مفسرقرآن علامہ سید شاہ ابوالحسنات احمد قادری اشرفی لاہوری علیہ الرحمۃ

مفسرقرآن علامہ سید شاہ ابوالحسنات احمد قادری اشرفی لاہوری علیہ الرحمۃ

حضرت علامہ مولانا سید محمد احمد قادری ابن امام المحدثین مولانا سیددیدار علی شاہ قدس سرہما1314ھ؍1896ء میں محلہ نواب پورہ،الور میں پیدا ہوئے[1]

حافظ عبد الحکیم اور حافظ عبد الغفور سے کلام پاک حفظ کیا،اسی دوران مرزا مبارک بیگ سے اردو اور فارسی کی ابتدائی تعلیم شروع کی اور جگت استاذ قاری قادر بخش سے تجوید کی مشق کی،گیارہ بارہ سال کی عمر میں حفظ کلام پاک کے ساتھ ساتھ اردو انشاء پر دازی اور فارسی میں کسی قدر مہارت حاصل کرلی،پھر تمام علوم و فنون کی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی۔

 اسی اثناء میں مشین سازی،رنگائی،کارپینٹری،گھڑی سازی،خیاطی اور ٹیلیفون کا کام سیکھ لیا،مرادآباد میں حکیم نواب حامی الدین سے علم طب حاصل کیا[2]

حضرت صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی اور اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا بریلوی کے فیوض سے بھی مستفیض ہوئے،حضرت مولانا شاہ علی حسین کچھوچھوی قدس سرہ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے[3]

تحصیل علوم سے فارغ ہوتے ہی ایک حادثہ رونماہوا، ہندوئوں نے الور کی مسجد تریولیہ شہید کردی،اس واقعہ نے مولانا کو شعلۂ جوالہ بنادیا،آپ نے خدا داد خطیبانہ صلاحیتوں سے مسلمانوں میں روح پھونک دی،مسجد کی واگزری کے لئے زبرست جدو جہد شروع ہو گئی،مولانا کو گرفتار کرلیا گیا لیکن مسلمانوں کے شدید دباؤ کی بنا پر مہاراجہ الورنے نہ صرف مولانا کو رہا کیا بلکہ سرکاری خرچ سے مسجد دوبارہ تعمیر کردی[4]

حضرت علامہ ابو الحسنات قدس سرہ تبلیغ اسلام اور مسلمانوں کی فلاح و بہبو دکا بے پناہ جذبہ رکھتے تھے،متحدہ پاک وہند کا شائد ہی کوئی گوشہ ایسا ہوگا جہاں تبلیغ اسلام کی خاطرآپ نہ پہنچے ہوں۔ذریعۂ معاش کے طو پر مطب جاری رکھا،اس طرح روحانی امراض کے علاوہ جسمانی امراض سے بھی جہاد کرتے رہے۔

مسجد وزیر خاں،لاہور کی خطابت سے امام المحدثین مولانا سید دیدار علی شاہ قدس سرہ سکبدوش ہوئے تو سر ظفر علی ریٹائر ڈ جج ہائیکورٹ و متولی مسجد وزیر خاں نے بڑے اصرار کے ساتھ منصب خطابت مولانا ابو الحسنات کے سپرد کیا چنانچہ مولانا الور سے رخت سفر باندھ کر لاہور تشریف لے آئے اور ہمیشہ کے لئے لاہور کے ہو کر رہ گئے۔

 لاہور سے جو بھی دینی و ملی تحریک اٹھی اس میں آپ امتیازی حیثیت سے شریک ہوئے۔الور میں آپ انجمن خادم الاسلام کے صدر اور فتوے ٰکمیٹی کے ہیڈ مفتی تھے۔

 مسجد وزیر خاں میں بزم تنظیم قائم ہوئی جس کے صدر بنائے گئے،اس تنظیم کے شعبۂ تالیف کے زیر اہتمام 35ٹریکٹ لکھ کر شائع کئے،انجمن حزب الاحناف،لاہور کے امیر مقرر ہوئے اور گرا نقدر خدمات انجام دیں۔

