئی۔قرآنِ مجید انہی سے پڑھا۔پھرقصورپہنچ کرحافظ غلام مرتضٰی  صدیقی  علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضرہوئے۔ان سے مزیدتعلیم حاصل کی۔منقول ہے  کہ حضرت وارث شاہ رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کے شاگرد تھے،اور دونوں شاگرد عظیم شاعر بنے۔آپ ان دونوں پر فخرکیاکرتے تھے۔حضرت بلھے شاہ علیہ الرحمہ نے اس وقت کے تمام مروجہ علوم میں مہارت حاصل کی،آپ کاشمار اپنے وقت کے جید علماء کرام میں ہوتا تھا۔

بیعت وخلافت: آپ امام الموحدین حضرت شاہ عنایت اللہ قادری رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ،اور منازلِ سلوک طے کرنے کے بعد خلافت سے نوازے گئے۔

سیرت وخصائص:سیدالعاشقین،زبدۃ العارفین،امام الکاملین،سندالواصلین حضرت سید عبداللہ شاہ المعروف  حضرت بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ۔اللہ جل شانہ نے آپ کو شہرتِ دوام عطاء فرمائی ہے۔آپ علم وعمل،زہدوتقویٰ صدق واخلاص،کے پیکر تھے۔آپ کے نزدیک علم بغیر عمل اور تقویٰ بغیر خلوص کے بےسود ہے۔آپ نے اپنی شاعری میں اسی چیزکو اجاگرکیا ہے۔آپ فرماتے ہیں:

؏: پڑھ پڑھ کتاباں علم دیاں توں نام رکھ لیا قاضی۔۔۔ہتھ وچ پھڑ کے تلوار نام رکھ لیا غازی

مکے مدینے گھوم آیا تے نام رکھ لیا حاجی۔۔۔او بلھیا!حاصل کی کیتا؟ جے توں رب نا کیتا راضی

اس وقت "قصور"میں ایک پٹھان حکمران تھا،جوہروقت عیاشی میں لگا رہتاتھا۔مرشد نے حضرت بلھےشاہ علیہ الرحمہ  کو" قصور"جا نے کی ہدایت فرما ئی۔آپ کو قصور بھیجنے میں بہت سی مصلحتیں مد نظر تھیں۔قصور کے لوگ بے دین وعیاش اور سر کش قسم کے تھے۔دینداری وپرہیزگاری نام کی کوئی چیز ان کے ہاں نہ تھی۔ قصور بے اعتد الی اور لا قانو نیت کا مر کز بن چکا تھا۔وہا ں کے لوگ ظالم اور کسی سا ئل کو صد قہ و خیرات تک نہ دیتے تھے۔ان کی اصلا ح اشدضروری تھی۔ اس کے علا وہ  شیخ آپ کو مقا مات ِسلوک طے کرانا چا ہتے تھے ۔لوگوں کو تبلیغ ،وعظ ونصیحت،اور پھر ان کی طرف سے جور وغیرہ برداشت کرنا۔آپ جب  قصورتشریف لائے تو  ہروقت تلاوت،ذکرواذکار،میں مستغرق رہنے لگے۔لوگ آپ کے پاس دعا کےلئے  حاضر ہوتے اور اپنی مرادیں حاصل کرتے۔رفتہ رفتہ آپ نے تبلیغ شروع کردی،آپ کی تبلیغ سے قصور میں دینداری کی بہاریں نظر آنے لگیں۔لوگ فسق وفجور چھوڑکر عملِ صالح کی طرف راغب ہونے لگے۔ آپ نے سینکڑ وں اشعار کہے۔آپ کےکلام کی سب سے بڑی خصو صیت یہ ہے کہ اس  سےتعلیم یا فتہ طبقہ بھی لطف اندوز ہو تا ہے، اور نا خو اندہ بھی، آپ کے اشعار میں حقیقت سچا ئی اور خوب صورتی جا بجا عیا ں ہے، آج بھی  لوگ حضرت بلھے شاہ ر حمتہ اللہ علیہ کے کلا م کو پڑھتے اور سر د ھنتے ہیں۔

