ضیائے مشائخِ چشتیہ  

شیخ ولی چشتی قدس سرہ

آپ  کے والد بزرگوار کا نام یوسف چشتی تھا آپ  خود سلیم چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اورمرید تھے کہتے ہیں کہ آپ جس دن اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے اُسی دن سے مقبول نظر ہوگئے اور  آپ کے سر پر تاج خلافت سجادیا   یہ بات دیکھ کر حضرت کے دوسرے مرید  بھی آگے بڑھے اور عرض کی حضور کریم کئی سال سے آپ کی خدمت میں حاضر ہیں ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اس میں کیا راز ہے آپ نے فرمایا شیخ ولی اپنے کو دیگر تمام چیزوں سے پُر کر&nb...

شیخ پیارا چشتی قدس سرہ

آپ  حضرت شیخ اسلیم چشتی کے خلیفہ تھے اور  اپنے وقت کے عظیم مشائخ میں شمار ہوتے تھے کہتے ہیں کہ شہزادہ سلیم جہانگیر کو اُس  کے والد جلال الدین اکبر بادشاہ اپنے ساتھ لے کر حضرت خواجہ معین الدین اجمیری کے روضہ منورہ کی زیارت کو گئے اس سفر میں شیخ پیارا کو ساتھ لے لیا گیا تاکہ وہ شہزادہ جہانگیر کی نگرانی کر سکیں اتفاق ایسا ہوا کہ اجمیر میں پہنچ کر شہزادہ بیمار ہوگیا اس وجہ سے اکبر بادشاہ بڑا ہی پریشان ہوا۔ اکبر نے شیخ پیارا کو کہا کہ آ...

مولوی غلام مصطفےٰ چشتی وزیر آبادی قدس سرہ

  آپ سلسلہ چشتیہ صابریہ کے مشائخ میں سے تھے بڑے صاحب دل اور صاحب باطن بزرگ تھے آپ شیخ اللہ دتا کے مرید تھے وہ شیخ کریم الدین کے وہ شیخ محمد غوث کے وہ شیخ قادر بخش کے وہ حامد شاہ کے اور محمد صدیق لاہوری قدس سرہم کے مرید تھے۔ آپ ۱۲۶۷ھ میں فوت ہوئے بہادر شاہ لاہوری نے آپ کی تاریخ وفات لفظ خدا پرست (۱۲۶۷ھ) نکال کی ہے آپ کے خلفاء میں سے سیّد چراغ شاہ سبزواری جو آپ کے خالہ زاد بھائی بھی تھے بڑے معروف ہوئے اور وہی آپ کے سجادہ نشین بنے۔ چو از دنیا ب...

حافظ موسیٰ چشتی مانک پوری قدس سرہ

  آپ اعظم روپڑی کے خلیفہ تھے ابتدائی زندگی میں قلعی گری کیا کرتے تھے۔ دوبیویاں تھیں جب اللہ سے لگن لگی تو دونوں کو طلاق دے دی ایک عرصہ تک ریاضت اور مجاہدہ میں مشغول رہے اور آپ اس عرصہ بہلول پور روپڑ میں قیام پذیر رہے زندگی کے آخری حصہ میں روپڑ سے چل کر مانک پور رہنے لگے یہاں بے پناہ مخلوق آپ کے دروازے پر آنے لگی حالت جذب و مستی یہاں تک پہنچی کہ جو شخص بھی آپ کے دروازے پر آتا جذب و مستی کا حصہ پاتا تھا۔ آپ اس میں جس پر نگاہ ڈالتے اسے اپنا منظ...

شیخ خیر الدین المعروف بہ خیر شاہ چشتی لاہوری قدس سرہ

  آپ لاہور کے عظیم خلفائے چشتیہ میں سے ہیں شیخ سلیم چشتی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے۔ سماع اور وجد میں بے مثال تھے۔ آپ کا لنگر عام و خاص کے لیے کھلا تھا آپ انیس ذوالحجہ ۱۲۲۸ھ کو فوت ہوئے آپ کا مزار لاہور میں ہے۔...

