تلاش کے نتائج یوم وفات 1 محرم الحرام کل نتائج ( 241 )

شاہ عبد العزیز اخوند

قطبِ عالم حضرت شاہ عبد العزیز اخوند رحمۃ اللہ علیہ اسمِ گرامی: آپ کا نام شاہ عبد العزیز اخوند دہلوی بن مولوی حکیم الہٰی بخش بن حافظ محمد جمیل تھا(رحمۃ اللہ علیہم)۔لقب: قطب العالم تھا۔ تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت 1211 ھ میں ہوئی۔ تحصیلِ علم: شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے  اخوند برہان صاحب سے قرآن ِ پاک حفظ کیا،فارسی کی درسیات اور شرح ملا جامی مولانا کریم اللہ دہلوی سے پڑھیں، مشکوٰۃ کا درس شاہ عبد العزیز محدث سے لیا اور دیگر علماء سے مختلف...

مفتی عبدالباقی ہمایونی

حضرت مولانا مفتی عبدالباقی ہمایونی  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سند الکاملین حضرت علامہ عبدالغفور ہمایونی قدس سرہ کونر ینہ اولاد تھی ۔ مولانا عبدالباقی آپ کے نواسہ اور آپ کی رحلت کے بعد پہلے سجادہ نشین مقرر ہوئے ۔ مولانا عبدالباقی بن میاں محمود بن میاں محمد شریف ۱۳۲۳ھ میں تولد ہوئے اور ۱۳۔ ۱۴سال کی عمر میں (علامہ ہمایونی قدس سرہ کے وصال کے بعد ) مسند نشین ہوئے۔ ان دنوں زیر تعلیم تھے اور کافیہ و کنز الد قائق کتابیں پڑھتے تھے۔ تعلیم و تربیت : ا...

عبدالباقی

حضرت مولانا عبدالباقی بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ...

شیخ عبدالکریم انصاری

شیخ عبدالکریم سہارن پوری           شیخ عبدالکریم سہارن پوری، انصاری، صاحب وجد و حال شخص تھے، تمام علوم و فنون میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ ۱۴ / محرم ۱۰۲۴ھ / ۱۶۱۵ء (۱) میں انتقال ہوا۔ ان کے ایک عزیز نے ’’شمع ارشاد حق‘‘ سے تاریخ انتقال نکالی ہے۔ مولف کتاب (مولوی رحمان علی) نے کتاب کی تالیف کے وقت (۲) اس کو نظم کر دیا ہے۔ قطعہ تاریخ انتقال عبدالکریم انصاری از:مولوی رحمان علی مؤلّف ...

حافظ محمد عبد اللہ بھرچونڈی

حافظ محمد عبد اللہ بھرچونڈوی علیہ الرحمۃ حالاتِ زندگی:  حافظ صاحب 1283ھ میں پیدا ہوئے، حضرت حافظ محمدصدیق بھر چونڈوی  قدس سرہ کے خلیفہ  اور جانشین تھے، اور رشتہ میں ان کے بھتیجے تھے سجادہ نشینی کے وقت عمر کل پچیس برس تھی، بیس سال کی عمر میں درس نظامی سے فارغ ہوئے  اور پانچ سال شیخ کی خدمت  میں رہ کر منازل سلوک طے کیں ، اس نو عمری  میں آپ کے والد ماجد کا نام قاضی اللہ بخش تھا، حضرت حافظ محمد صدیق رحمۃ اللہ علیہ کے چ...

عبداللہ ہمدانی

شیخ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ یحییٰ ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ شیخ محمد بن عبداللہ یحییٰ ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ قروضہ کے رہنے والے ہیں جو سحول کا نواحی گاؤں ہے۔ آپ رحمۃا للہ علیہ فقیہ، عالم اور عارف تھے۔ عبادات و مجاہدات ان پر غالب تھے۔ انہوں نے اپنے اس گاؤں میں ایک خانقاہ بنوائی۔ جب معماروں نے پیٹرین باندھیں تو ایک بیٹیر اس کی اونچائی تک نہ پہنچی۔ یہ لوگ چھوڑ کر بیٹھ گئے۔ شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ’’کیوں چھوڑ بیٹھے۔؟‘‘...