حضرت ابو حبیب بن سلیم الراعی

حضرت ابو حبیب بن سلیم الراعی رحمۃ اللہ علیہ

          جماعتِ اولیاء میں سے امیر الاولیاء فقیر بے ریا ابو حلیم حضرت حبیب بن سلیم الراعی رحمۃ  اللہ علیہ ہیں۔مشائخ کرام میں آپ کی بہت زیادہ قدر و منزلت ہے۔آپ دلائل اور آیات  کےبیان فرمانےمیں خاص مہارت رکھتے تھے ،اور آپ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے خاص مصاحب تھے اور آپ کے حالات اصحابِ حال کے سے تھے۔آپ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث نقل فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا:        نیت المومن خیرٌ من عملہٖ۔    ‘‘ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے’’

          آپ بکریاں چراتے اور کنارہ فرات پر تشریف رکھتے ۔آپ کا طریقہ زیادہ تر عزلت نشینی تھا۔ ایک مشائخ کرام میں سے راوی  ہیں کہ جب میں فرات کے کنارے سے گزرا  حبیب کونماز میں پایا  اور آپ کی بکریوں کی نگرانی بھیڑیا کررہا تھا۔میں نے کہا اس بزر گ کی زیارت کرنی چاہیے اس میں علامات ولایت پائی جاتی ہیں۔میں ٹھہرارہا۔جب آپ نماز سے فارغ ہونے میں نے سلام عرض کیا۔ آپ نے فرمایا:صاحبزادہ کس کام سے ادھر آئے ہیں؟ میں نے عرض کی :حضور کی زیارت کےلیے ۔ آپ نے فرمایا:جزاک اللہ۔

          میں نے کہا :حضرت یہ کیامعاملہ ہے کہ بھیڑیئے اور بکریوں کو ایک جگہ دیکھ رہا ہوں۔فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ بکریوں کا چرواہا اپنے رب کے ساتھ موافق ہے۔یہ فرمایا اور اپنا پیالہ چوبیں ایک پتھر کے نیچے رکھ دیا۔اس پتھر سے دو چشمے جاری ہوگئے۔ایک دودھ کا دوسرا شہد کا میں نےیہ دیکھ کر عرض کیا:حضور یہ وجہ کس عمل کے بدلہ میں حاصل کیا۔فرمایا بمتا بعتِ حضور سید یوم النشور محمد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

          پھر فرمایا:صاحبزادے قوم موسیٰ علیہ السلام جبکہ اُن کی مخالفت تھی تو پتھر نے انہیں پانی دیا تھا حالانکہ موسیٰ علیہ السلام درجہ میں مصطفٰی علیہ التحیتہ و الثنا کےبرابر نہ تھے ۔پھر جبکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیروکار ہوں تو پتھر مجھے کیوں نہ شیرو شہددے۔اور پھر محمدﷺ تو موسیٰ علیہ السلام سے کہیں افضل و اعلیٰ مرتبہ پر ہیں۔میں نے عرض کی حضور مجھے کچھ نصیحت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا:

          لا تجعل قبلک صندوق الرحرص و بطنک و عاء الحرام۔‘‘اپنے دل کو حرص و ہوا کا صندوق نہ بنا اور اپنے شکم کو حرام کا برتن نہ کر’’اس لیے کہ ہدایت مخلوق انہیں  دو چیزوں میں ہے اور نجات انہیں دوچیزوں سے مجتنب رہنے میں ہے۔ علاوہ اس کے میرے شیخ سے یہاں بہت سی روایات ہیں لیکن میں (داتا صاحب)اس وقت ضیق میں ہوں۔ اس وجہ سے زیادہ نہیں لکھ سکتا۔ میری کتابیں غزنی میں رہ گئیں۔اللہ اس شہر کو اپنی حفاظت میں رکھے۔میں اس وقت ہندوستان لاہورمیں ہوں۔ جو مضافاتِ ملتان میں ہے اور نا جنسوں میں پھنسا ہوا ہوں۔ والحمد للہ علی السّرّاء والضّرّاءِ۔

ماخوذاز کشف المحجوب۔داتا گنج بخش لاہوری

مزید

تجویزوآراء