 آل انڈیاسنی کانفرنس نے تحریک پاکستان میں جس سر فروشی اور جاں سپاری سے کام کیا ا س کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔قیام پاکستان کے بعد ایک ایسی ہمہ گیر تنظیم کی ضرورت محسوس ہوئی جو اہل سنت و جماعت کو منظم کرنے کے ساتھ ملکی اور ملّی مسائل میں راہنمائی کا فریضہ انجام دے،غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی دامت برکاتہم العالیہ کی تحریک پر انوار العلوم،ملتان میں 26،27،28، مارچ 1978ء کو ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان بھر کے علمائے مشائخ نے شرکت کی،جمعیۃ العلماء پاکستان کی تشکیل کے بعد حضرت علامہ ابو الحسنات صدر،اور حضرت علامہ کاظمی،ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔

 جمعیۃ العلماء پاکستان اور جمعیۃ المشائخ کے متفقہ فیصلہ کے مطابق 7؍مئی 1948ء بروز جمعہ پاکستان بھر میں یوم شریعت منایا گیا،جلسے منعقد ہوئے،قائد اعظم اور اسلامی جرائد کو تاریں دی گئیں اور حکومت پر زور دیاگیا کہ پاکستان میں قانون اسلامی نافذکیا جائے[5]

 مجاہدین اسلام کشمیر ی محاذ پر حق خودار ادیت کے حصول کے لئے جانبازی کا مظاہرہ کر رہے تھے،مودودی صاحب نے اس جنگ کو جہاد تسلیم نہیں کیا،حضرت علامہ ابو الحسنات رحمہ اللہ تعالیٰ نے فتویٰ دیا کہ یہ جنگ جہاد فی سبیل اللہ ہے اور مسلمانوں کوہر ممکن طریقہ سے مجاہدین کی امداد کرنی چاہئے[6]

جمعیۃ العلماء پاکستان کی تحریک پر 80ہزار روپے سے زائد کا سازو سامان مجاہدین میں تقسیم کیا گیا[7]

 صدر جمعیۃ نے بنفس نفیس احباب سمیت محاذ کشمیر کے کئی دورے کئے اور مجاہدین کی ہمت افزائی کے ساتھ ساتھ انہیں سامان ضرورت مہیا کیا،ان مساعی جمیلہ کی بنا پر آپ کو ’’غازی کشمیر ‘‘ کا لقب دیا گیا[8]

جہاد کشمیر کے قائدین نے آپ کی خدمات کا بر ملا اعتراف کیا اور آپ کا شکر یہ ادا کیا چوہدری غلام عباس، پر یزیڈنٹ آزاد کشمیر و صدر مسلم کانفرنس جموں کشمیر کا ایک مکتوب ملاحظہ فرمائیں!

 9؍مئی 1949ء۔سیالکوٹ محترم جناب ابو الحسنات صاحب

 احقر غلام عباس السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج شریف

آپ کا خط ملا،اس سے قبل بھی جناب کا گرامی نامہ موصول ہوا تھا، قیام لاہور کے دوران میں میں نے آپ سے ملاقات کی بے حد کوشش کی لیکن مصروفیت کی وجہ سے میں ایسانہ کر سکا،امید کہ آپ معاف فرمائیں گے۔

 جہاد کشمیر اور مسئلۂ کشمیر کے بارے میں آپ کی مالی،اخلاقی اور سیاسی سر گرمیاں باعث تشکر و اطمینان ہیں،خدا آپ کو،ہم کو مشترکہ مقصد میں جلدکامیاب کرے،آمین ثم آمین۔

 ایک اور مکتوب ملاحظہ ہو:

 فورسز ہیڈ کو اٹرزلائن

16.4.49

محترم بندہ السلام علیکم

 گذشتہ ماہ مجھے لاہور مدعو کیا گیا وہاں آپ اور آپ کے رفقاء نے جس خلوص اور ہمدردی کا ثبوت دیا اس کے لئے میں تہ دل سے شکر گزار ہوں،

من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ!

آپ کی ذات گرامی سے امید واثق ہے کہ بسلسلۂ استصواب رائے کشمیر آپ کی مساعئی جمیلہ اس وقت تک جاری ساری رہیں گی جب تک تمام کشمیر اور اس کے ملحقات کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو کر وہاں اسلام کا قرآنی نظام قائم نہ ہو جائے۔

 والسلام بالوف الاحترام

احمد علی شاہ وزیر وفاع آزاد کشمیر

قیامِ پاکستان کے بعد ختم نبوت کے قصر رفیع میں نقب لگانے والے مرزائی قادیان سے منتقل ہو کر پاکستان آگئے اور پاکستان کے وزیر خارجہ ظفر اللہ کے نام سے برائے نام قیمت کے عوض ربوہ کی زمین حاصل کر کے ارتد ادپھیلانے میں مصروف ہو گئے،اس فتنے کے انسداد کے لئے پاکستان کے تمام علماء ،سنی ،دیوبندی،