سیّد اعظم چشتی روپڑی قدس سرہ

  آپ سلسلہ میران بھیکھہ کے خلیفہ اعظم تھے آپ جسے دیکھتے محبت خداوندی کا خوگر بنا دیتے تھے ایک رات سید اعظم رحمۃ اللہ علیہ اپنی گھوڑی پر سوار اپنے گاؤں سے دوسرے گاؤں میں جا رہے تھے راستہ میں راہزنوں نے آگھیرا۔ آپ کی گھوڑی کا مطالبہ کیا آپ نے بڑے حوصلے سے سمجھایا کہ جس گھوڑی پر میں سوار ہوں نہایت کمزور اور لاغر ہے اس کی کوئی قیمت نہیں ہاں میرے گھر ایک گھوڑی ہے وہ میں دے سکتا ہوں اگر آپ لوگ تھوڑا سا وقت یہاں ٹھہریں تو میں ابھی لا کر دے دیتا ہوں...

شیخ محمد سعید چشتی قدس سرہ

  آپ سید علیم اللہ جالندھری قدس سرہ کے مرید خاص اور  خلیفہ اکمل تھے دوآبہ جالندھر میں قصبہ راؤں میں رہتے تھے ظاہری اور باطنی علوم میں یگانۂ روزگار تھے۔ ساری زندگی تعلیم و تربیت میں گزار دی۔ آپ ۱۹؍ ذوالحجہ ۱۲۲۰ھ میں فوت ہوئے آپ کی تاریخ وفات ہے۔ بُد محمد سعید شیخ زمان ۱۲۲۰ھ...

شیخ محمد سعید چشتی لاہوری شرقپوری قدس سرہ

  آپ جامع کرامات تھے لاہور سے بیس میل کے فاصلہ پر قصبہ شرقیور میں رہتے تھے چونکہ آپ خواجہ تھے ابتدائی زندگی میں عام نو مسلم افراد کی طرح تجارت کرتے تھے۔ غلہ سبزی لے کر فروخت کرتے تھے بعض اوقات گندم اور چنے خرید کر مختلف علاقوں میں فروخت کرتے تھے۔ بعض اوقات شرقپور سے غلہ لے کر بیلوں پر لاد کر لاہور لاتے تھے اور اسی کاروبار میں گزر اوقات کرتے تھے ایک بار دوسرے بیوپاریوں کے ساتھ شرقپور سے لاہور آرہے تھے۔ نیاز بیگ کے قدیمی مدرسہ گنبد والا کے نزد...

سیّد علی شاہ چشتی قدس سرہ

  آپ سید علیم اللہ جالندھری کے خلیفہ تھے حضرت پیر روشن ضمیر کی وفات کے بعد سجادہ نشین ہوئے اور بے پناہ مخلوق کو راۂ ہدایت سکھائی۔ آپ ۱۲۱۳ھ میں فوت ہوئے مزار پُر انوار جالندھر میں ہے میاں غلام رسول ساکن ٹانڈہ نے آپ کا سال وصال رضی اللہ عنہ (۱۲۱۳ھ) سے لیا ہے۔...

شاہ بہلول برکی چشتی صابری قدس سرہ

  آپ حضرت شاہ بھیکھہ چشتی کے خادم تھے افغان قوم سے تعلق رکھتے تھے اور جالندھر میں رہائش تھی آپ نے ظاہری علوم سید عبدالرشید سید کبیر اور سیّد عتیق اللہ جالندھری رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کیے آپ کا لباس قلندر رانہ تھا۔ حضرت شاہ بھیکھہ کی وفات کے بعد آپ لاہور آگئے۔ اور شیخ شاہ بلاق قد وری لاہوری رحمۃ اللہ علیہ سے فیض کامل حاصل کیا آپ نے اپنی عمر میں نوے جلدیں تصنیف کیں ان میں فوائد آثار شرح دیوان خواجہ حافظ بڑی مشہور ہوئیں۔ آپ کا اپنا بھی ایک دیوا...