حضرت علامہ قاری مصلح الدین رضوی صدیقی

پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت حضرت علامہ قاری مصلح الدین رضوی صدیقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

 نام ونسب:اسمِ گرامی:حضرت قاری محمدمصلح الدین صدیقی۔لقب:مصلحِ اہلسنت،مصلحِ ملت۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی بن مولانا غلام جیلانی،بن محمدنور الدین،بن شاہ محمد حسین،بن شاہ غلام جیلانی عرف شبر استاد،بن شاہ غلام محی الدین ،بن شاہ محمد یوسف،بن شاہ محمد ،بن محمد یوسف(علیہم الرحمہ)

تاریخِ ولادت:11/ربیع الاول 1336ھ،مطابق 24/دسمبر1917ء، بروز پیر بوقت صبح صادق بمقام قندہا رضلع نانڈیرریاست حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے ۔

تحصیلِ علم: آپ نے نو سال کی عمر میں ناظرہ قرآن کریم مکمل کیا۔ چودہ سال کی عمر میں والد ِگرامی سے حفظ قرآن کی تکمیل  اور ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا۔ مزید تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے 1354ھ/ 1935ء دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور میں داخلہ لیا  اس کے بعد جامعہ عربیہ ناگپور میں  داخلہ لیا اور اسی جامعہ میں   علوم ِ دینیہ کی تکمیل ہوئی۔آپ نے اپنے وقت کے مایہ نازاساتذہ سے  تحصیل ِ علم کیا۔جن میں صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی، حجۃ الاسلام مولانا محمد حامد رضا خاں ، محدث اعظم ہند سید محمد رضوی اشرفی،حافظ ملت مولانا عبدالعزیزمبارکپوری،مولانا محمد سلیمان بھاگلپوری ،حضرت مولانا ثناء اللہ اعظمی۔ (علیہم الرحمہ)

بیعت وخلافت: تحصیلِ علم کے بعد حضرت صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ  مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی سے شرفِ بیعت حاصل کیا،اور کچھ عرصہ بعد خلافت سےنوازےگئے۔اسی طرح  خلیفۂ اعلیٰ حضرت قطبِ مدینہ مولانا ضیاءالدین مدنی،اور شہزادۂ مجدداسلام حضورمفتیِ اعظم ہند علیہم الرحمہ سے بھی خلافت واجازت سےمشرف ہوئے۔

سیرت وخصائص:پیرِ طریقت،رہبرِ شریعت،جامع کمالات علمیہ  و عملیہ،عالمِ ربانی،صاحبِ فضائل وکمالات ِصوری ومعنوی،مصلحِ ملت،مصلحِ اہلسنت،خطیبِ شیریں بیان،قاریِ قرآن،مدرسِ باکمال،علم وتقویٰ میں بےمثال،خلیفۂ صدرالشریعہ،قطبِ مدینہ،ومفتیِ اعظم ہند،منظورِنظرحضورحافظِ ملت،حضرت علامہ مولاناقار ی محمد مصلح الدین صدیقی رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ  علیہ الرحمہ نے زندگی کو دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کردیا تھا۔ہرہرلمحہ  اشاعتِ دین میں مصروف رہے۔بلا خوف لو مۃ لائم ،اعلا ئے کلمۃ الحق کو اپنا نصب العین بنائے رکھا اور مسلکِ اہل سنت  وجماعت کی تبلیغ اور فروغ کے سلسلہ میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا۔

جیساکہ عرض کیاجاچکاہے،کہ آپ کواس وقت کی نابغۂ روزگارہستیوں سے اجازت وخلافت حاصل تھی۔اگرآپ مریدین کی کثرتِ تعدادپہ توجہ دیتے تولاکھوں کی تعدادہوجاتی۔لیکن آپ نے روایتی پیروں کی طرح مریدین کی کثرت کونصب العین نہیں بنایا،بلکہ ساری زندگی درس وتدریس،تصنیف وتالیف،وعظ ونصیحت کےذریعے اسلام کی حقیقی خدمت فرمائی۔ایساکیوں نہ ہوتا!جب شروع سے تربیت ہی ایسی ہوئی تھی۔ایک مرتبہ آپ نے اپنے پیرِ کامل حضرت صدرالشریعہ سے عرض کی حضور مجھے کوئی وظیفہ توعنایت فرمادیں۔حضرت صدرالشریعہ نے فرمایا:درس وتدریس ہی آپ کےلئے سب سےبڑا وظیفہ ہے۔

