علمائے احناف  

اسعد کرابلیس نیشا پوری

          اسعد بن محمد بن حسین[1] کرالبیس  نیشا پوری: ابو المظفر کنیت اور جمال الاسلام لقب تھا۔عالم فاضل فقیہ ادیب حسن الطریقہ تھے۔فروع واصول میں آپ کو معرفت تامہ اور مہارت کاملہ حاصل تھی۔فقہ آپ نے علاء الدین اسمندی تلمیذ سید الاشرف سے حاصل کی اور علم ادب ابی منصور موہوب بن احمد جوالیقی سے پڑھا۔ایک کتاب موجز نام فقہ دفروق میں تصنیف [2] فرمائی اور ۴۷۰؁ھ میں فوت ہوئے۔کرابلیس جمع کر باس کی ہے اورکربا...

اسماعیل بن محمد کماری

          اسمٰعیل بن محمد بن احمد بن طیب بن جعفر واسطی کماری: عید الفطر کے روز ۳۸۳؁ھ میں پیدا ہوئے،کنیت ابو علی تھی،فاضل دہر فقیہ متجر تھے۔فقہ اپنے باپ محمد بن احمد سے پڑھی اور حدیث کو عبید اللہ بن اسد اور ابا بکر احمد بن عبید اللہ اور ابا عبد اللہ بن مہدی سے سنا اور شہر واسط کے قاضی مقرر ہوئے۔وفات آپ کی ماہ جمادی الاولیٰ ۴۶۸؁ھ میں ہوئی۔ (حدائق الحنفیہ)...

علی بن عبد اللہ خطیبی

           علی بن عبد اللہ خطیبی: بڑےعالم فاضل زاہد اور اختلاط سلاطین سے متنفر تھے اور اپنے آپ کو تدریس و تعلیم پر مجبور کر رکھا تھا۔جب کوئی قرآن شریف پڑھتا تو آپ کے انسو ٹپک آتے،کنیت ابو الحسن تھی۔فقہ آپنے شمس الائمہ عبد العزیز حلوائی اور ابی محمد عبد اللہ ناصحی سے پڑھی اور نو جوانی میں حج کیا۔جب اصفہان میں آئے تو وہاں کی قضا آپکو دی گئی۔کہتے ہیں کہ آپ سترہ برس تک قائم اللیل رہے اور اس عرصہ تک آپ...

علی سغدی

          علی بن حسین سغدی: اپنے زمانہ کے امام فاضل فقیہ مناظر تھے رکن الاسلام لقب اور ابو الحسن کنیت تھی،فقہ شمس الائمہ سر خسی سے اخذ کی اور شرح سیر الکبیر کو روایت کیا۔حدیث کو ایک جماعت محدثین سےسنا یہاں تک کہ بخارا میں ساکن ہو کر افتاء کے لیے صدر نشین ہوئے اور وہاں کی قضا آپ کے سپرد ہو کر ریاست مذہب حنفیہ کی آپ پر منتہیٰ ہوئی،واقعات و نوازل میں لوگ آپ کی طرف رجوع لانے لگے۔فتاویٰ قاضی خان وغیرہ مشاہی...

عبد العزیز نسفی

                عبد العزیز بن محمد بن محمد بن عاصم نسفی: حافظ حدیث،محدث ثقہ،فقیہ متقن،عالم کبیر المحل فاضل عظیم الشان تھے،ابو محمد کنیت تھی،سلفی نے کہا ہے کہ میں نے آپ کی بابت موتمن ساجی سے پوچھا،انہوں نے کہا کہ آپ مثل ابی بکر خطیب اور محمد بن علی الصوری کے حافظ حدیث پسندیدہ اخلاق و فہم تھے۔ابن مندہ کہتے ہیں کہ آپ حفظ و اتقان میں یگانۂ زمانہ تھےاور میں نے اپنے زمانہ میں کوئی آپ ک دقیق ال...

