قائدِملتِ اسلامیہ حضرت علامہ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی

قائدِملتِ اسلامیہ حضرت علامہ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب: اسمِ گرامی:علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی۔القابات:قائد اہل سنت ، قائد ملت اسلامیہ، امام انقلاب ، مجاہد اسلام، حق و صداقت کی نشانی، غازی ِختم نبوت، عالمی مبلغ اسلام ، یاد گار اسلا ف ۔سلسلہ ٔنسب:علامہ شاہ احمد نورانی بن شیخ الاسلام مولاناعبدالعلیم صدیقی بن شاہ عبد الحکیم صدیقی(علیہم الرحمہ )۔آپ کا سلسلہ نسب 39 واسطوں سے خلیفۂ اول حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے  ملتا ہے۔آپ کی والدہ محترمہ بھی صدیقی تھیں ۔اس لحاظ سے آپ نجیب الطرفین "صدیقی" ہیں۔

تاریخِ ولادت: آپ 17رمضان المبارک/1344ھ،بمطابق یکم اپریل/1926ء کو محلہ  مشائخاں"میرٹھ" ہندوستان میں پیداہوئے۔

تحصیلِ علم:  علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی نے آٹھ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا تھا۔ حفظِ قرآن کے بعد ثانوی تعلیم کے لیے ایسے اسکول میں داخلہ لیا جہاں ذریعۂ تعلیم عربی تھی۔ عربک کالج میرٹھ سے بھی ڈگریاں حاصل کیں۔ درسِ نظامی کی کتب متداولہ مدرسہ اسلامیہ قومیہ میرٹھ میں استاذ العلماء امام النحو  حضرت  علامہ مولانا سید غلام جیلانی میرٹھی  علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔دستار بندی کے موقع پر ایک پر وقار تقریب کا انعقاد ہوا جس میں آپ کے استاد محترم مولانا غلام جیلانی میرٹھی، آپ کے والد ماجد مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی قادری اور صدرالافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی کے علاوہ شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مولانا شاہ مصطفےٰ رضا خان (علیہم الرحمہ)بھی مسند افروز تھے۔آپ پاکستان کے واحد سیاستدان تھے جنکو سترہ زبانوں پر عبور حاصل  تھا۔

بیعت وخلافت: عالمی مبلغِ اسلام خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولاناشاہ عبدالعلیم صدیقی کے مرید وخلیفہ اورجانشینِ صادق تھے۔

سیرت وخصائص: قائدِاہل سنت،قائدِ ملتِ اسلامیہ،امام انقلاب ، مجاہد اسلام، حق و صداقت کی نشانی، غازی ِختم نبوت، عالمی مبلغ اسلام، یاد گار اسلا ف، نابغہ ٔروزگار،خاندانِ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے رجلِ رشید حضرت علامہ مولانا امام الشاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ ۔آپ علیہ الرحمہ اسم بامسمیٰ تھے۔آپ اپنےنام کی طرح قول وعمل اورسیرت وکردارکے بھی نورانی تھے۔آپ جامع الکمالات اور جامع الصفات شخصیت کے مالک تھے۔قرآن ِحکیم و قصیدہ بردہ شریف اور دلائل الخیرات وحزب البحرکے عامل، شیخ کامل، سادہ طبیعت، نرم مزاج ، دھیمی آواز، شیریں گفتار، گندمی رنگ،باریک ہونٹ ، نورانی چہرہ ، سنت نبوی سے آراستہ ، اخلاق ِمصطفوی ﷺکے پیکر، اخلاص کی جیتی جاگتی تصویر، مہمان نواز، غریب پرور،متوکل، خوف خدا و عشق مصطفیٰﷺ سے سر شار، مد برانہ سوچ ، قائدانہ صلاحتیوں سے ممتاز تھے ۔اقلیم سیاست کے ایک ایسے عظیم کردار تھے کہ اصول پسندی حق گوئی و بے باکی اور جرأت ان کا نشان تھا ۔ شخصی حکمرانی ہو یا فوجی آمروں کی من مانیاں علامہ نے ایک بااصول، راست گو، نڈرسیاسی مدبراور قائد کی صورت میں نہ صرف کلمہ حق ادا کیا بلکہ اس کے لئے ہر طرح کی صعوبت مشکل برداشت کی ۔ مولانا دنیائے اسلام میں کلمہ حق بلند کرنے والے کی حیثیت سے ہمیشہ زندہ و جاوید رہیں گے۔

آپ نے دنیاکے کونے کونے میں اسلام کا پیغامِ ہدایت پہنچایا اور ہزاروں بلکہ لاکھوں گم گشتگانِ راہ کو صراطِ مستقیم دکھائی۔ آپ کی تبلیغ سے  لاکھوں غیر مسلموں نے دولتِ اسلام سے اپنا دامن بھرا جن میں پادری، راہب، وکلاء، انجینئرز، ڈاکٹرز اور دیگر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے لوگ شامل ہیں۔ وہ زیرک سیاستدان ، علوم قدیم و جدید کے ماہر ، درویش صفت ،متوکل فقیر کے علاوہ شیخ طریقت بھی تھے ۔ لیکن وہ روایتی پیر نہیں تھے ۔ اپنی نمائش وشہرت کے سخت مخالف تھے ۔ اپنی نمائش کے لئے انہوں نے کبھی بھی کوئی راہ ہموار نہیں کی ۔ ہمیشہ کسر نفسی عاجزی تواضع و سادگی سے کام لیتے تھے ۔ اپنی دینی کاوشوں کو چھپاتے رہتے تھے ۔ کسی کے زورداراصرار کے بعد بیعت میں لیتے تھے ۔ لیکن پھر بھی اس سے شریعت مطہرہ پر سختی سے پابند ی کا عہد لیتے تھے ۔ ہر دور و عہد میں مولانا کو وزارت، گورنری اور پلاٹ پرمٹ کی پیشکش ہوئی ۔اقتدار کی لونڈی نے باربار چوکھٹ پر دستک دی لیکن آپ نے کمالِ استقلال سے ہر بار پیشکش ٹھکرادی۔کچھی میمن مسجد صدر کے متصل ماسٹر کے فلیٹ میں سے ایک پرانے معمولی اور کرائے کے فلیٹ میں پوری زندگی درویشانہ بسر کی ۔

؎  لوگ کیا کیا بِک گئے تو نے نہیں بیچے اصول ،تیرے دامن کو بہت ہے دولت عشق رسولﷺ۔

آپ  ملکی وبین الاقوامی بہت سے ادراوں اور تنظیموں کے بانی تھے،جن میں سے ایک "دعوتِ اسلامی"بھی ہے۔آپ نابغۂ روز گار شخصیت کے مالک تھے۔ آپ  کی شخصیت کا ہر پہلوروشن اور شاندار ہے اور ہر ایک وسعت کا متقاضی ہے ۔

وصال: قائد اہل سنت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی نے 16/شوال 1424ھ 11/ دسمبر 2003ء بروز جمعرات اسلام آباد میں بارہ بجکر  بیس منٹ پر دوپہر کو 80سال کی عمر میں انتقال کیا۔آپ کی قبرِ انور حضرت عبد اللہ شاہ غازی علیہ الرحمہ کے مزارکے احاطے میں ہے۔

ماخذو مراجع: انوار علمائے اہلسنت(سندھ)۔تعارف علمائے اہل سنت۔روشن دریچے۔

تجویزوآراء