ضیائے مشائخِ چشتیہ  

مفتی غلام قادر کشمیری

مفتی غلام قادر کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب:اسم گرامی: مولانا مفتی غلام قادر بن مولانا نور ولی علیہمالرحمہ۔ آپ کا تعلق متوسط زمیندار اور علمی گھرانے سے تھا۔ مقامِ ولادت:  کشمیر جنت نظیر کی تحصیل حویلی ضلع پونچھ کے گمنام قصبے شاہ پور میں تولد ہوئے ۔ تحصیلِ علم: حسبِ دستور ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار مولانا نور ولی اور اپنے بڑے بھائی مولانا فقیر محمد سے حاصل کی اور بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے دارلعلوم نعمانیہ لاہور،دارالعلوم ...

حضرت شیخ نجیب الدین متوکل

  آپ حضرت شیخ فریدالحق والدین قدس سرہ کے حقیقی بھائی اور خلیفہ اعظم تھے۔ ظاہر و باطن میں بلند رتبہ رکھتے تھے۔ نہایت متوکل انسان تھے۔ ستر سال تک دہلی میں رہے مگر اس عرصہ میں کبھی کسی دنیا دار کے گھر نہیں گئے، اگرچہ آپ کے پاس نقد اور جنس سے کوئی چیز بھی نہیں تھی، مگر آپ کو یاد خدا میں اتنی مشغولیت رہتی کہ بسا اوقات یہ معلوم نہ ہوتا کہ آج کون سی تاریخ یا کون سا دن ہے، آپ کے نزدیک اپنے بیگانے غریب و امیر ایک ہی جیسے تھے، ایک دن لوگوں نے آپ سے پو...

حضرت مولانا ابو النور محمد صدیق چشتی بصیر پوری

حضرت مولانا ابو النور محمد صدیق چشتی بصیر پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ           حضرت مولانا ابو النور محد صدیق چشتی ابن مولانا ابو الصدیق احمد دین (قدس سرہما) پاک سیرت اور صوفی مشرب عالم تے۔آپ کے آباء واجداد ضلع فیروز پور (بھارت) کے رہنے والے تھے سکول کے عہد میں منتقل ہو کر یہ بزرگ ضلع ساہیوال میں آباد ہو گئے۔ اس خاندان نے علوم دینیہ کی اشاعت میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔آپ کے جد اعلیٰ حضرت  مولا...

حضرت شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلی

  حضرت سلطان المشائخ کی کرامات میں سے سب سےبڑی کرامت حضرت شیخ نصیر الدین یحیی اودھی چراغ دہلی قدس سرہٗ ہیں۔ صاحب مراۃ الاسرار لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ نصیر الدین محمود قدس سرہٗ کا شمار اکابر اولیاء  ہند میں ہوتا ہے۔ آپکی شان بہت بلند، علم بے  پایاں اور احوال (پوشیدہ) کے مالک تھے اور ابتدائے سلوک سےلیکر انتہا تک مسلسل ریاضت و مجاہدات میں مشغول رہے۔ تسلیم ورضا  میں آپ کا ثانی نہیں تھا۔ آپ حضرت سلطان المشائخ کے بزرگ ترین خلیفہ ہیں ا...

شیخ الاسلام حضرت خواجہ سید نصیر الدین محمود چراغ دہلوی

شیخ الاسلام حضرت خواجہ  سید نصیر الدین محمود چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسم گرامی: سید نصیرالد ین محمود۔لقب: چراغ دہلی۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:   حضرت خواجہ سیدنصیر الدین چراغ دہلی بن سید یحیٰ بن سید عبداللطیف یزدی۔علیہم الرحمہ۔آپ کاخاندانی تعلق حسنی ساداتِ کرام سے ہے۔آپ کےجد امجد  خراسان سے لاہورتشریف لائے،اور پھر  لاہور سےہجرت کرکےاودھ مستقل سکونت اختیار کرلی۔(خزینۃ الاصفیاء:219) چراغ دہلی کی وجہ تسمیہ:لقب &rsquo...

حضرت مولانا حافظ موسی چشتی مانک پوری

حضرت مولانا حافظ موسیٰ چشتی مانکپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ اعظم روپڑی کے خلیفہ تھے ابتدائی زندگی میں قلعی گری کیا کرتے تھے۔ دوبیویاں تھیں جب اللہ سے لگن لگی تو دونوں کو طلاق دے دی ایک عرصہ تک ریاضت اور مجاہدہ میں مشغول رہے اور آپ اس عرصہ بہلول پور روپڑ میں قیام پذیر رہے زندگی کے آخری حصہ میں روپڑ سے چل کر مانک پور رہنے لگے یہاں بے پناہ مخلوق آپ کے دروازے پر آنے لگی حالت جذب و مستی یہاں تک پہنچی کہ جو شخص بھی آپ کے دروازے پر آتا جذب و مستی کا ح...

شیخ محمد داؤد بن محمد صادق گنگوہی قدس سرہ

آپ بڑے با ہمت اور قوی الحال بزرگ تھے کمالات ولایت بچپن سے ہی ظاہر اور ہویدا تھے اقتباس الانوار کے مولّف نے آپ کی بڑی کرامات لکھی ہیں اور بڑے مفصل حالات قلمبند کیے ہیں ہم اسی کتاب سے چند سطریں درج کررہے ہیں۔ حضرت شیخ جناب سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے سالانہ عرس پر ایک پُر وقار مجلس ترتیب دیا کرتے تھے اس میں غربا اور مساکین کو بڑا عمدہ کھانا مہیا کرتے تھے ایک بار عرس قریب آگیا مگر آپ کے پاس کچھ بھی نہیں تھا اپنے خلیفہ شیخ سوندہا کو فرمایا کہ عر...

شیخ عزیز اللہ متوکل قدس سرہ

آپ شیخ باجن کے پیر ہیں جو حضرت شیخ علی متقی قدس  سرہ کے پیر و مرشد تھے بڑے زاہد اور متقی تھے۔ رات ہوتی گھر میں جو کچھ ہوتا ہمسایوں کو دے دیتے تھے حتٰی کہ گھر میں پانی بھی اتنا ہی رکھتے جو نماز تہجد کے وضو کے کام آسکتا تھا امراء اور دنیا داروں کو اپنی مجلس میں آنے کی اجازت نہ دیتے تھے ایک دن وہاں کے ایک امیر آدمی نے آپ کے صاحبزادوں سے درخواست کی کہ حضرت کی زیارت  کی اجازت لے دیں آپ نے بچوں کے اصرار پر اجازت تو لے دی مگر  فرمایا وہ ل...

حضرت شیخ حاجی رمضان چشتی لاہوری

حضرت شیخ حاجی رمضان چشتی لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ خواجہ سلیمان تونسوی قدس سرہ کے مرید  ہیں بڑے زاہد ،عابد، صائم الدھر، اور قائم اللیل، ہیں۔ مخلوق سے دور اور اللہ کے قریب ہیں۔ ہمیشہ خانہ خدا میں قیام ہے اور عبادت میں مشغول ہیں۔ مجالس سماع میں پوری ذمہ داری سے شریک ہوتے ہیں اور وجد و اضطراب میں رہتے ہیں آپ حج بیت اللہ پر بھی گئے تھے خلق خدا سے نیک خلقی اور محبت سے پیش آئے ہیں جو ضرورت در پیش ہو اللہ سے دُعا کرتے ہیں جو قبول ہوجاتی ہے غر...