غیرمقلد، جماعت اسلامی اور شیعہ نے مل کر 1953ء میں مجلس عمل قائم کی جس کے صدر مولانا ابو الحسنات قادری منتخب ہوئے۔ متفقہ طور پر خواجہ ناظم الدین کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ظفر اللہ کو وزارت کے منصب سے بر طرف کیا جائے اور مرزائیوں کو قانونی طور پر غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے لیکن ارباب اقتدارٹس سے مس نہ ہوئے،آخر طے پایا کہ ایک وفد کراچی جاکر مرکزی وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین سے ملے اور اپنے مطالبات پیش کرے۔خواجہ صاحب نے معذوری کا اظہار کیا اور قائدین وفد کو قید کرلیا۔

 یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی،جگہ جگہ احتجاجی جلسے ہونے لگے، جلوس نکلنے لگے،عوام و خواص کے مطالبے اورا حتجاج کی شدت کے ساتھ ساتھ حکومت کا تشدد بھی بڑھتا گیا اور پورے ملک کے جیل خانے فدا یان ختم نبوت سے بھر گئے۔

حضرت علامہ ابو الحسنات رحمہ اللہ تعالیٰ اور دیگر زعماء کو سکھر جیل میں منتقل کردیا گیا،آپ نے قیدو بند کی صعوبتوں کو بڑی استقامت کے ساتھ برداشت کیا۔

جب پس دیوار زنداں آپ کو اطلاع ملی کہ آپ کے اکلوتے فرزند مولانا خلیل احمد قادری مدظلہ کو تحریک ختم نبوت میں حصہ لینے پر پھانسی کی سزادے دی گئی ہے تو آپ نے بے ساختہ کہا:

 ’’الحمد للہ !اللہ تعالیٰ نے میرا یہ معمولی ہدیہ قبول فرمالیا[9]

 ‘‘ محمد منشا تابش قصوری ،مولاناا لحاج : روز مرزائیت میں علماء اہلسنت کا حصہ ،ضیائے حرم ، ختم نبوت نمبر،دسمبر 1974ء ،ص 67

بعد میں پتہ چلا کہ یہ خبر غلط تھی۔آپ نے ایام اسیری میں قرآن پاک کی تفسیر ’’تفسیرات الحسنات‘‘ لکھنے کا کام شروع کردیا اور متعدبہ حصہ جیل ہی میں لکھا۔

 جب دیگر زعماء گرفتار ہو گئے تو مجاہد اسلام مولانا عبد الستار خاں نیازی مدظلہ العالی نے مسجد وزیر خاں کو مرکز بنا کر اپنی شعلہ بار تقریروں سے تحریک کو آگے بڑھایا، انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا اور ان کے خلاف پھانسی کا فیصلہ صادر کردیا گیا ۔

؎ یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

قریب تھا کہ یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہو جاتی لیکن بعض آسائز پسند لیڈر حکومت سے معافی مانگ کر رہا ہو گئے،بعد اذاں مولانا ابو الحسنات اور مولانا عبد الستار خاں نیازی کو بھی رہا کردیاگیا،اس طرح یہ تحریک وقتی طور پر رک گئی۔1975ء میں دوبارہ یہ تحریک چلی تو کامیابی سے ہمکنار ہو گئی اور 7؍ستمبر کومرزائی غیر مسلم قراردئیے گئے[10]

حضرت علامہ ابو الحسنات مایہ ناز خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ میدان تحریر میں نظم و نثر پر قدرت کاملہ رکھتے تھے،حافظ ؔ تخلص کرتے تھے،انجمن حمایت اسلام، لاہور کے ایک اجلاس میں میں علامہ اقبال نے پانی مشہور غزل پڑھی ؎

کبھی اسے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز

میں کہ ہزاروں سجد سے تڑب رہے ہیں مری جبین نیاز

 حضرت علامہ ابو الحسنات نے اس کے جواب میں ایک غزل پڑھی جس کے چند اشعار پیش کئے جاتے ہیں ؎

