حضرت اسماء بنت ابی بکر

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی ا للہ تعالیٰ عنہ کے سب سے بڑے بیٹے حضرت سید ناعبد اللہ بن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سگی بہن ہیں اور آپ ہی حضرت سیدنا حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سب سے بڑی بیٹی ہیں، ہجرت کے موقع پر زاد سفر باندھنے کےلیے کوئی کپڑا نہ تھا آپ نے ہی اپنے کمر بند کے دو ٹکڑے کر کے باندھا تھا اس وقت سے آپ ذَاتُ النَطَاقَیْن کےلقب سے مشہور ہوگئیں۔حضرت سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے مکہ مکرمہ میں نکاح کیا جس سے متعدد اولاد ہوئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سو سال عمر پائی آخری عمر میں بینائی جاتی رہی اور مکہ مکر مہ میں وصال ہوا۔ آپ کےبیٹے حضرت سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہنشاہ ِ مدینہ ،قرار قلب و سینہ صلی اللہ وسلم کی زیارت کی اور مقام صحابیت پر فائز ہوئے۔

اسماء دختر ابوبکر الصدیق(ابوبکر کا نام عبداللہ بن عثمان تھا)قرشیہ،تیمیہ جو زبیر بن عوام کی زوجہ، عبداللہ بن زبیر کی والدہ اور ذوالنطاقین کے لقب سے ملقب تھیں،ان کی والدہ کا نام قیلہ یا قتیلہ دختر عبدالعزی بن اسعد بن جابر بن مالک بن حسل بن عامر لوئی تھا،جناب اسماء حضرت عائشہ کی سوتیلی بہن تھیں،اور عمر میں ان سے بڑی تھیں،اسی طرح عبداللہ بن ابو بکر ان کے سوتیلے بھائی تھے، بقول ابو نعیم وہ ہجرت سے ستائیس سال پہلے پیدا ہوئیں،ان کی پیدائش کے وقت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی عمربیس سے کچھ اوپر تھی،جناب اسماء سترہ آدمیوں کے بعد ایمان لائیں،جب انہوں نے ہجرت کی،توحاملہ تھیں،اور جب قبا میں پہنچیں توعبداللہ بن زبیر پیداہوئے۔

ذات النطاقین کی وجہ یہ تھی،کہ ہجرت کی رات کو انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر کے لئے کھانا تیار کیا،اسے باندھنے کے لئے گھر میں کوئی چیز موجود نہ تھی،جناب اسماء نے اپنی اوڑھنی کے دوحصّے کئے،ایک میں کھانا باندھااور دوسرا سرپر اوڑھ لیا،اس پر آپ نے ان کے اس انداز کو پسند فرماکر یہ لقب عطا کیا،کچھ عرصے کے بعد زبیر نے انہیں طلاق دےدی،اور یہ اپنے بیٹے عبداللہ کے پاس رہائش پذیر ہوگئیں۔

ان کی طلاق کے بارے میں اختلاف ہے،ایک روایت میں ہے،کہ ایک دن عبداللہ نے اپنے والد سے کہا،کہ آپ جس طرح مجھ سے سلوک کرتے ہیں،میری ماں سے ایسا سلوک نہ کیا کریں،اس پر ان کے والد نے اسماء کو طلاق دے دی،ایک روایت میں ہے،کہ اسماء،عبداللہ ،عروہ اور منذر کی ولادت کے بعد بوڑھی وہ گئی تھیں،اس لئے زبیر نے انہیں طلاق دے دی تھی،ایک روایت میں ہے کہ زبیر نے اسماء کو مارا،اس پر انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ کو مدد کے لئے بلایا،جب وہ اپنی ماں کی امداد کے لئےادھر متوجہ ہوئے،تو ان کے والد نے کہا،کہ اگر تُو میرے کمرے میں داخل ہوا،تو تیری ماں کو طلاق ہوجائے گی،عبداللہ نے کہا،حیف ہے،کہ آپ میری ماں کو اپنی قسم کا ہدف بنارہے ہیں،اس پر عبداللہ اپنے والد کے کمرے میں داخل ہوگئے،اور حسب شرط طلاق واقع ہو گئی اور عبداللہ اپنی ماں کو ساتھ لے کر آگئے ،اور مفارقت ہو گئی۔

جناب اسماء سے عبداللہ بن عباس ان کے بیٹے عروہ اور عباد بن عبداللہ بن زبیر اور ابوبکر اور عامر پسران عبداللہ بن زبیر اور مطلب اور محمد منکدر اور فاطمہ دختر منذر وغیرہ نے روایت کی ہے۔

ابو الفضال عبداللہ بن احمد الخطیب نے ابو محمد جعفربن احمد السراج سے،انہوں نے ابوعبداللہ الحسین بن علی بن یوسف المقری معروف بہ ابن الاخن سے،انہوں نے ابوالفتح یوسف بن عمر بن مسرور القواس سے،انہوں نے ابوالقاسم بن منیع سے،انہوں نے ابوالجہم العلاء بن موسیٰ الباہلی سے،انہوں نےلیث بن سعد سے(ح) ابن بنت المنیع نے ابوالجہم المقری سے،انہوں نے ابن عینیہ سے،انہوں نے ہشام بن عروہ سے ،انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے اپنی والدہ اسماءسے روایت کی،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا،یا رسول اللہ!جب میری ماں نے مجھے جنا،تو وہ مجھ سے بیزار سی تھی،کیونکہ وہ قریش کے عہد جاہلیّت میں مشرکہ تھی،کیا میں اس کی بھلائی کی دعا کروں،فرمایا ،ہاں۔

اس کے بعد اسماءعرصےتک زندہ رہیں،اور آخری عمر میں اندھی ہوگئی تھیں،وہ ۷۳ھ؁ میں جب انکے بیٹے عبداللہ بن زبیر کو عبدالملک بن مروان کے حکم سے قتل کیاگیا،اور ان کی لاش سولی پر لٹکا دی گئی،زندہ تھیں اور ان کی عمر سوسال سے زائد تھی،روایت ہے کہ جب ان کے بیٹے کی لاش اتاری گئی تو دس دن کے بعد یا بیس دن کے بعد یا بیس دن سے چند دن کے بعد اس مخلص خاتون کی وفات ہوگئی۔

قبولِ امان کے بارے میں انہوں نے جو گفتگو اپنے بیٹے سے کی،وہ دلیل ہے،ان کی عقل رسا،دین پر پختہ یقین اور مضبوط اراد ے کی،جس کی مثال بہت کم ملتی ہے،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔

مزید

تجویزوآراء