پیر طریقت حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری

پیرِ طریقت حضرت علامہ  سید شاہ  تراب الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:اسمِ گرامی: اسمِ گرامی: شاہ تراب الحق۔آپ کانام حیدرآباد دکن کے ایک مشہور بزرگ "حضرت شاہ تراب الحق علیہ الرحمہ"کے نام پر رکھا گیا جن کا مزار حید آباد دکن ہندوستان میں ہے۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: حضرت  سیدشاہ تراب الحق  قادری بن  حضرت سید شاہ حسین قادری بن سید شاہ محی الدین قادری بن سید شاہ عبداللہ قادری بن سید شاہ مہراں قادری ۔اور والدہ ماجد کی طرف سے آٓپ   کا سلسلۂ نسب فضیلت جنگ، بانیِ جامعہ نظامیہ حیدرآباددکن،شیخ الاسلام  حضرت امام انواراللہ  فاروقی رحمۃ اللہ  علیہ کے واسطے سے  امیرالمؤمنین حضرت فارقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے جاکرملتاہے۔(رحمۃ اللہ علیہم اجمعین)

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 27/رمضان المبارک1365ھ،مطابق اگست/1946ءکو"موضع کلمبر"شہرناندھیڑ(ریاست حیدرآباددکن،انڈیا)میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم مدرسہ "تحتانیہ "دودھ بولی بیرون دروازہ نزد جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن ہندوستان سے حاصل کی۔ پاکستان تشریف آوری کے بعد پی آئی بی کالونی کراچی میں " فیض عام ہائی اسکول" میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے رشتے کے خالو اور سسر پر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ سے گھر پر کتابیں پڑھیں اور پھر دارالعلوم امجدیہ کراچی میں داخلہ لیا لیکن زیادہ تر اسباق شیخِ طریقت حضرت علامہ مولانا قاری محمد مصلح الدین صدیقی رضوی علیہ الرحمہ سے پڑھے۔ سند حدیث صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کے صاحبزادے حضرت علامہ مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری علیہ الرحمہ جو اس وقت دارالعلوم امجدیہ کراچی کے شیخ الحدیث تھے،سےحاصل کی۔ جبکہ اعزازی سندو قار ملت، سرمایہ ملت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد وقار الدین قادری رضوی علیہ الرحمہ (مفتی اعظم پاکستان)سے حاصل کی۔

بیعت وخلافت: 1962ء میں بذریعہ خط اور 1968ء میں بریلی شریف جاکرمفتی اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مصطفیٰ رضا خان  علیہ الرحمہ کے دست حق پرست پر سلسلہ عالیہ  قادریہ میں بیعت کا شرف حاصل کیا۔حضرت مفتیِ اعظم ہند، حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی ،حضرت شیخ  فضل الرحمن مدنی نے اجازت وخلافت سے نواز۔

