تلاش کے نتائج یوم وفات صفر المظفر کل نتائج ( 278 )

سید ابو عبد الرحمن عبد اللہ

حضرت سید ابو عبد الرحمٰن عبد اللہ بن غوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے والد بزرگوار اور سعید بن البَنّا رحمۃ اللہ علیہ سے حدیث سنی۔ ظاہری و باطنی علوم کے جامع، اور صاحبِ ریاضت و مجاہدہ تھے۔ ستائیسویں (۲۷) صفر ۵۸۷ھ میں انتقال کیا، اور بغداد میں مدفون ہوئے۔ ان کے دو بیٹے ابو محمد عبد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ اور ابو محمد عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ بھی عالم کامل تھے۔ (خزینۃ الاصفیا جلد اوّل)...

عبد اللہ مرتعش

حضرت ابو محمد عبداللہ مرتعش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ عبداللہ بن محمد نیشاپوری کے نام سے مشہور تھے بغدادمیں قیام رہا، ابوحفص حدّاد اور سید الطائفہ حضرت جیند بغدادی رحمۃ اللہ علیہما کے خلفاء میں سے تھے، آپ نے سیاحت میں دنیائے تہذیب کو چھان مارا تھا۔ جب حضرت مرتعش اپنے پیرو مرشد کے حکم سے سیاحت پر نکلے تو ہر سال ایک ہزار فرسنگ سفر کرتے، تقریباً ایک ہزار قصبوں میں گھومتے مگر کسی قصبے میں دس روز سے زیادہ قیام نہ کرتے، آپ نے فرمایا: میں نے زندگی میں ...

شیخ عبد اللہ محمد طاقی

حضرت شیخ عبد اللہ طاقی علیہ الرحمۃ           آپ کا نام محمد بن الفضل بن محمد طاقی سجستانی ہروی ہے۔آپ موسٰی بن عمران جیرفتی کے مرید ہیں۔علوم ظاہرو باطن کے عالم تھے۔ شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ وہ ہمارے پیر ہیں اور استاد بھی۔حنبلی مذہب کے  تھے۔اگر میں ان کونہ دیکھتا توحنبلیوں کا اعتقاد مجھے نہ معلوم نہ ہوتااور میں نے کسی کو طاقی سے بڑھ کرباہیبت اور بارعب نہیں دیکھا۔میں نے ان کو نابینا دیکھاہے۔مشائخ ان ...

شیخ عبد اللہ قریشی

حضرت شیخ عبداللہ قریشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  آپ شیخ بہاؤالدین زکریا کی اولاد میں سے تھے جس زمانے میں آپ کے آباؤاجداد ملتان سے دہلی آئے تو سلطان بہلول نے اپنی دختر نیک اختر کی آپ سے شادی کردی آپ ایک مجذوب بزرگ تھے، ظاہری شان و شوکت کے بھی مالک تھے، سلوک کے ابتدائی دور میں آپ نے بے انتہا ریاضت اور انسانی طاقت سے وراء الوریٰ مجاہدے کیے تھے، آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں سلوک کے ابتدائی مراحل میں روزانہ کم از کم ایک ہزار رکعت پڑھا کرتا تھا اور تین...

ابو عبد اللہ خاقان صوفی

حضرت ابو عبداللہ خاقان صوفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ بغداد کے کبار مشائخ میں سے تھے۔ بڑے صاحبِ کرامات اور صاحب مقامات جلیلہ تھے۔ ابن قصاب رازی﷫ فرماتے ہیں کہ میرا والد بغداد کے بڑے بازار میں دکانداری کرتے تھے۔ میں اگرچہ نو عمر تھا تاہم بعض اوقات دکان پر بیٹھا کرتا تھا۔ ایک دن میں دکان پر بیٹھا تھا کہ ایک شخص فقیرانہ لباس میں بازار سے گزرا، میں اس کے پیچھے گیا اور نہایت ادب سے سلام کیا۔ میرے پاس ایک دینار تھا، پیش کیا اس نے دینار لیا اور اپنی راہ...