توہی خود،جب اے دل حسن،جو ہوا سیر زلف دراز میں

 تو کمی ہو کیوں ترے سوز میں ، فکر آئنہ ساز میں

 جو ہائے حشر کے فتنے سب،جو اٹھائے حشر میں فتنے

وہ ہے کام آپ کے لطف کا ، یہ ہے لطف آپ کے ناز میں

 تری آرزو تو سعید ہے مگر ایسا ہونا بعید ہے

 کہ جمال یار کی دید ہو ، رہے تو لباس مجاز میں

 تجھے اور وصل کی آرزو ، تجھے دید حسن کی جستجو

نظر ہوس! تری آبرو نہیں چشم بندہ نواز میں

 یہ غزل سنکر علامہ اقبال دیر تک عالم وار فتگی میں روتے ہے،اس غزل کو انہوں نے ’’جذبات حافظ‘‘ کے عنوان سے یاد کر لیا تھا[11]

تصانیف:

 آپ نے تصانیف کا گرانقدر ذخیرہ یاد گار چھوڑا،چند تصانیف کے نام یہ ہیں:۔

 تفسیر الحسنات

  ترجمۂ کشف المحبوب

  اوراق غم

طیب الوردہ شرح قصیدہ بردہ

مخمس حافظ

مسدس حافظ

دیوان حافظ اردو

  مرزائیت پر تبصرہ وغیرہ وغیرہ [12]

وصال:

2؍شعبان المعطم،20جنوری(1380ھ؍1961ء) بروز جمعہ ساڑھے بارہ بجے دن اہل سنت کے بطل جلیل مولانا علامہ ابو الحسنات سید محمد احمد قادری قدس سرہ کا وصال ہوا،وصال سے کچھ پہلے یہ شعر زبان تھا ؎

حافظ رند زندہ باش،مرگ کجاوتوکجا

تو شدئہ فنائے حمد،حمد بود لقائے تو[13]

یہ آپ کی اسلامی خدمات کا ایک ثمر تھا کہ آپ کو حضرت داتا گنج بخش رضی اللہ عنہ کے احاطۂ مزار میں آخری آرام گاہ ملی۔

مولانا غلام دستگیر نامی نے تاریخ وفات کہی ؎

دیغا! ابن دیدار علی شاہ

 محمد احمد شیریں بیاں رفت

 ابو البرکات را اخ مکرم

کہ بد محمود راعم کلاں رفت

 خلیلش جانشین نام بردار

بماند،چونکہ فخر خانداں رفت

بتاریخ وفاتش گفت نامیؔ

ابو الحسنات اجمل از جہاں رفت[14]

 مکرمی حکیم اہل سنت حکیم محمد موسیٰ امر تسرمدظلہ العالی نے’’لقد الجنۃ مولانا (1380ھ8 سے تاریخ وصال استخراج کی ہے۔

 [1] غلام مہر علی،مولانا: الیواقیت المہر یہ ص77

[2] محمد احمد قادری ،مولانا ابو الحسنات ،سید: روئد :و مرکزی جمیعۃ العلماء پاکستان (26مارچ 48،تا 31مئی 49ء) ص2،3

[3] غلام مہر علی،مولانا : الیواقیت المہریہ ص77

[4] اقبال احمد فارقی ،پیرزادہ: تذکرہ علمائے اہل سنت و جماعت ،لاہور: ص317

[5] محمد احمد قادری ،مولانا ابو الحسنات ،سید: روئد :و مرکزی جمیعۃ العلماء پاکستان، لاہور،ص 3۔18

[6] محمد احمد قادری ،مولانا ابو الحسنات ،سید: روائید جمعیۃ ص 18

 [7] ایضاً : ص 74

[8] خلیل احمد قادری ،مولانا سید : روز نامہ نوائے وقت ،لاہور،4؍اگست 1975ء

[9] غلام مہر علی،مولانا : الیواقیت المہر یہ،ص78،79

[10] محمد صادق قصور،جماعتی: اکابر تحریک پاکستان(مطبوعہ مکتبہ رضویہ،گجرات، 1976ء)ص139

[11] ایس ایم ناز : ہفت روزہ قندیل ،لاہور (20؍نومبر 1966ء)

 [12] اقبال احمد فاروقی،پیر زادہ: تذکرہ علمائے اہل سنت و جماعت ،لاہور: ص318

[13] ایس ایم ن از:ہفت روزہ قندیل، لاہور

 [14] سواد اعظم ،لاہور: 3؍فروری 1961ء

(تذکرہ اکابرِاہلسنت)

مزید

تجویزوآراء