سیرت وخصائص:بقیۃ السلف،حجۃ الخلف، شیخِ طریقت ،امیر جماعتِ اہلسنت،مردِ مؤمن مردِحق حضرت سیدشاہ تراب الحق قادری رضوی  رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ  کانام جیسے ہی ذہن میں آتاہے،توایک جامع  شریعت وطریقت شخصیت کا خاکہ ہمارے سامنے آجاتاہے۔ جن کی زندگی کوتامل کیے بغیرایک مردِ مجاہداورمردِ مؤمن کی زندگی قراردیاجاسکتا ہے۔آپ علیہ الرحمہ ان حالات میں اہل سنت کےلئے ایک شجرسایہ داراورعظیم نعمت تھے۔آپ بلاشبہ مسلکِ حق اہل سنت وجماعت کےسچے ترجمان،اور تعلیماتِ اعلیٰ حضرت کےپاسبان تھے۔شاہ صاحب کی دینی خدمات، تنظیماتِ اہلِ سنت،اورمساجد ومدارسِ اہلِ سنت  کی سرپرستیٍ،متوسلین کاتزکیہ نفس،عوامِ اہلسنت کےایمان کی حفاظت کےلئے درس وبیان،دکھیاری ا  مت  کاروحانی وجسمانی علاج اور ان کے مسائل کاحل،اندرون وبیرون ملک تبلیغی دورے،پھرمصروفیات میں سے وقت نکال کر تألیف وتصنیف،بدمذہبوں کااخبارات وجرائدمیں  علمی تعاقب، اس پرفتن اورنفسا نفسی کے دور میں قبلہ شاہ صاحب علیہ الرحمہ  کی ذاتِ مبارکہ  کاخاصہ تھا جواتنے کام  فی سبیل اللہ سرانجام دیتے تھے۔آپ "علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل"کامصداق اور"انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء"کی تعبیراور "الا ان اولیاء اللہ لاخوف علیہم ولاھم یحزنون"کی تفسیر تھے۔حضرت خطابت میں اپنی مثال آپ تھے۔مخصوص اندازولہجے میں جب بیان فرماتے تودل ودماغ منورہوجاتے تھے۔آپ کی دینی وسیاسی خدمات کوہمیشہ یادرکھاجائے گا۔باالخصوص"C295"کے تحت گستاخِ رسول ﷺکی سزائےموت آپ کاایک عظیم کارنامہ ہے۔(ویسے تو ہمارے کرپٹ حکمران "قانون،قانون" کہتے ہوئے تھکتے نہیں ہیں،لیکن اس قانون پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہواہے،اس وقت(2016)تک تقریباً 1400کیسز توہین رسالت کے درج کیے گئے عدالتوں کےپاس ثبوت بھی موجود ہیں لیکن کسی کوسزای نہیں ملی۔اگرمعاملات ایسے ہی چلتے رہے،توحکمرانوں کے ذہن میں غازیِ ملت غازی ممتازحسین قادری شہید کا ضرورتصورہوناچاہئے،کہ ناموسِ رسالت کے مسئلےپر ہر سنی ممتاز قادری ہے)۔اس فقیر(تونسوی غفرلہ)نے  اپنی آنکھوں سے دیکھاکہ جب "جامع مسجداقصیٰ نزدعوامی مرکز"میں تحفظ ناموسِ مصطفیٰﷺ کےسلسلے میں "علماء کنونشن"منعقدہوا۔اس وقت شاہ صاحب نہایت علیل تھے،لیکن شاہ صاحب نے علالت کے باوجود شرکت فرمائی،اورخطاب فرمایا،اورآپ کی جرأت وشجاعت اور دینِ متین کےلئےکڑھن دیکھ کر سب حیران ہوگئے۔آپ کاجسم تو عمراورعلالت کی وجہ سے نہایت ہی کمزور ہوگیا تھا،لیکن عشق جوان اورتوانا  تھا۔یہی عشقِ مصطفیٰ ﷺہی ہمارا سرمایۂ حیات ہے۔آپ ساری زندگی  اتحاداورفروغِ اہلِ سنت کےلئے کوشاں رہے،اور اتحادِ اہلِ سنت کے ارمان لیے شہرِ خاموشاں کی طرف روانہ ہوئے۔ہمیں اپنے اکابرین کےنقشِ قدم پرچلتے ہوئےدینِ متین کی خدمت اور اتحادِ اہلسنت کےلئے کوشش کرنی چاہئے۔

وصال: آپ کاوصال بروز جمعرات،4/محرم الحرام1438ھ،مطابق 6/اکتوبر2016ءکوہوا۔آپ کے نمازِ جنازہ میں کثیر افراد شریک ہوئے۔کراچی کی تاریخ  کاایک بہت بڑا نمازِ جنازہ تھا۔آپ کی تدفین  پیرِ طریقت حضرت مصلح الدین علیہ الرحمہ کے مزار مصلح ا لدین  گارڈن  کھارادر(کراچی،پاکستان)میں ہوئی۔

ماخذومراجع: سید شاہ تراب الحق قادری کی شخصیت وخدمات۔

 

تجویزوآراء