عبد الواحد عکبری

          عبد الواحد بن علی بن [1] برہان عکبری: بڑے فقیہ نحوی متکلم لغوی مؤرخ ادیب تھے ابو القاسم کنیت تھی،پہلے نجومی تھے پھر نحوی وہئے اور حنبلی مذہب سے حنفی مذہب اختیار کیا،فقہ،احمد قدوری شاگرد ابی عبد اللہ محمد بن یحییٰ جرجانی سے حاصل کی اور حدیث کو ابن بطہ وغیرہ سے سماعت کیا،آپ امام ابو حنیفہ کے بڑے حمایتی اور اپنے اصحاب میں ذی عزت تھے،کبھی شلوار نہ باندھی اور نہ اپنے سر کو چادر سے ڈھکا۔وفات آپ کی...

شیخ محمد اسماعیل

          شیخ محمد اسمٰعیل محدث لاہوری: بخدا کے سادات عظام میں سے تھے جو سلطان مسعود غزنوری کے وقت اواخر ۳۹۵؁ھ میں شہر لاہور میں آکر سکونت پزیر ہوئے،اپنے وقت کے علوم فقہ و حدیث تفسیر میں امام اور جامع علوم ظاہری و باطنی تھے۔واعظان اہل اسلام میں سے آپ ہی سب سے پہلے لاہور میں تشریف لائے اور آپ کے وعظ و نصائح کی تاثیر سے ہزاروں کفار مشرف بہ اسلام ہوئے یہاں تک کہ جو شخص آپ کی مجلس وعظ میں حاضر ہوتا،بغیر پڑ...

عبداللہ ناصحی

          عبد اللہ بن حسین ناصحی: امام کبیر فقیہ بے نظیر شیخ حنفیہ ثقہ تھے۔فقہ قاضی ابی الہیثم عتبہ تلمیذ قاضی الحرمین سے پڑھی اور آپ سے آپ کے بیٹے محمد ناصحی نے تفہ کیا۔آپ بغداد میں حج کر کے ۴۱۲؁ھ میں تشریف لائے اور مدت تک تدریس و افتاء میں مصروف رہے اور بخارا میں سلطان محمود سبکتگین کے عہد میں قاضی القضاۃ مقرر ہوئے اور ۴۴۷؁ھ میں وفات پائی۔آپ کی تصانیف میں سے کتاب تہذیب ادب القضاء معروف ہے۔ناصح آپ کے ...

احمد ناطفی

           احمد بن محمد بن عمر و ناطفی طبری: عراق کے علمائے کبار و فقہائے نامدار اور اصحاب واقعات و نوازل میں سے فقیہ محدث تھے،کنیت ابو العباس تھی۔فقہ ابی عبد اللہ جر جانی تلمیذ ابی بکر جصاص رازی سے حاصل کی اور حدیث ابی حفص بن شاہین وغیرہ سے روایت کی۔آپ کی تصانیف میں سے کتاب احباس و فروق و کتاب واقعات و کتاب ہدایت معروف و مشہور ہیں۔وفات آپ کی شہر رَے میں ۴۴۶؁ھ میں  ہوئی،چونکہ آپ حلوا بناکر بی...

محمد یامر غی

          محمد بن احمد بن محمود بن محمد نصر بن موسیٰ بن احمد ما یمر غی نسفی: امام فاضل محدث کامل تھے۔حدیث کو حجاز و غیرہ میں سنا اور مقری محمد بن منصور امام مدینہ سے روایت کی،آپ سے نجم الدین عمر بن محمد نسفی نے روایت کی اور ماہ ربیع الاول ۴۴۲؁ھ میں شہر ما یمر غی میں جو نخشب کے کے علاقہ میں بخارا کے راستہ پر واقع ہے، فوت ہوئے[1]   1۔ انکے بیٹے احمد بن محمد ما یمر غی متوفی ۴۸۱؁ھ بھی مشہور عالم اور ف...