نمو نہ ٔاسلاف: حضرت مصلحِ اہل سنت علیہ الرحمہ ،سلفِ صا لحین کی مبارک زند گیو ں کا جیتا جا گتا ثبوت تھے۔ان کی نشست و برخو است،ان کا ملنا جلنا،ہرعمل  میں  نہایت سا دگی اورجا ذبیت (کشش )تھی۔تصنع ، بنا وٹ اور خود ستا ئی جیسی چیز وں  کاان کی ذات سے دور کابھی کو ئی رابطہ نہیں  تھا۔تلاوتِ قرآن سے انتہائی شغف تھا،یہ ولایت کی علامت بھی ہے۔امامت و خطابت ہو یا درس و تدریس کسی کام کو بھی انہو ں  نے ملازمت اور نوکری کے طور پر نہیں اپنایا بلکہ محض  خدمتِ دین،اشا عتِ اسلام اور علم کی تو سیع کے نظر یہ سے زند گی بھربخوشی یہ تمام امور انجام دیتے رہے۔انتہائی رقیق القلب ، اور حساس اس قدر کہ پر یشان حال ،حاجتمندوں  کی  درد بھری با تیں سن کر تڑ پ جا تے اور ان کے حق میں دعا  ءوتعویذاور ہمد ردی و خیر خواہی کرنے میں کو ئی کسر  نہ رکھتے تھے۔ بعض اوقات اپنے ہم نشینوں سے فر ماتے:"مجھے دل کامرض،ان پر یشا ن ِحال ،اہل ِحاجت ہی کی وجہ سےلگا ہے"۔

آپ  علیہ الرحمہ کی شخصیت  ،زہدوتقویٰ،عہدووفا،تسلیم ورضا اور حسنِ اخلاق کی جامع مرقع تھی ۔آپکی شخصیت مسحور کن حد تک پر کشش تھی۔اللہ جل شانہ  اور اسکے حبیبِ مکرم ﷺ کے احکام پر سختی سے عمل پیرا تھے۔بالخصوص  رسولِ اکرم ﷺ، اورشیخ عبد القادر  جیلانی رضی اللہ عنہ ،اور جملہ اکابرین اولیا ءاللہ کا عشق آپ کے رگ وپے میں جاری وساری تھا۔اسلئے اولیاء کرام کے مزارات پر حاضری آپ کی زندگی کا معمول رہا۔آپ کی ہر محفل اولیا ء ِکرام کے تذکروں سے منور ومعطر ہوتی تھی ۔پرہیز گاری کا یہ عالم تھا کہ کوئی سبق بغیر وضو کے نہ پڑھاتے تھے اور تمام وقت با وضو رہتے تھے۔آپکے مزاج میں تواضع اور حسن ِاخلاق کا عنصر سب سے زیادہ غالب ونمایاں تھا۔چالیس برس خلوص ومحبت  کیساتھ دینِ اسلام کی خدمت اور آبیاری فرمائی۔اللہ تعالیٰ آپکی قبر پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرمائے۔(آمین)

وصال: 7 جمادی الثانی 1403ھ/مطابق 23مارچ1983ء بروز بدھ بوقت 4:30 آپ نے داعیِ اجل کو لبیک کہا۔آپکا مزار مصلح الدین گارڈن(سابق کھوڑی گارڈن )کراچی میں  زیارت گاہِ خاص وعام ہے۔

ماخذومراجع:  انوارعلمائے اہلسنت(سندھ)۔تذکرہ مصلحِ اہلسنت۔فقہائے سندھ کی علمی خدمات۔

تجویزوآراء