حضرت خواجہ سلیمان تو نسو ی ر حمتہ اللہ علیہ کے ارشادات اور ملفو ظات کے مجمو عہ" نا فع السا لکین"میں ہے: "حافظ شیرازی ر حمتہ اللہ علیہ نے "مسئلہ و حدت الو جود "کو صو فیاءکی  اصطلا حات کے پر دہ میں بیا ن کیا  ہے۔اصلطلا حات ِصو فیا ء کے جا نے بغیر حافظ کا کلام سمجھ میں نہیں آسکتا۔نیز فرمایا کہ بلھے شاہ رحمتہ  اللہ علیہ  شمشیر ِبر ہنہ کی مانند ہیں کہ انہو ں نے مسئلہ و حدت الو جود کو بے پردہ بیا ن کیا ہے، دوسرے عا رفین نے مسئلہ مذکو ر کو عر بی یا فارسی زبان میں بیا ن کیا ہے لیکن بلھےشاہ ر حمتہ اللہ علیہ نے ہند ی میں بیا ن کیا ہے،ہندی سے آپ کی مراد پنجاب کے عوام کی زبان آپ کی شا عری میں پیار محبت امن رواداری اور اطا عت کا پیغام ملتا ہے، آپ کے کلام میں سو چ،رس سوز اور تڑپ، لطا فت سادگی اور پا کیزگی پا ئی جا تی ہے۔ آپ کا کلام معر فت حکمت دا نا ئی  اورعبرت سے خالی نہیں"۔

حضرت بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ سچے عاشقِ رسولﷺ،پابندِ شرع،اور سچے داعیِ اسلام تھے۔جیساکہ پہلے ذکر کرچکے ہیں،کہ حضرت کی  رشدوہدایت سے "قصور" میں دینداری نظرآنے لگی۔لیکن اس وقت بہت سے جُہال وفساق، شعائرِ اسلام ،اور دین سے وابستہ افراد کا"مذاق اور تحقیر"کے لئے حضرت کے اشعار کاسہارا لیتے ہیں۔مثلاً:نماز پڑھناہے کم زنانہ،روزہ سرفہ روٹی،اچیاں بانگاں اودیندے نیت جنھاں دی کھوٹی۔وغیرہ وغیرہ۔وہ کہتے ہیں کہ آپ جو چاہیں کرتے رہیں،بس آپ کا"اندر"صاف ہوناچاہیے؟مسجد بھی صحیح ہے،مندر بھی صحیح ہے،کسی کو غلط نہیں کہنا چاہیے۔ان کے بقول  اللہ کاگھر مسجد  گرادو ،لیکن کسی کادل مت توڑو۔کیا یہ حضرت بلھے شاہ کافلسفہ ہے؟

آئیے دیکھتے ہیں حقیقت کیاہے؟: ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک اللہ جل شانہ کاکلام ہے۔یہ بات تو ہرکوئی جانتا ہے،کہ  کثیرتعداد میں موضوع  احادیث موجود ہیں،محدثین نے مستقل کتب  اسماء الرجال اور موضوع احادیث پر  تصنیف فرمائی ہیں۔جو اس چیزکا بین ثبوت ہیں کہ کچھ ناعاقبت اندیش افراد ایسےبھی ہوتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بول سکتے ہیں۔جب "احادیث گھڑی"جاسکتی ہیں توکیا  جھوٹے اشعار نہیں منسوب کیے جاسکتے؟دراصل بات یہ ہے کہ ان جاہلوں کومعلوم ہے کہ اگر ہم اسلام کے بارے میں ایسی بات اپنی طرف سے کریں گے توجوتے پڑیں گے،اورلوگ مخالف ہوجائیں گے۔سو یہ کسی بڑے فوت شدہ بزرگ کاسہارالیتے ہوئے جھوٹ گھڑتے ہیں ،اور پھر ان کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جب بھی کسی بزرگ کے بارے میں ایسے بات پڑھیں یا سنیں جس میں اسلام اور شعائرِ اسلام کامذاق اڑایاگیا ہو۔حق یہ ہے کہ اس کی طرف غلط منسوب کی گئی ہوگی۔یامرادی معنیٰ اور ہوگا۔اگر معتبر ذرائع سے یہ معلوم ہوجائے کہ اسی بزرگ کاقول ہے "تو ہمارے لئے حجت  اللہ  کاکلام اور اللہ کے رسولﷺ کافرمان ہے۔

تاریخِ وصال: تاریخِ وصال کے بارے میں مختلف اقوال ہیں ۔بقول تذکرہ اولیائے پاکستان ،1181ھ ہے۔آپ کا مزار مبارک " قصور" ریلوے روڈ پر زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔آپ کاعرس ہرسال شمسی ماہ بھا دوں میں جو چاند نظر آئے اس کی 11،12 تاریخ کو قصور میں منعقد ہوتا ہے۔

ماخذومراجع:  تذکرہ اولیائے پاک وہند۔تذکرہ اولیائے پاکستان۔اولیائے قصور۔

؏: بلھے شاہ اساں مرنا،     ناہیں گورپیا کوئی ہور۔

خلافت و اجازت  

تجویزوآراء